اسلام آباد : بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کی سفارت کاری کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ ترک نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کے دوران پاکستان نے دونوں فریقین کے مابین ایک معتبر اور غیر جانبدار ثالث کا کردار کامیابی سے ادا کیا ہے، جس کی عالمی سطح پر پذیرائی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر علاقائی ممالک کے برعکس پاکستان نے سستی تشہیر کے بجائے منظم اور خاموش بیک چینل ڈپلومیسی کا راستہ اپنایا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشکل ترین حالات میں بھی واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطوں کا پل برقرار رکھ کر خود کو ایک حقیقت پسند اور نتائج پر مبنی سفارتی شخصیت ثابت کیا ہے۔
پاکستان کسی مخصوص نظریاتی بلاک یا مستقل اتحاد کا حصہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ دونوں فریقین کے لیے یکساں قابلِ قبول ٹھہرا۔ پاکستان کی عسکری و انٹیلیجنس ساکھ، مضبوط جغرافیے اور امریکا، چین، خلیجی ممالک، ایران اور ترکیہ کے ساتھ متوازن روابط نے اسے یہ منفرد سفارتی قوت بخشی ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے بعد عسکری قیادت کی ساکھ مزید مستحکم ہوئی، جبکہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے ملک کی علاقائی اہمیت کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ مزید برآں، مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف نے پاکستان کو معاشی انضمام اور علاقائی روابط کا حقیقی ضامن بنا دیا ہے۔
ٹی آر ٹی کے مطابق، سفارت کاری کی اصل کامیابی تشہیر نہیں بلکہ نتائج ہوتے ہیں اور پاکستان نے یہ نتائج حاصل کر کے دکھائے ہیں۔ تاہم، عالمی سطح پر اس سفارتی اثر و رسوخ اور کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنے اندرونی معاشی چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔