کابل میں خواتین پر مظالم کا پردہ چاک: افغان طالبان کے خواتین دشمن اقدامات پر بی بی سی کی خصوصی رپورٹ جاری

12:42 PM, 26 May, 2026

کابل/لندن: افغانستان میں خواتین کے حقوق کی سنگین پامالیوں پر ایک بار پھر عالمی برادری تلملا اٹھی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' نے ایک خصوصی رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر عائد سخت ترین پابندیوں اور ان کے استحصال کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
 رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے افغان خواتین سے ان کی بنیادی آزادیاں اور انسانی حقوق یکسر چھین لیے ہیں۔ خواتین کو عوامی زندگی سے لاپتہ کر کے چار دیواری تک محدود کر دیا گیا ہے۔
طالبان کے سخت گیر قوانین کے تحت لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے ملازمت کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے، جس کے باعث افغان خواتین شدید معاشی اور سماجی تنہائی کا شکار ہو چکی ہیں۔
بی بی سی کی اس رپورٹ نے افغان عبوری حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جس میں وہ حقوق کے تحفظ کی بات کرتے تھے۔ عالمی برادری نے طالبان کے ان اقدامات کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آدھی آبادی کو مفلوج کر کے طالبان حکومت افغانستان کو اندھیروں کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کے باعث ملک کے لیے عالمی امداد اور سفارتی ساکھ کی بحالی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں