مرکزی جمعیت اہل حدیث کے انتخابات

09:21 AM, 26 May, 2025

مرکزی جمعیت اہل حدیث کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک علمی،دینی،غیر سیاسی مگر نظریاتی طور پر مضبوط جماعت کا تصور ابھرتا تھا۔۔۔۔یہ وہ جماعت تھی جو بانیان پاکستان کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے اس کارواں کا بھی حصہ رہی جس  نے برطانوی استعمار اور ہندو انتہا پسندی دونوں کے خلاف نہ صرف فکری مورچہ سنبھالا بلکہ عملی قربانیاں بھی دیں۔۔۔اس کے اسلاف  نے منبر و محراب کے وقار کو قائم رکھتے ہوئے کبھی اقتدار کی گلیوں میں چمچماتے محلوں کے خواب نہیں دیکھے۔۔۔ان کے لباس میں سادگی،بات میں وقار،علم میں گہرائی اور کردار میں صداقت ہوتی تھی مگر افسوس کہ وقت کی ستم ظریفی نے وہ کچھ کر دکھایا جس کا تصور بھی اس مکتب فکر کے متبعین کے لیے کربناک ہے۔ ۔۔۔پروفیسر ساجد میر مرحوم ،جن کی رحلت کے بعد یہ خلا پیدا ہوا،خود ایک علمی شخصیت تھے،اگرچہ ان کے بعض سیاسی فیصلوں پر تنقید ہوتی رہی،خصوصاً مسلم لیگ نواز سے ان کی وابستگی کو  لے کر بہت سے احباب کو تحفظات رہے تاہم ان کی دینی وابستگی،علمی قد و قامت اور اہل حدیث حلقے میں ان کی خدمات کو مکمل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ان کی موجودگی ایک توازن قائم رکھتی تھی،ایک ایسا توازن جو اب ڈھے گیا ہے۔۔۔ان کے بعد جس انداز سے جماعت کی قیادت کا معاملہ طے پایا،وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ باعث تشویش بھی۔۔کسی بھی دینی جماعت کے لیے قیادت کا انتخاب ایک روحانی عمل ہوتا ہے،یہ محض اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہے،ایک ذمہ داری ہے جو امت کی دینی،فکری،اخلاقی اور تنظیمی رہنمائی کا فریضہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوتی ہے مگر جب یہ ذمہ داری بھی سیاسی جماعتوں کی طرح بند دروازوں کے پیچھے طے کی جائے،جب باقاعدہ انتخاب کی روایت کو محض ایک رسمی کارروائی بنا دیا جائے اور جب جماعت کے سینئر ترین اور فکری طور پر بالغ اراکین شوریٰ کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی ہم دینی جماعت کی بات کر رہے ہیں یا محض ایک ایسے ادارے کی،جو اب ماضی کے ایک نام کی باقیات پر چل رہا ہے؟؟؟جماعتوں میں اختلاف رائے کا اظہار کوئی تخریبی عمل نہیں ہوتا،جماعتی عہدوں کے لیے انتخابی عمل اور باہمی مسابقت کو مخالفت تصور کرنا حماقت ہے۔۔۔اختلاف رائے اور مسابقت جماعت کے دستور کے فریم میں رہتے ہوئے اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے افراد کی تعمیری سوچ کے انفرادی اور اجتماعی ارتقا کی خاطر ضروری ہے۔۔۔حافظ عبدالکریم صاحب کا بلا مقابلہ منتخب ہونا ایک ایسے عمل کا نتیجہ ہے جس پر خود جماعت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔۔۔کئی سینئر اراکین شوریٰ  نے اس انتخاب کو غیر آئینی،غیر شفاف اور مشکوک قرار دیا ہے۔۔۔معاملہ عدالت تک جا پہنچا ہے جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام فیصلے باہمی مشاورت،افہام و تفہیم اور اصول و ضوابط کی روشنی میں نہیں کیے گئے۔۔۔کیا ایسی جماعت جس کا نعرہ ’’قال اللہ و قال الرسول‘‘ ہو،اس کی قیادت کا فیصلہ ایسے انداز میں ہونا زیب دیتا ہے؟کیا یہ جماعت اب ’’قال دولت و قال اقتدار‘‘کی طرف مائل ہو چکی ہے؟حافظ عبدالکریم صاحب کے ذاتی کردار پر کوئی بات نہیں کی جا رہی۔۔۔وہ بلاشبہ ایک نیک نیت،خوش گفتار،سماجی شخصیت ہو سکتے ہیں لیکن کیا صرف نیکی اور سماجی اثر و رسوخ کسی کو جماعت کی اعلیٰ ترین قیادت کے لیے اہل بناتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو تاریخ ہمیں حضرت ابوبکر صدیق  ؓ،حضرت عمر فاروق  ؓ،حضرت عثمان غنی  ؓ اور حضرت علی المرتضیٰ  ؓ کی نامزدگیاں تفصیلاً نہ سناتی۔۔۔اسلام میں قیادت کے لیے علم،تقویٰ، فہم،استقامت اور جرات جیسی صفات کو اولین حیثیت حاصل ہے۔۔۔محض دولت،سیاسی روابط یا سماجی رسوخ کبھی بھی اسلامی قیادت کے معیار نہیں رہے۔۔۔حافظ صاحب کی پہچان ایک دولت مند شخص کی ہے۔۔۔ان کا مالی پس منظر،بڑی بڑی زمینیں،کاروباری تعلقات اور سیاسی وابستگیوں  نے بلاشبہ ان کی راہ ہموار کی مگر سوال یہ ہے کہ اہل حدیث مکتبہ فکر کی نظریاتی قیادت بھی انہی بنیادوں پر طے ہو گی؟ایک وقت تھا جب اہل حدیث علما اپنے زہد و تقویٰ،علمی میراث اور فکری استقامت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔۔۔۔آج اس روایت کا حال کیا ہو چکا ہے ؟ علم و تقویٰ کے مینار منہدم ہو چکے اور ان کی جگہ اقتدار کی دہلیز پر جھکنے والے،تاجر منش،موقع پرست شخصیات  لے رہی ہیں۔۔۔ ۔اس سارے معاملے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جماعت کے اندر سے بھی ایک مخصوص طبقہ،جو کسی نہ کسی ذاتی مفاد یا مراعات سے وابستہ ہے،اس فیصلے کا دفاع کرتا نظر آ رہا ہے۔۔۔ان کے لیے جماعت کا مفاد،اس کی فکری بنیادیں اور اصول و ضوابط سے زیادہ اہم اپنے عہدے،اپنی تنخواہ اور اپنی ’’رسائی‘‘ ہے۔۔۔یہی طبقہ ہمیشہ ہر جماعت کو زوال کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔جس دن کسی جماعت میں اختلافِ رائے کو گناہ سمجھا جائے اور مشورہ دینے والوں کو بغاوت کا مرتکب قرار دیا جائے،سمجھ لیں کہ وہ جماعت اب جمود اور زوال کے گہرے کنویں میں جا گری ہے۔۔۔کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ جماعت کی مرکزی مجلس شوری کا ہر رکن اپنی حیثیت میں امیر کا امیدوار بننے کا اہل ہے؟امیدواربن سکتا ہے،انتخاب لڑ سکتا ہے،اس کا انتخاب لڑنا کسی جماتی سوچ اور مفاد کے خلاف نہیں۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک،ہیرے اور جماعت کے مخلص ساتھی جماعت میں ہیں جو تقویٰ،جرأت و بہادری،شجاعت اور اخلاص کے ساتھ جماعت کو علم اور عمل کی بلندیوں پر پہنچا سکتے ہیں۔۔۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی تقریباً تمام دینی جماعتیں اب اسی بحران سے گزر رہی ہیں۔۔۔ جماعت اسلامی کے علاوہ جمعیت علماء پاکستان ہو یا جمعیت علماء اسلام،بریلوی مسلک کی جماعتیں ہوں یا اہل حدیث گروہ،سبھی جماعتیں اب شخصیات کے گرد گھومتی جا رہی ہیں۔۔۔کسی بھی جماعت کا امیر یا قائد،اب خاندانی وراثت یا مالی طاقت کی بنیاد پر طے ہوتا ہے،نہ کہ علمی،فکری یا تنظیمی خدمات کی بنیاد پر۔۔۔یہی وہ زہر ہے جس نے ہمارے معاشرے کی روح کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔۔۔کیا یہ وہی اہل حدیث جماعت ہے جس کے بانیان نے کفر و شرک کے خلاف فکری محاذ پر تن تنہا جنگ لڑی؟جس نے تقلید کی بند زنجیروں کو توڑ کر اجتہاد،تحقیق اور فہمِ دین کی نئی راہیں کھولیں؟کیا وہ جماعت اب تقلیدِ دولت،پیرویِ سیاست اور مفاد پرستی کے شکنجے میں قید ہو گئی ہے؟اگر ایسا ہے تو پھر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔۔۔جماعتی انتخابات کے حوالے سے عدالت میں زیر سماعت مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ صرف اندرونی ناراضگی تک محدود نہیں۔۔۔یہ ایک اصولی مؤقف ہے جو جماعت کے سنجیدہ طبقے کی طرف سے سامنے آیا ہے۔۔۔اگر واقعی حافظ عبدالکریم صاحب میں قیادت کی صلاحیت ہے،اگر وہ واقعی اہل ہیں تو پھر انہیں خود سب سے پہلے ایک شفاف،منصفانہ اور باقاعدہ انتخاب پر زور دینا چاہیے تھا لیکن جب وہ خود ہی ایک مشکوک عمل سے منتخب ہوں تو پھر ان سے توقع کیا کی جا سکتی ہے کہ وہ جماعت کو اصولوں پر چلائیں گے؟؟؟علمی، دینی اور فکری قیادت کا بحران صرف ایک جماعت تک محدود نہیں۔۔۔ یہ اس پورے معاشرے کا المیہ بنتا جا رہا ہے جہاں ضمیر،اصول اور صداقت کی جگہ دولت،تعلقات اور موقع پرستی  نے لے لی ہے۔۔۔ہم  نے اپنی نسلوں کو جو پیغام دینا تھا،وہ یہ تھا کہ سچائی کا راستہ ہمیشہ کٹھن ہوتا ہے لیکن باوقار ہوتا ہے۔۔۔مگر ہم  نے عملاً یہ دکھایا کہ اقتدار اور مراعات کی دوڑ میں اصولوں کو پیروں تلے روند دینا ہی کامیابی ہے۔۔۔یہی زوال کا آغاز ہوتا ہے اور یہی اس قوم کی بد نصیبی کا سبب بنتا ہے۔۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل حدیث مکتبہ فکر کے سنجیدہ علمائ،دانشور اور کارکنان کھل کر اس معاملے پر گفتگو کریں۔۔۔جماعت کو چند افراد کی جاگیر نہ بننے دیں بلکہ اسے اس کی اصل روح،یعنی تحقیق،اجتہاد اور اخلاص کی طرف واپس لے کر آئیں۔۔۔اگر اس وقت خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔۔۔انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک ایسی جماعت دیکھیں جو واقعی دین کی ترجمان ہو،نہ کہ اقتدار و دولت کی علمبردار۔۔۔وقت کا تقاضا ہے کہ اہل علم میدان میں آئیں۔۔۔وہ خاموش نہ رہیں جن کے پاس علم ہے،فہم ہے اور تاریخ کا ادراک ہے۔۔۔تاریخ خاموش تماشائیوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔۔جو آج مصلحت کا شکار ہیں،کل پشیمانی ان کا مقدر ہو گی اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ سب باتیں محض جذباتی ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ کیا واقعی حافظ عبدالکریم صاحب اس منصب کے اہل ہیں؟ کیا یہ جماعت اب بھی علمی قیادت کے اصولوں پر قائم ہے؟اور اگر نہیں تو پھر سچ بولنا،سوال اٹھانا اور آواز بلند کرنا ہر اس فرد کا فریضہ ہے جو اس جماعت سے محبت رکھتا ہے۔اہل حدیث مکتب فکر محض ایک فقہی نظریہ نہیں،ایک زندہ روایت ہے۔۔۔اسے مردہ نہ ہونے دیں۔۔۔اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ قیادت،انتخاب اور فکری آزادی کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔۔۔ورنہ یہ جماعت محض ایک نام رہ جائے گی، اور اس کے پیچھے وہی تاریک سائے ہوں گے جو ہر جماعت کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔۔۔

مزیدخبریں