اسلام آباد :وزیرِ اعظم پاکستان کے دورۂ چین کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے معاشی، سائنسی اور تجارتی تعلقات کو نئی تزویراتی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کو فعال کرتے ہوئے دونوں دوست ممالک نے پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعتی اور زرعی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
سائنسی محاذ پر ایک تاریخی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چین پاکستانی خلابازوں کو اپنے جدید خلائی مراکز میں اعلیٰ سطح کی ٹریننگ فراہم کرے گا۔ اس تربیتی پروگرام کے بعد مستقبل قریب میں کسی پاکستانی خلاباز کی چینی اسپیس اسٹیشن (Space Station) کے خلائی مشنز میں باضابطہ شمولیت کا قوی امکان ہے، جو دونوں ممالک کے سائنسی تعاون میں ایک انقلابی سنگِ میل ثابت ہوگا۔
مشترکہ اعلامیے کی رو سے، پاکستان میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ملک بھر میں خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی پارکس کے قیام پر کام تیز کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین پاکستان میں معدنیات کی دریافت اور جدید توانائی کے منصوبوں میں بھی بڑی سرمایہ کاری کرے گا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق، اس اعلامیے میں پاکستان کے زرعی بحران پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ چین اپنی جدید زرعی ٹیکنالوجی، کارپوریٹ فارمنگ کے طریقے اور بیجوں کی ترقی یافتہ اقسام پاکستان منتقل کرے گا، جس سے نہ صرف مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے لیے چین کی مائع مارکیٹ تک زرعی برآمدات کے نئے راستے کھلیں گے۔