ماہِ نومبراپنے اختتام کی جانب گامزن ہے ۔یہ حکیم الامت اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے یوم ولادت کا مہینہ ہے اور اسی مناسبت سے مہینہ بھر تقریبات کا انعقاد اور علامہ محمد اقبالؒ کی حیات وخدمات کے مختلف گوشوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری اور افکار نوجوانوں میں بیداری، خود اعتمادی اور مقصدیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں تاکہ وہ قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکیں ۔ وہ ایک فلسفی‘ دیدہ ور شاعر‘ مدبر‘ مصلح اور ایسے انسان ہیں جن کی شخصیت کا ہر پہلو ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا قیام ان کے وژن سے ہی ممکن ہو سکا۔ علامہ اقبال نے جنوبی ایشیا میں علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین بنایا اور اس مقصد کے حصول کیلئے اردو اور انگریزی نثر کے ساتھ ساتھ اپنی اردو اور فارسی شاعری میں جس طرح بے غرض جدوجہد کی‘ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی سیاسی‘ روحانی‘ مذہبی‘ فکری اور تہذیبی تاریخ میں علامہ محمد اقبالؒ جدید فکر کے ایک نمایاں ترین ترجمان کی حیثیت سے روشن مینار کی صورت ایستادہ ہیں‘ انہیں حکیم الامت ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا۔ فی الواقع ان کی تمام شاعری اور خطبات اس حقیقت کی سند ہیں کہ جدید دور میں ملی مسائل کا جتنا شعور و ادراک علامہ محمد اقبالؒ کو تھا اس کی نظیر کہیں اور نظر نہیں آئے گی۔
علامہ محمد اقبالؒ نے مسلم نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ زندگی ایک جہد مسلسل اور عمل پیہم کا نام ہے۔ ایک ایسی زندگی جس میں رُک کے دم لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں جگہ جگہ نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے۔ یہ بالکل فطری بات ہے کیونکہ نوجوان طبقہ ہی ہے جو کسی قوم کا مقدر بدلنے کیلئے شروع کی جانے والی تحریکوں میں ہراول دستے کا کام کرتا ہے۔ اس ضمن میں تحریک پاکستان کی روشن مثال ہمارے سامنے ہے۔ حکیم الامت نے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام کو مؤثر انداز میں آگے پہنچانے کیلئے شاہین کا استعارہ استعمال کیا ہے کیونکہ اس کی نگاہ بہت تیز ہوتی ہے‘ وہ اپنا شکار خود کرتا ہے‘ بیٹھنے کیلئے بلند جگہ کا انتخاب کرتا ہے اور آشیانہ نہیں بناتا۔ اس حوالے سے دیکھیں تو ہمارے آج کے نوجوان کے لیے کلام اقبال کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
فکر اقبالؒ کے تناظر میں ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس پیغام سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے جو شاعر مشرق نے اسے دیا تھا اور جس کے لیے حضرت اقبال بارگاہ خداوندی میں ہمیشہ دعاگو رہا کرتے تھے ؎
جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر دے
نوجوانوں کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رکھنے کیلئے انہیں عظمتِ انسانی اور شرفِ انسانی سے آگاہ کرنا ہی علامہ اقبالؒ کا نورِ بصیرت ہے جسے وہ بچوں اور نوجوانوں تک پہنچانے کیلئے ہمہ وقت بے تاب رہتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نوجوان نسل کو کہیں رہ نوردِ شوق قرار دیتے اور منزل کو قبول نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور کہیں اُس گردوں کو پیش نظر رکھنے کی تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کا وہ اک ٹوٹا ہوا تارا ہے۔ یہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ اپنے افکار کو عام کرنے اور انہیں نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے علامہ اقبالؒ مکتب کے کردار پر بہت زور دیتے ہیں۔ یہ مدرسہ یا مکتب کی تعلیم ہی ہے جو ایک بچے کو شاہین کے بال و پر عطا کر سکتی ہے۔
پاکستان کی آبادی میں نوجوان 70 فیصد ہیں جو پاکستان کا مستقبل ہیں۔ نوجوان پریشان ہیں کہ وہ کس سیاسی اور مذہبی لیڈر کی بات سنیں کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی مثالی رول ماڈل بن کر سامنے نہیں آ سکاجس کی شخصیت کرشماتی ہو اور وہ نوجوان نسل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔موجودہ دور میں نوجوان نسل مختلف قسم کے علمی، فکری اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے اور اکثر مایوسی کا شکار نظر آتی ہے۔ ایسے حالات میں، اگر نوجوان نسل علامہ اقبالؒ کے فلسفے اور فکر سے رہنمائی حاصل کرے تو وہ نہ صرف اپنے ذاتی مسائل حل کر سکتی ہے بلکہ بحیثیت قوم دنیا میں ایک عمدہ مثال بن کر ابھر سکتی ہے۔ اقبال کی فکر کو اپنانا قوم کی تعمیر اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کو خودی کا پیغام دیا اور فرمایا کہ نوجوان خود شناسی سے خدا شناسی کا سفر طے کریں، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور بڑے قومی مقاصد کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیں ۔نوجوان اپنے سماج سے ہر قسم کی برائی کو ختم کرکے ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے
فکر اقبالؒ کو عام کرنے بالخصوص اسے نئی نسل تک پہنچانے کی جتنی ضرورت آج ہے‘ اتنی پہلے کبھی نہ تھی کیونکہ ہماری نسل نو مغرب کی نقالی میں بہت آگے جا چکی ہے جبکہ علامہ محمد اقبالؒ مغرب کی روشن خیالی اور نام نہاد ترقی کے مداح نہ تھے بلکہ تہذیب حاضر کی چمک کے زبردست نقاد تھے۔ حضرت علامہ ہمیشہ باور کراتے رہے کہ اپنی ملت پر اقوام مغرب سے قیاس مت کر کیونکہ قوم رسولؐ ہاشمی اپنی ترکیب میں بہت ہی خاص مقام پر فائز ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیماتِ حکیم الامت کو من و عن اپنی نئی نسل تک پہنچایا جائے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ نصاب سازی کے وقت اقبالیات کو بہت زیادہ اہمیت دی جائے۔ اس حوالے سے ہمارے اساتذہ کو بھی اپنی ذمہ داریاں کماحقہ پوری کرنی چاہئیں کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو کسی بھی قوم کی کردار سازی کا اہم فریضہ انجام دیتا ہے۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ فکر اقبال پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرتکز کریں‘ اس پر کامل دسترس حاصل کریں اور پھر انتہائی ماہرانہ انداز میں اسے طلبا و طالبات کے ذہنوں تک منتقل کریں۔ یہی نہیں بلکہ انہیں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین بھی کریں تاکہ بہتر نتائج کا حصول ممکن ہو سکے۔
فکرِ اقبالؒ اورآج کا نوجوان
09:19 AM, 26 Nov, 2025