واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام اب قصہ پارینہ بن چکا ہے اور تہران کے پاس سمجھوتے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی فضائیہ کے B-2 Stealth Bombers نے ایران کے ایٹمی عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر ہم یہ فیصلہ کن حملہ نہ کرتے تو ایران صرف 14 دن میں ایٹمی بم بنا چکا ہوتا۔
ایرانی ریڈار سسٹم، بحریہ، فضائیہ اور ڈرون بنانے والی تمام بڑی فیکٹریاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ ایران اب اس قابل نہیں رہا کہ وہ امریکی جنگی طیاروں کا مقابلہ کر سکے یا انہیں نشانہ بنا سکے۔صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مہم میں تنہا لڑنے کا گلہ کرتے ہوئے نیٹو (NATO) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 25 سال پہلے بھی میں نے نیٹو کو "کاغذی شیر" کہا تھا اور آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ ان ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔
ایرانی قیادت کی جانب سے مذاکرات کی مبینہ خواہش پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا میں معاہدے کے لیے نہیں کہہ رہا، بلکہ ایران اب ڈیل کے لیے منتیں اور بھیک مانگ رہا ہے۔ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اپنے ایٹمی پروگرام کو خیرباد کہنے کا یہ آخری موقع ہے۔ اگر فوری طور پر جنگ بندی کی شرائط تسلیم نہ کی گئیں اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دے گا۔
ایک حیران کن دعوے میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کارروائیوں اور سخت نگرانی کے نتیجے میں سمندری راستے سے امریکہ آنے والی منشیات میں 98 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
'ایرانی فوجی ڈھانچہ تباہ، اب ڈیل کی’’ بھیک‘‘ مانگ رہے ہیں':ٹرمپ کا ایران کے خلاف 'بڑی فوجی کامیابی' کا اعلان
08:17 PM, 26 Mar, 2026