آخر کب تک؟

09:07 AM, 26 May, 2026

کوئٹہ کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بوجھل ہے، اور بلوچستان کی غیور مٹی معصوم شہریوں اور اپنے محافظوں کے پاکیزہ خون سے رنگین ہو چکی ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ بزدلانہ کارروائی نے نہ صرف کوئٹہ بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل غمزدہ ہے اور ہر ذہن میں صرف ایک ہی سوال تڑپ رہا ہے: ”آخر کب تک؟“ ہم آخر کب تک اپنے پیاروں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے؟ کب تک مائیں اپنے جگر گوشوں کی ناگہانی موت پر بین کرتی رہیں گی؟ اور کب تک مذمتی بیانات، تحقیقاتی کمیٹیوں کے اعلانات اور محض تسلیوں کے سہارے اس ناسور کو برداشت کیا جاتا رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ لفظی مذمتوں سے آگے بڑھ کر سدِباب کے لیے حتمی، ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
اس نازک اور افسوسناک صورتحال پر ملک گیر سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ہر محب وطن شہری اور امن پسند طبقہ اس اندوہناک واقعے پر سراپا احتجاج ہے۔ دشمن پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے، لیکن وہ اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کی ان بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور پوری قوم پاک فوج اور امن قائم کرنے والے اداروں کے ساتھ چٹان کی طرح مضبوط کھڑی ہے۔ حکومت سے اب عوام کا یہ پُرزور مطالبہ ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے کے ماسٹر مائنڈز کو فوری گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔
پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اس مٹی نے امن کی بقا کے لیے بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ ستر ہزار سے زائد سویلین اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی اور طویل جنگ لڑی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب ہو، رد الفساد ہو یا نیشنل ایکشن پلان، ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑا ہے۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اچانک تیزی آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب بھی پوری طرح مٹا نہیں ہے، بلکہ وہ سرحد پار بیٹھے اپنے آقاو¿ں کے اشاروں پر دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف ہمارے پاس سب سے جامع دستاویز ”نیشنل ایکشن پلان“ کی صورت میں موجود ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس پلان کے تمام نکات پر اس کی اصل روح کے مطابق دوبارہ سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کالعدم تنظیمیں کس طرح نئے ناموں سے دوبارہ متحرک ہو جاتی ہیں اور انہیں روکنے کے لیے ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کہاں تک کامیاب ہوئیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت نفرت انگیز تقاریر کا خاتمہ، انتہا پسندانہ لٹریچر پر پابندی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت (ٹیلر فنانسنگ) کا گھیرا تنگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جب تک ہم ان کی نظریاتی اور مالیاتی جڑوں پر وار نہیں کریں گے، یہ فکری و مادی گند صاف نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کے جغرافیائی اور سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو بلوچستان ہمیشہ سے بیرونی سازشوں کا خاص ہدف رہا ہے۔ سی پیک (CPEC) اور گوادر پورٹ جیسے عظیم معاشی منصوبوں کی وجہ سے عالمی طاقتیں اور علاقائی دشمن اس خطے میں استحکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ جب بھی ملک معاشی بحالی کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے لگتی ہے، تو دشمن امن کی شمع کو بجھانے کے لیے ایسے بزدلانہ حملے کر دیتا ہے۔ کوئٹہ دھماکا محض کسی ایک عمارت یا چند افراد پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی معیشت، اس کے امن، اور اس کے روشن مستقبل پر حملہ ہے۔ دشمن کا اصل مقصد عوام میں مایوسی پھیلانا اور ریاستی اداروں پر ان کا اعتماد کمزور کرنا ہے۔
اس بیرونی خطرے کو روکنے کے لیے پاک۔ افغان اور پاک ۔ایران سرحدوں پر سکیورٹی بندوبست اور بارڈر مینجمنٹ کو مزید سخت کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ پاکستان نے اربوں روپے کی لاگت سے سرحدوں پر باڑ لگانے کا تاریخی کام مکمل کیا، لیکن پڑوسی ممالک کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی سطح پر سخت اور دوٹوک مو¿قف اپنانا ہو گا۔ جب تک سرحد پار موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ٹریننگ کیمپس ختم نہیں کیے جاتے، تب تک ہمارے سرحدی شہروں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے۔ دشمن ان پناہ گاہوں سے ہمارے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ لیکن دشمن یہ بات بھول جاتا ہے کہ یہ وہ قوم ہے جو سانحہ آرمی پبلک سکول (APS) جیسے بڑے صدمات سے گزر کر بھی ہاری نہیں، بلکہ مزید متحد ہو کر ابھری ہے۔ قوم اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ جب تک عوام اور فوج کے درمیان یہ رشتہ اور یکجہتی قائم ہے، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ہماری فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیاں دن رات اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں اور شہروں کی حفاظت کر رہی ہیں۔ ان سرفروشوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کا پرچم سربلند ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جنگ کو اس کے منطقی انجام تک کیسے پہنچایا جائے؟ صرف فوجی آپریشنز کافی نہیں ہوتے، بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک ہمہ جہت اور کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا ہو گا تاکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی مدد کرنے والوں اور انہیں پناہ دینے والے عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ جب تک ان کے نیٹ ورکس کو اندرونی طور پر ملنے والی سپورٹ ختم نہیں ہو گی، یہ ناسور سر اٹھاتا رہے گا۔
دوسرا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ حکومت کو بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ پسماندگی، بے روزگاری اور تعلیم کی کمی وہ کمزوریاں ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر دشمن عناصر معصوم ذہنوں کو برین واش کرتے ہیں۔ اگر بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، وہاں ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل کیے جائیں اور نوجوانوں کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کیے جائیں، تو دشمن کو پروپیگنڈا کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
اس جنگ میں ریاست اور اداروں کے ساتھ ساتھ عام عوام کی ذمہ داری بھی سب سے بڑھ کر ہے۔ دہشت گرد ہمارے اردگرد کے ماحول، گلی محلوں اور بازاروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھپتے ہیں۔ عوام کو اپنے اردگرد موجود ہر مشکوک شخص، لاوارث سامان اور غیر معمولی سرگرمی پر گہری نظر رکھنا ہو گی۔ سکیورٹی اداروں کو بروقت معلومات فراہم کرنا ہر شہری کا قومی اور اخلاقی فرض ہے۔ جب کروڑوں عوام خود امن کے محافظ بن جائیں گے، تو کسی دہشت گرد کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ 

مزیدخبریں