امریکہ۔ ایران امن معاہدہ، نئے عالمی نظام کی ابتدائی جھلک

09:07 AM, 26 May, 2026

دنیا کی سفارتی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو دہائیوں تک عالمی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدہ بھی ایک ایسا ہی غیر معمولی واقعہ ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ناممکن دکھائی دینے والے مشن کو ممکن بنانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی اور تذویراتی کوششوں نے دنیا کو حیران کر دیا۔
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطہ شدید جنگی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف عسکری دباو¿ بڑھایا، فضائی حملے ہوئے، دھمکیوں کا تبادلہ ہوا اور پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ طاقت کے زور پر ایران کو جھکایا جا رہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایران نہ صرف دباو¿ کے باوجود کھڑا رہا بلکہ اس نے اپنے مو¿قف میں لچک پیدا کرتے ہوئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں پاکستان نے خاموش مگر مو¿ثر سفارت کاری کا آغاز کیا۔
پاکستان نے ایک ایسے ثالث کا کردار ادا کیا جس پر دونوں فریق اعتماد کرتے تھے۔ ایک طرف پاکستان کے امریکہ کے ساتھ طویل تعلقات ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذہبی، جغرافیائی اور تاریخی رشتے موجود ہیں۔ یہی توازن پاکستان کی اصل طاقت ثابت ہوا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماو¿ں سے مسلسل رابطے کیے، اسحاق ڈار نے سفارتی سطح پر اعتماد سازی کا عمل آگے بڑھایا جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سکیورٹی اور سٹریٹیجک پہلوو¿ں پر اہم کردار ادا کیا۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر آخرکار معاہدہ ہی ہونا تھا تو پھر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیوں کیے؟ اس سوال کا جواب عالمی طاقتوں کی نفسیات اور طاقت کے توازن میں پوشیدہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ شدید عسکری دباو¿ کے ذریعے ایران کو کمزور کر کے اپنی شرائط منوائی جا سکتی ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرانے کی خواہاں تھی۔ لیکن ایران نے مزاحمت اور سفارتی حکمتِ عملی دونوں کا استعمال کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ محض دباو¿ سے گھٹنے ٹیکنے والا ملک نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بعد میں طے پانے والا معاہدہ بڑی حد تک انہی نکات پر مبنی تھا جن پر ایران پہلے ہی آمادگی ظاہر کر چکا تھا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ جنگ اور حملے دراصل سیاسی اور نفسیاتی دباو¿ بڑھانے کی کوشش تھے، نہ کہ مسئلے کا حقیقی حل۔ امریکہ نے طاقت کے استعمال کے باوجود وہ نتائج حاصل نہیں کیے جن کی اسے توقع تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی حلقوں میں یہ رائے ابھر رہی ہے کہ امریکہ اس بحران میں ایک کمزور اور تھکی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔
امریکہ کی داخلی صورتحال بھی اس پالیسی کی ناکامی میں اہم عنصر بنی۔ طویل جنگوں، معاشی دباو¿ اور عالمی سطح پر کم ہوتی ساکھ نے واشنگٹن کی پوزیشن کو کمزور کیا۔ افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ پہلے ہی تنقید کی زد میں تھا اور ایران کے معاملے میں بھی اسے وہ فیصلہ کن برتری حاصل نہ ہو سکی جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ اس پورے بحران نے واضح کیا کہ اب دنیا یک قطبی نظام سے نکل کر ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں صرف عسکری طاقت کافی نہیں رہی۔
دوسری جانب اسرائیل کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑی سفارتی، عسکری اور سیاسی شکست ہے۔ بینجمن نیتن یاہو مسلسل ایران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن آخرکار مذاکرات اور معاہدے کی طرف ہی جانا پڑا۔ اسرائیل کی خواہش تھی کہ ایران مکمل طور پر دفاعی پوزیشن میں آ جائے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس ایران نے نہ صرف اپنی خودمختاری برقرار رکھی بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی اپنی اہمیت منوا لی۔
اس پورے عمل میں پاکستان کی کامیابی محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے کردار اور اثر و رسوخ کی علامت بھی ہے۔ ماضی میں پاکستان کو اکثر صرف سکیورٹی مسائل یا داخلی چیلنجز کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، لیکن اس معاہدے نے ثابت کیا کہ پاکستان پیچیدہ عالمی تنازعات کے حل میں بھی مو¿ثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا بھی ثبوت بنی۔
پاکستان نے نہ صرف جنگ کو وسیع ہونے سے روکا بلکہ خطے کو ایک ممکنہ تباہ کن بحران سے بھی بچایا۔ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، عالمی معیشت میں بحران، مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی اور مسلم دنیا میں مزید تقسیم پیدا ہو سکتی تھی۔ پاکستان نے ثالثی کے ذریعے نہ صرف امن کو موقع دیا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، جنگ میں نہیں۔
اس معاہدے کے بعد پاکستان کی عالمی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چین، روس، خلیجی ممالک اور مغربی دنیا سب نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا۔ اس سے پاکستان کو مستقبل میں بھی اہم بین الاقوامی معاملات میں کردار ادا کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں ۔
امریکہ۔ ایران امن معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس بحران نے ثابت کیا کہ طاقت کے استعمال سے زیادہ مو¿ثر راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں جو کردار ادا کیا، اس نے دنیا کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔ شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جسے بظاہر ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔
اگرچہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، لیکن یہ معاہدہ اس حقیقت کو ضرور اجاگر کرتا ہے کہ اب دنیا طاقت کے پرانے اصولوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری برتری کے باوجود ایران کو مکمل طور پر جھکایا نہ جا سکا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کے ذریعے ایک نئی سفارتی مثال قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ معاہدہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی، امریکہ و اسرائیل کی سفارتی ناکامی اور نئے عالمی نظام کی ابتدائی جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں