امریکی آپریشن 'ایپک فیوری': ایران کا جوہری پروگرام تباہ کرنے کا دعویٰ، ٹرمپ کسی کی اجازت کے پابند نہیں:کیرولین وائٹ

09:21 AM, 26 Mar, 2026

واشنگٹن :وائٹ ہاؤس نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی اہم بریفنگ جاری کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حملوں نے ایران کی جوہری اور دفاعی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔آپریشن کا اسٹیٹس: 'آپریشن ایپک فیوری' اپنے 25ویں دن میں داخل، مجموعی دورانیہ 6 ہفتوں تک پھیل سکتا ہے۔ ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی بحری قوت اور جوہری صلاحیتیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ صدر ٹرمپ ایران میں ایسی قیادت کے خواہشمند ہیں جو امریکہ دشمن نعرے بازی بند کرے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے کی جنگی مہم میں مصروف ہے اور صدر ٹرمپ کو اس کے لیے کانگریس کی مزید کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ایرانی قیادت اب اس دلدل سے نکلنے کے لیے 'سیف ایگزٹ' (Safe Exit) تلاش کر رہی ہے، لیکن جنگ بندی صرف امریکی شرائط ماننے پر ہی ممکن ہوگی۔
ترجمان نے امریکی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ کا اعلان کانگریس کا کام ہے، لیکن چونکہ حالیہ دنوں میں کانگریس نے صدر کے اختیارات محدود کرنے کی قراردادیں مسترد کر دی تھیں، اس لیے ٹرمپ اب کسی کی اجازت کے بغیر ملکی مفاد میں فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔
بریفنگ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ایک طرف بمباری جاری ہے تو دوسری طرف صدر ٹرمپ ایرانی حکام سے 'مثبت اور نتیجہ خیز' بات چیت بھی کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا پیغام واضح ہے: یا تو امریکی شرائط مان لی جائیں، یا پھر مزید سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہا جائے۔

مزیدخبریں