اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے بادلوں کے درمیان پاکستان نے ایک بڑا سفارتی قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایوانِ صدر میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر تفصیلی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے صدرِ مملکت کو عالمی سطح پر ہونے والی پسِ پردہ سفارت کاری سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے صدر کو مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ اپنے حالیہ ٹیلیفونک رابطوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان کس طرح تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک "غیر جانبدار پل" کا کردار ادا کر کے خطے کو بڑی تباہی سے بچا سکتا ہے۔اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں اعلیٰ عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ عسکری حکام نے خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے پاکستان کی سرحدوں اور داخلی سلامتی پر اثرات کا نقشہ پیش کیا۔ملکی دفاعی حصار اور معاشی استحکام کے لیے درپیش سیاسی و سیکیورٹی چیلنجز پر بھی بھرپور تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو متحرک کرتے ہوئے عالمی امن کے لیے اپنا وزن ڈالے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی ثالثی کی پیشکش کا مقصد خطے میں استحکام لانا ہے تاکہ معاشی ترقی کا سفر متاثر نہ ہو۔ صدرِ مملکت نے اس اسٹریٹجک اقدام کی مکمل تائید کرتے ہوئے اسے پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے مثبت قرار دیا۔
"ایران امریکہ تنازع: پاکستان کا عالمی ثالث بننے کا فیصلہ"، صدر، وزیراعظم اور عسکری قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس
03:56 PM, 26 Mar, 2026