تہران:وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی پروگرام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے مکالمہ اور سفارتی تعاون ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کو اپنا "دوسرا گھر" تصور کرتا ہے، اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات نہ صرف تاریخی اور ثقافتی ہیں بلکہ دینی ہم آہنگی پر بھی قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر سے ملاقات میں تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، انسدادِ دہشت گردی، اور سرحدی تحفظ جیسے اہم شعبوں پر تفصیل سے بات چیت ہوئی، اور دونوں ممالک نے باہمی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
بھارت سے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور ہر مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں ملکی دفاع سے غافل نہیں ہوگا۔
فلسطین کی صورتحال پر وزیراعظم نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 50 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی فلسطینی عوام کی حمایت میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ اسلامی ممالک کو اب صرف بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ ترقی کے لیے پاک-ایران قریبی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف حالیہ دنوں میں ترکیہ کا دو روزہ کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد تہران پہنچے، جہاں ایرانی قیادت نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ترکیہ کی جانب سے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران حمایت پر ترک قیادت اور عوام کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔