نیویارک:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں چینی ہم منصب وانگ ژی کی دعوت پر منعقدہ اہم عالمی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ معطلی کو تسلیم نہیں کرتا اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا داعی رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ مسئلہ کشمیر گزشتہ 8 دہائیوں سے حل طلب ہے اور جب تک عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری یقینی نہیں بنائی جاتی، خطے میں مستقل امن قائم نہیں ہو سکتا۔
مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے دنیا کو شدید معاشی چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ نہتے فلسطینیوں کے حقوق کی بات کی ہے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کا ساتھ دینے پر دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے عالمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں منصفانہ اور جمہوری اصلاحات اب وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔ چند مخصوص ملکوں کو ویٹو یا مقتدر اختیارات کا فائدہ دینے کے بجائے تمام رکن ممالک کے مساوی کردار کو تسلیم کرنا ہوگا، تب ہی دنیا میں قوانین کا یکساں اطلاق ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی چارٹر کے اصولوں کے تحت تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔