آج سے تیس چالیس برس پہلے جب کبھی فضا میں دھند جیسی گرد پھیلی نظر اتی تو بڑے بوڑھے اسے "گہر" کا نام دیا کرتے تھے۔ یہ گہر فارسی زبان کا لفظ نہیں جس کے معنی موتی کے ہیں بلکہ یہ خالص پنجابی لفظ ہے جو گہرا سے مشتق ہے۔ آج کل گہر کا لفظ تو معدوم ہو گیا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا لفظ "سموگ" ہماری بول چال کا حصہ بن گیا ہے۔ شاید اس لیے کہ پنجابی الفاظ کو اردو میں شامل کرنے کی بجائے انگریزی لفظوں کو اردو کا حصہ بنانا آج کل زیادہ مستحسن عمل سمجھا جاتا ہے۔ بات صرف انگریزی لفظ اپنانے تک رہتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ہم نے تو سموگ کو سرے سے ہی ایک نئی بلا کے طور پر متعارف کرا دیا جیسے کہ اس سے پہلے اس کا کبھی کہیں وجود ہی نہ رہا ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصے سے دھان کی کٹائی کے دنوں میں یہ گہر یا سموگ پیدا ہوتی چلی آئی ہے کیونکہ فصل کو کاٹنے کے بعد کاشتکار کھیتوں میں بچ جانے والی باقیات کو آگ لگا دیتے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والا دھواں کئی کئی دن تک فضا میں ٹھہرا رہتا ہے۔ سموگ کا لفظ آنے سے البتہ اتنا اضافہ ضرور ہوا ہے کہ صنعتوں کے دھوئیں، ٹریفک کی آلودگی اور تعمیراتی گردوغبار کو بھی اس گہر کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ ستم یہ کہ ہم نے انگریزی کا لفظ تو بہت شوق سے اپنا لیا لیکن اس کا تلفظ دیسی رکھنے ہی کو ترجیح دی۔
انگریزی قاعدے کے مطابق حرف "او" اس وقت تک الف کی آواز دیتا ہے جب تک کہ اس کے بعد والے حرف کے بعد "ای" نہ آئے۔ مثال کے طور پر "این او ٹی" کو ناٹ بولا جاتا ہے نوٹ نہیں اور اگر "این او ٹی ای" ہو تو پھر اسے نوٹ بولا جائے گا یعنی الف واؤ میں بدل جائے گا۔
لفظ سماگ کے ہجے "ایس ایم او جی" ہیں۔ آپ اس لفظ کے ہم قافیہ تمام الفاظ کا تلفظ دیکھ لیں، وہ الف ہی کے ساتھ بولا جاتا ہے جیسے ڈاگ، فاگ، فراگ، جاگ جسے جاگنگ بھی کہا جاتا ہے، لاگ یہ لفظ آج کل وی لاگ کے طور پر بہت عام ہے۔
او واؤ کی آواز اسی صورت دے گا جب اس کے بعد والے حرف کے بعد ای آئے یا او کے فوراً بعد اے آ جائے جیسے "سی او اے ٹی" کوٹ۔ مگر اب کیا کیا جائے کہ لفظ سماگ کا غلط تلفظ سموگ یوں رائج ہو چکا ہے کہ کبھی کسی کو اس کی درستی کا خیال تک نہیں آیا۔ درستی کا خیال آنا تو درکنار الٹا کچھ مہربانوں نے تو اس غلط تلفظ سے پہلے الف لگانے کا بھی پورا پورا اہتمام کیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک درست تلفظ جائے بھاڑ میں، سین سے پہلے الف ہر صورت آنا چاہیے۔ گویا سماگ کو سموگ کہا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر اسموگ نہ کہا تو بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران جب سے سموگ کا زیادہ شوروغل شروع ہوا ہے کچھ لوگوں نے اس کے اردو متبادل "گردھند" اور "دھواند" بھی متعارف کرانے کی کوشش کی لیکن وہ عوامی قبولیت کے درجے پر نہیں پہنچ سکے یعنی ہمارے لیے اب اپنے لفظ قابل قبول نہیں رہے چاہے وہ پنجابی کا گہر ہو یا اردو کا گردھند ہو۔ اس کے مقابلے میں ہمارے لیے سموگ کی تیسرے درجے کی بگڑی ہوئی شکل اسموگ قابل قبول ہے۔
خیر کوئی اسے سموگ کہے یا اسموگ یا پھر سماگ۔ یا پھر گردھند یا دھواںد یا گہر ہی کہہ لے بات تو ایک ہی ہے۔ یہ آفت ہر سال اس موسم میں سر پر آکھڑی ہوتی ہے اور لوگوں کا سانس لینا محال کر دیتی ہے۔ ہم ہر بار اس کا ذمہ دار بھارت کو قرار دے دیتے ہیں کہ وہاں دھان کی باقیات جلائی جاتی ہیں اس لیے ہماری فضا آلودہ ہو جاتی ہے لیکن کبھی اپنے دیہی علاقوں کا رخ بھی کر کے دیکھیں، آپ کو جا بجا کہیں دھان کے کھیتوں سے شعلے اٹھتے نظر آئیں گے تو کہیں زمین پر دور تک سیاہ رنگ کا قالین بچھا نظر آئے گا جو اس بات کی چغلی کھا رہا ہوگا کہ اس جگہ کچھ دیر پہلے آگ لگائی جا چکی ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارتی پنجاب سے اٹھنے والا دھواں بھی ہماری فضاؤں کا رخ کرتا ہوگا لیکن جو "بھارتی" ہمارے یہاں موجود ہیں ان کا بھی کوئی علاج ہے کہ نہیں؟ حکومتیں اپنے تئیں سموگ سے نپٹنے کے اقدامات تو کرتی نظر آتی ہیں لیکن ایسے تمام اقدامات اس وقت بے نتیجہ ہو جاتے ہیں جب دھان کے کاشتکار سخت حکومتی انتباہات کے باوجود اپنے کھیتوں میں آگ لگانے سے باز نہیں آتے اور انہیں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔
سموگ، اسموگ یا سماگ
09:18 AM, 26 Nov, 2025