ترقی پذیر ممالک میں بھی گزشتہ ایک صدی، جسے انقلابات کی صدی بھی کہا جاتا ہے، بہت سی انقلابی تحریکوں نے جنم لیا۔ کئی بغاوتی تحریکیں سامنے آئیں۔ سوشل ازم کی نظریاتی جنگ میں ایک طرف کارل مارکس، لینن یا بخارن جیسے نام ابھرتے ہیں تو دوسری طرف انہی کی فکری اساس نجیب اللہ اور نور محمد ترکئی کو سامنے لے کر آتی ہے۔مشرق میں سیاسی نظام کے حوالے سے معروف کئی مفکروں نے مروجہ نظاموں پر کھل کر تنقید کی اور اسلامی نظامِ سیاست کی تفہیم کا کام کیا جن میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ اسماعیل، عبید اللہ سندھی، امداد اللہ مہاجر مکی جیسی مضبوط آوازیں شامل ہیں۔ بعد ازاں علامہ اقبال ، آیت اللہ خمینی، مرتضی مطہری اور پاکستان میں مولانا مودودی جیسی شخصیات کے نمایاں افکار دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے معاشی و سیاسی نظریات یا تو سامنے ہی نہیں آنے دیئے گئے یا پاور سرکل نے کچل ڈالے۔ میں معاشی نظام کی بحث میں علامہ غلام احمد پرویز کا نام بھولنا نہیں چاہتا جنھوں نے بڑی مضبوطی سے اسلام کے معاشی نظام کی تفہیم کا کام انجام دیا۔ لیکن ان تمام افکار کی پاور سرکل میں قطعاً کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔
صہیونیت پہلے ایک سیاسی نظام ہے۔ یہ وہ پاور ہب ہے جس میں دنیا کی نظر نہ آنے والی پاور سوسائٹیز شامل ہیں۔ سیاسی طور پر تشکیل دیا جانے والا یہ پاور کمپلیکس ان چند افراد پر ہی مشتمل نہیں ہے جن کے نام بظاہر میڈیا میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ البتہ صیہونیت کے لیے یہ لوگ موزوں ضرور رہے ہیں۔ ان چند مشہور لوگوں کو جاننے اور ان پر نفرین کرنے سے زیادہ اہم اس نظام کو سمجھنا اور اس کو مسترد کرنا ہے۔ اس نظام کے لیے سب سے زیادہ موزوں ایسے مذہبی افکار کے حامل لوگ تھے جو ایک خاص نظریہ رکھتے ہوں اور اس نظریے کے مطابق پوری دنیا کے وسائل پر حق ملکیت اور لوگوں پر حقِ حاکمیت کو الوہی قبول کریں۔ یقینا ارتکاز دولت کے لیے ایسے لوگ روحانی کوششیں بھی کریں گے۔ یہ نقطہ ذہن میں رکھتے ہوئے ہم اسرائیل کے تصور اور اس کے قیام کے عمل کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ جیسے بظاہر نظر آتا ہے کہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں در اندازی اور سیاسی و معاشی غارتگری کے لیے استبدادی اور طاغوتی قوت کا سب سے مضبوط قلعہ اسرائیل ہے۔ یہ کام کوئی دوسرا ملک اس پختگی اور یقین سے نہیں کر سکتا تھا۔ اس میں بسنے والے اکثر لوگوں کے مذہبی تصورات اور خیالات صیہونیت کے لیے خام مال کا کام کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ دنیا پر حاکمیت کی اساطیر میں ڈوب کر ہر قدم اٹھانے کو تیار رہیں گے، ان میں ایک ایک شخص ہزاروں غلاموں کی ملکیت کا خواب دیکھتا ہو گا۔ خود کو قدرتی اور روحانی طور پر دوسروں سے افضل سمجھنے کے سبب، دوسرے یا تیسرے درجے کی مخلوق کے حقوق یا مساوات کے نظریے کا تو ان کے ہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سو ایسے ہی لوگ اس نظام کا بہترین اثاثہ بن سکتے تھے۔ پہلی قسط میں میں نے صیہونیت کے معاونین کی وضاحت کی تھی۔ اس فلسفے میں یہودیوں کے بعد سب سے زیادہ اہم ذمہ داری انہی معاونین کی ہے جو پوری دنیا میں اطلاقی کوششیں کرتے رہیں گے۔ یہ کوشش کریں گے کہ ہر معاشرے میں تمام بنیادی ڈھانچے صیہون کے قائم رہیں۔ فکری رویے بھی صیہونی بناتے جائیں ، خواہ حلیے کے اعتبار سے معاشرے کو کتنا ہی روایتی اور قدامت پسند کیوں نہ بنا دیا جائے۔ یعنی ممکن ہے کہ ایک شخص حلیے سے سادگی یا درویشی کا اظہار کرتا ہوں لیکن اس کا معاشرتی اور معاشی عقیدہ ہر گز سادگی پسند نہیں ہو گا۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لیے آپ اپنے ارد گرد کسی بھی درویش نظر آنے والے آدمی کی پسندیدگی کے معیارات دیکھ لیجیے۔ عام معاشروں میں بچوں کی تعلیم اور تربیت سے لے کر پیشوں کے انتخاب میں ان کی اور ان کے والدین کی ترجیحات دیکھیے! وہ تمام لوگ جو حلیے اور ظاہری شناخت کے لحاظ سے سادھو نظر آئیں گے، دولت کے حصول، ارتکاز دولت کے نظریے اور طاقت کے تصور میں عین انھی لوگوں جیسے ہوں گے جنھیں صیہونی فکر نے براہ راست پروان چڑھایا ہے۔ پاور ہب کے لیے مزاحمتی اور میقاومتی گروہوں کے سوا عارضی طور پر سبھی طبقات قابل قبول ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں کمزوروں اور نا توانوں کی اکثریت کے باعث معاشی اور معاشرتی فلسفوں سے لوگوں کو نہ تو غلامی کے لیے قائل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انھیں قدرتی وسائل اور دولت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام خود روایتی طبقات سے مذہبی تاویلوں کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ورک فورس میں وہ مذہبی سوسائٹیز جو وسائل پر قبضے میں معاون ثابت ہوں،ارتکاز دولت کی حمایت کرتی ہوں، شامل ہیں۔ یوں لامحدود وسائل پر تسلط کو نعمت اور دولت کے انبار کو برکت قرار دینے والے طبقات پاور سسٹم کو جوائننگ فورس دیتے ہیں۔ یہ ان تمام مادی ڈھانچوں کو اپنے تئیں قائم رکھتے ہیں جو صیہونیت کے لیے مفید ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے والی نے نئی انقلابی تحریکیں چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کے سوا کچھ نہیں کر پاتیں اور یہ مضبوط مادی ڈھانچے جب چاہیں بڑی آسانی سے ایسی ہر سوچ کو بے معنی اور بے کار ثابت کر دیتے ہیں یا پھر بزور طاقت بڑی آسانی سے کچل دیتے ہیں۔ (جاری ہے)
صیہونیت کی مبادیات
09:06 AM, 27 Mar, 2026