پچاس شکاریوں کا ایک گروہ تھا جو نیٹو کی مچان پر بیٹھ کر آس پاس پر نظر رکھتا تھا وہ مل کر فیصلہ کرتے کہ کب اور کسے شکار کرنا ہے۔ وہ موقع مناسب جان کر اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے پہلے اس کا لہو پیتے پھر اس کا گوشت مزے لے لے کر کھاتے اس کی ہڈیاں چپا جاتے اس کام سے فارغ ہو کر وہ اپنے شکار کی کھال فروخت کرتے جب کرنے کو کچھ نہ ہوتا تو بیٹھ کر اپنے شکار کی کہانی لکھتے جس میں بتایا جاتا کہ انہوں نے کس جرم کی بنا پر شکار کی تکہ بوٹی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں کس طرح بہادری کے جوہر دکھائے گی۔ کہانی میں وہ کچھ بھی تحریر کر دیا جاتا جس کا کبھی سرے سے وجود ہی نہ ہوتا لیکن اپنی دھاک بٹھانے کے لئے اپنے نوکیلے دانتوں اپنے خونخوار پنجوں کا ذکر ضرور کرتے۔ وہ یہ بتانا کبھی نہ بھولتے کہ ان کی کھال بہت موٹی ہے۔ اس پر کسی کے کسی وار کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
شکاری پچاس برس تک اسی انداز میں شکار کرتے رہے اور اپنی کہانیاں لکھتے رہے۔ ایک ببرشیر کونے میں بیٹھا یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ شاید ان شکاریوں کو کوئی عقل آجائے۔ یہ جتھوں کی صورت کمزوروں پر جھپٹنا بند کر دیں، ان کا لہو پینا بند کر دیں لیکن عقل کسی کے قریب نہ بھٹکی، نہ ہی ان کی خون کی پیاس کم ہوئی پھر ایک روز انہوں نے آرام سے بیٹھے ببرشیر پر حملہ کر دیا۔ ببرشیر انگڑائی لے کر اٹھا اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب شکار کی کہانی وہ خود لکھے گا۔ یہ سوچ کراس نے دو بڑے شکاریوں کو گردن سے پکڑ لیا۔ موٹی گردنوں والے بہت ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں کہ ببرشیر کی گرفت سے گردنیں چھڑا لیں لیکن وہ جتنے ہاتھ پاﺅں چلاتے ہیں ان کا جسم اتنا ہی زیادہ زخمی ہو رہا ہے۔ اب ببرشیر ہر دن اور ہر رات ایک نیا حملہ کرتا ہے اور شکار کی کہانی خود لکھتا ہے۔ ان کہانیوں میں نئی بات یہ ہے کہ ببرشیر ایک روز پہلے بتا دیتا ہے کہ اس کے میزائل ذخیرے پر حملہ کیا گیا ہے، اس کے بجلی گھر پر حملہ ہوا ہے، اس کے پانی کے ذخیرے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے لہٰذا اب وہ بھی دشمن کے فضائی اڈوں، بجلی گھروں اور اہم تنصیبات پر حملہ کرے گا۔ وہ ایک روز قبل اطلاع دیتا ہے کہ فلاح علاقے کے معصوم لوگ علاقہ خالی کر دیں تاکہ بے گناہ اس کے حملے کی زد میں نہ آئیں پھر وہ ڈرون بھیجتا ہے۔ سجیل، بیلاسٹک اور ہائپرسونک سے حملہ کرتا ہے، اس کے حملے زمین، فضا اور سمندروں میں ایک جیسی کامیابی سے ہوئے ہیں۔
شیر اور شکاریوں کے درمیان مقابلے کا تیسرا روز تھا کہ شکاریوں کو اندازہ ہو گیا ، وہ شیر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے صلح کا پیغام بھیجا، شیر نے اسے نظرانداز کر دیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد لڑائی روکنے کے لئے کوششیں ازسرنو شروع کی گئیں۔ شیر کا جواب آیا نہیں ابھی نہیں اب ہر چند روز بعد لڑائی روکنے کا پیغام آتا ہے۔ ساتھ ہی شرائط بھی رکھ دی جاتی ہیں۔ شیر کہتا ہے ہر شرط نامنظور لڑائی وہ جب بھی ختم کرے گا، اپنی شرط پر ختم کرے گا جس کے بعد موٹی گردن والا اب منتوں پر اتر آیا ہے۔ وہ صرف اپنی گردن چھڑانا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ کمزور اور پتلی گردنیں پھنسوانا چاہتا ہے۔ شیر انہیں بھی سبق سکھائے گا جو چھچھڑوں پر گزارا کرتے ہیں جو اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ ”آل آﺅٹ وار“ کی طرف جائے گا جنگ کے تیسرے ہفتے میں ” بیل آﺅٹ“ مانگ رہا ہے۔ ببر شیر کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ حملہ آوروں کے تمام دانت نکالے بغیر صلح کی طرف نہیں آئے گا۔ وہ تاوان جنگ بھی لے گا، علاقہ بھی خالی کرائے گا اور اپنے ضبط کردہ ایک سو بیس ارب ڈالر بھی نکلوائے گا۔ باقی رہی ایٹم بم چلانے کی دھمکی تو امریکہ نے ایٹم بم اس وقت چلایا تھا جب ایٹم بم صرف اس کے پاس تھا۔ آج اگر اس نے ایٹم بم استعمال کرنے کا سوچا تو شاید اس پر پہلے ایٹم بم چل جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بلبلاتے ہوئے پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان جذبہ خیرسگالی کے تحت نہیں کیا تھا۔ اس سے ایک رات قبل اس کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا، جس نے اسے چکرا کے رکھ دیا۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے وہ اپنے اتحادیوں کی منتیں کرتا رہا۔ کوئی موت کے منہ میں جانے کے لئے تیار نہ ہوا۔ سب جانتے تھے کہ انہیںایک بے مقصد جنگ کا ایندھن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سب نے اپنی کھال بچانے کا فیصلہ کیا اور صاف انکار کر دیا۔ امریکہ ڈوب تو رہا لیکن اب بھی ایک تنکے کی تلاش میں ہے۔ اس نے تن تنہا آبنائے ہرمز پر اٹیک کا فیصلہ کیا۔ منصوبے کے مطابق آٹھ اپاچی ہیلی کاپٹر تیار کئے گئے۔ یہ جدید ترین ہیلی کاپٹر فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ زمین اور پانی پر اور اس کے نیچے موجود اہداف کی نشان دہی کر سکتا ہے، اس کی مشین گن سے نکلی ہوئی گولیاں دیواریں چھید کرنکل جاتی ہیں۔ یہ راکٹ برسا کر ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے دن اور رات میں کامیابی سے کارروائی کر سکتا ہے۔
منصوبے کے مطابق تین تین کی ٹکریوں میں چھ ہیلی کاپٹر آئے جو قدرے فاصلہ برقرار رکھے ہوئے تھے جبکہ ان سے آگے دو ہیلی کاپٹر تھے۔ ایرانی سپاہ اور کمانڈ تیز رفتار کشتیوں میں مسلح ان کے منتظر تھے، جیسے ہی وہ نیچی پرواز کرتے ہوئے ان کے نشانے پر آئے ان پر فائر کھول دیا گیا۔ فقط دس منٹ کے اندر پانچ ہیلی کاپٹر گرا لئے گئے جبکہ تین ہیلی کاپٹر فرار ہو گئے۔ ہیلی کاپٹروں میں آنے والے بیشتر افراد مارے گئے ہیں، ان کی لاشیں سمند ر سے نکال کر محفوظ کر لی گئی ہیں جبکہ متعدد امریکی فوجی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ اس ناکامی کی اطلاع امریکی صدر کو پہنچی تو وہ سکتے میں آگئے۔ انہوں نے اس حملے اور آبنائے ہرمز پر قبضے کے لئے اپنے بہترین یونٹ کا انتخاب کیا تھا، ان کے پہلے حملے کے بعد امریکی فوج کے ایک بریگیڈ کی نفری نے وہاں اتر کر قبضہ حاصل کرنا تھا۔ ہیلی کاپٹروں کے گرنے کے بعد منصوبے کے دوسرے حصے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ امریکی صدر کو گہرا شاک لگا، انہیں چوبیس گھنٹے کے لئے ڈاکٹروں کی نگرانی میں دے دیا گیا، ان کے حواس بحال ہوئے تو انہوں نے پینترا بدلا کہ امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتے لہٰذا انہیں وہاں ایرانی سپاہ کی موجودگی سے کوئی نقصان نہیں وہاں سے جس ملک کے جہاز گزرتے ہیں اب وہ جانیں اور ان کا کام جانے۔ امریکی صدر کو زبردست ہزیمت کا سامنا ہے۔ اب وہ ایرانی جزیرے پر فوج اتارنے کی دھمکی دے رہے ہیں اور اس کی تیاری کی جا رہی ہے لیکن ان کے جرنیلوں نے انہیں دو ٹوک لفظوں میں بتا دیا ہے کہ اس مہم میں کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ ایرانی صدر نے ان تیاریوں کے جواب میں کہا ہے کہ ہم امریکی فوج کے اترنے کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ایرانی جزیرے پر قبضے کے لئے فوج اترے یا بحری جہاز آئیں، شکار کی کہانی تمام دنیا ببرشیر کی زبانی سنے گی۔
شکار کہانی ببرشیر کی زبانی
09:08 AM, 27 Mar, 2026