ہائبرڈ پلس

09:20 AM, 26 Nov, 2025

ن لیگ نے ضمنی انتخابات میں کلین سویپ کر لیا، ہری پور کی نشست بھی جیت لی، اب آگے کیا ہو گا؟ عام آدمی کی مشکلات میں کمی آئے گی یا ہر گزرتا دن مسائل میں اضافے کی خبر سنائے گا، پاکستان کو جو مرض لاحق ہے اس کی تشخص آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں بھی ہو چکی لیکن تدارک کا دور دور تک نام و نشان نہیں، جو منصوبہ تھا، وہ آج بھی ہے اور آگے بڑھ رہا ہے، 27 ویں ترمیم سے سرکش عدلیہ کی روح قبض کر لی گئی، اس کو ہرگز عدلیہ کی آزادی کی لڑائی نہ سمجھا جائے، خود کو بے بس پا کر سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے جج ہوں، یا اسلام آباد سمیت دیگر ہائی کورٹوں کے نام نہاد انقلابی جج، کوئی بھی آئین اور قانون کی بالا دستی اور عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے مرا نہیں جا رہا، یہ سب وہ کردار ہیں جو آزمائے جا چکے ہیں، خود بھی کسی ہاتھوں استعمال ہوتے رہے، اب جو جوڑ توڑ چل رہا ہے یہ محض رولنگ ایلیٹ کی آپسی آپا دھاپی ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ عمران خان کے دور کو درست طور پر ہائبرڈ دور کہا جاتا ہے تو موجودہ دور ہائبرڈ پلس ہے، وسائل اور اختیارات پر قابض اشرافیہ کا پھن مزید پھیل گیا، چینی سکینڈل کو ہی دیکھ لیں سب کے سامنے کھلے عام لوٹ مار کی گئی، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، پی ٹی آئی تو تشکیل نو تک زیر عتاب رہے گی ہی لیکن کسی اور پارٹی کی باری بھی آ سکتی ہے، پیپلز پارٹی کو این ایف سی ایوارڈ پر بلند و بانگ دعوے کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہئے، ویسے یہ ممکن نہیں صدر آصف زرداری جیسے زیرک سیاستدان نے تیاری نہ کی ہو، سب کچھ اسی طرح سے ہو گا جس طرح سے نظر آ رہا ہے، پیپلز پارٹی کو نظام کا حصہ رہنا ہے اور لازمی رہنا ہے اس لیے فیس سیونگ کا بندوبست کیا جا رہا ہو گا، ن لیگ کے وزیر اعظم جتنے بھی متحرک ہوں، وزیر اعلیٰ جتنا بھی کام کریں، عوام کو ان کی کارکردگی سے زیادہ اپنے روزگار، تحفظ اور مسائل کی فکر ہے، سیاست اس موڑ پر آ چکی کہ جمہوریت کا نام سنتے ہی لگتا ہے جیسے طنز کیا جا رہا ہے، بیورو کریسی کے بارے میں روز اول سے کہا جاتا ہے کہ یہ دھوکے باز ہوتی ہے، کرپٹ تو ہے ہی، پرتگال گروپ محض ایک ٹریلر ہے، افسروں کی لمبی چوڑی جائیدادوں کے بارے میں ملک کے اندر ہی نہیں بیرون ملک بھی سرگوشیاں ہوتی رہتی ہیں، ایسے ماحول میں آواز اٹھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، ایک طرف سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کا طوفان آیا ہوا ہے، دوسری جانب اسی پولیس سے ٹریفک کا نظام کنٹرول نہیں ہو رہا، جو حکومت ایک سرکاری سکول ڈھنگ سے نہیں چلا سکتی وہ دینی مدارس کو ٹیک اوور کر کے کو نسا تیر مار لے گی، رجسٹریشن ضروری ہے، منبر کا غلط استعمال روکنا بھی لازم ہے، لیکن کیا ضمانت ہے کہ سب سٹک ہولڈر اس متفق ہیں، پیپلز پارٹی کی ایک اہم شخصیت کو یقین ہے ٹی ایل پی کے خلاف ہونے والی کارروائی ن لیگ کو مشکلات میں ڈالے گی، سی سی ڈی کے مقابلے بھی کسی مرحلے پر خود ایک کیس بن سکتے ہیں، انڈیا کے ساتھ افغانستان سے بھی خطرہ ہے، وفاقی وزیر خزانہ کہتے ہیں مسلح افواج کو سپورٹ کرنے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی نا گزیر ہے۔ کونسے سرکاری اخراجات جو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں، پنشن اور واجبات کی صورت میں ادا کرنا ہوتے ہیں یا اربوں کے وہ گھپلے جو حکومتی پالیسوں کے نام پر اِدھر اُدھر کر لیے جاتے ہیں، بیرونی قرضے کون کھا رہا ہے، سرمایہ کاری کیوں نہیں ہو رہی؟ حکومت کی نظریں عام آدمی کی جیب پر ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ نچوڑ کر اور پیسے کیسے نکلوائے، کچھ اور نہیں ملتا تو پٹرول، بجلی مہنگی کر دو، اپنے خون پسینے کی کمائی سے سولر پینل لگوا کر بجلی کے بل جیسے گمبھیر مسئلے سے نمٹنے والوں کو کسی نئے ٹیکس کے ذریعے پھر سے گھسیٹ کر رگڑا لگانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، معاشی بہتری کے بارے میں حکمرانوں کے تکنیکی و غیر تکنیکی نوعیت کے دعوؤں کے باوجود بہتری کے کوئی آثار نہیں، افغان مہاجرین کی واپسی اور بارڈر کی بندش اچھا فیصلہ ہے لیکن لڑائی کے خدشات ابھی تک نہیں ٹلے، ترکیہ کیوں سرگرم ہے، ایران کیوں رابطے کر رہا ہے، قطر مذاکرات کی بات کرتا ہے اور تو اور صدر ٹرمپ بھی کہہ اٹھے فارغ ہو کر پاک افغان جھگڑا طے کرا دیں گے، یقینا ہمیں دفاعی حوالے سے بہت زیادہ الرٹ رہنے کی ضرورت ہے، لیکن عام آدمی کے مسائل کا کیا ہو گا؟ کیا نئے صوبوں سے مسئلہ حل ہو گا، یہ بھی ممکن ہے معاملہ اور بگڑ جائے، پچھلے دنوں لاہور ہائی کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے نئے تھانے بنانے سے مقدمات کم نہیں ہوں گے، اصل خرابی نظام میں ہے زیادہ صوبے اسی نظام کے تحت چلنے ہیں تو پھر مسائل کون حل کرے گا۔ ایسے ماحول میں 27 ویں کے بعد 28 ویں ترمیم آئی تو موجودہ سسٹم ہائبرڈ پلس سے بڑھ کر ہائبرڈ پلس پلس ہو جائے گا۔

مزیدخبریں