سفارتی ناکامی یا بوکھلاہٹ؟: جے شنکر کا آل پارٹیز اجلاس میں غیر مہذب زبان کا استعمال، بھارت عالمی ثالثی کے عمل سے باہر

02:29 PM, 26 Mar, 2026

نئی دہلی/اسلام آباد: بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے عالمی محاذ پر بھارت کی بڑھتی ہوئی سبکی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی کو چھپانے کے لیے تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھ دیے۔ گزشتہ روز ایک آل پارٹیز اجلاس کے دوران جے شنکر نے انتہائی "بازاری" اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا، جسے مبصرین نے ان کی بوکھلاہٹ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جے شنکر کے اس غصے کی اصل وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ بحران میں بھارت کا مکمل سفارتی بائیکاٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق  جہاں پاکستان، ترکی اور مصر اس بحران میں ایک "قابلِ اعتماد سفارتی پل" کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں، وہیں نئی دہلی کو اس اہم عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔
 بھارت کا خطے کے اتنے بڑے بحران میں کوئی کردار نہ ہونا جے شنکر کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی ناکامی تصور کی جا رہی ہے۔جے شنکر نے اپنی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر روایتی طور پر پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی اور ایران بحران میں ثالثی کرنے والوں کے لیے انتہائی غیر سنجیدہ الفاظ استعمال کیے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ  ایک وزیرِ خارجہ کی سطح پر ایسی "بازاری" زبان کا استعمال بین الاقوامی سطح پر بھارت کی گرتی ہوئی اخلاقی ساکھ کا ثبوت ہے۔ پاکستان پر الزامات تراشی دراصل بھارت کی اپنی اندرونی اور بیرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی سرکار کی خارجہ پالیسی اب محض شور و غوغا اور بدزبانی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جے شنکر کا حالیہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت خطے کے اہم معاملات میں اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔

مزیدخبریں