عید الفطر دراصل انعام ہے اس محنت کاجو ایک مسلمان رمضان کے مہینے میں روزوں کی مشقت اور نمازوں کی برکت سے حاصل کرتا ہے۔ انفرادی روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی نظم، سوچ اور فکروعمل کی مشق رمضان المبارک میں مسلمانوں کو میسر آتی ہے۔ روزے کی بھوک انفرادی جسمانی فوائد کے علاوہ دراصل ان لوگوں کے لئے ایک احساس پیدا کرتی ہے جو معاشی اعتبار سے کمزور ہیں اوررزق کی فراوانی سے محروم ہیں۔ اس لئے آپ دیکھیں کہ اس ماہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی اور عید الفطرکے موقع پر صدقۃالفطر کی ادائیگی کے ذریعے معاشرے کی کمزور طبقات کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ مالدار افراد کے دلوں میں مال کی محبت کم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ سارے اعمال ایک صالح نظام میں زیادہ بابرکت اور نافع ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اگر نظام بھوک،خوف اورفواحش پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہوتوپھران معاشی اعمال کی برکات کے فوائد کم ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ سوسائٹی کی کلی ترقی اجتماعی نظام انصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بصورت دیگر نظام کی پیدا کردہ خرابیوں کو انفرادی کوششوں سے درست کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ورلڈ بنک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پچھلے 6 برسوں میں 2019 تا 2021 پاکستان میں غربت کی شرح 21.1 سے بڑھ کر 24.6 فیصد ہو گئی تھی۔ اس میں کرونا کے وبائی اثرات بھی شامل تھے۔ لیکن حیران کن طور پر 2022 میں پاکستان میں غربت کی شرح کم ہوکر 17.1 فیصد ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ملک 2023 میں سیلاب جیسی آفت مزید برآں سیاسی انتشار، طویل ترین عبوری حکومت اور 2024 کے مشکوک انتخابات نے ملک کومعاشی عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ان دوبرسوں میں غربت کی شرح 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ آسان زبان میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ مزید لوگ خط غربت سے نیچے دھکیل دیئے گئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی، ٹیکسوں میں اضافہ اور ملک میں صنعتی عمل کی بندش ہے۔ کچھ دنوں سے میرے ایک دوست مجھے بار بارایک نوجوان کے لئے کسی جاب کا بندوبست کرنے کے لئے کہہ رہے تھے جو کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہونے کے باعث بے روزگار ہو چکا ہے۔ گھر کا واحد کمانے والا ہے اور بہت پریشان ہے۔ ابھی کل انھوں نے بتایا کہ اس نوجوان نے جو کچھ عرصہ پہلے اچھا خاصا باروزگار تھا اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کر رہا تھا، پیغام بھجوایا کہ اگر ممکن ہو تو رمضان میں کہیں سے راشن کا بندوبست ہی کر دیں۔ اب یہ وہ سفیدپوش طبقہ ہے جو دست سوال درازکرنے کو عار سمجھتا ہے۔ لیکن بھوک ایسی شے ہے جو انسان سے یہ رذیل کام بھی کروا لیتی ہے۔ ایسی ہزاروں نہیں لاکھوں کہانیاں ہیں جوہمارے ارد گردپھیلی ہوئی ہیں۔ اب سوچیں جہاں بھوک کے ڈیرے ہوں وہاں عید کاتصور کیساہو گا؟ کسی خوشحال انسان کے لئے شاید سوچنا بھی مشکل ہو گا۔ اور کیا یہ بھوک انفرادی کوششوں سے ختم کی جا سکتی ہے؟ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر میں ایک ایسا ہڈ حرام طبقہ بھی ملک پرمسلط ہے جو پروفیشنل بھکاریوں کی صورت میں حقداروں کوان کے حق سے محروم رکھنے کی وجہ بناہوا ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی 24.5 کروڑ آبادی میں 3کروڑ 80 لاکھ افراد بھکاری یا امداد مانگنے پر مجبور ہیں۔ کراچی میں اوسطاً ایک بھکاری روزانہ تقریباً 2000 روپے اکٹھا کرتا ہے، جب کہ لاہور میں 1400 روپے اور اسلام آباد میں 950 روپے۔ قومی یومیہ اوسط 850 روپے فی بھکاری ہے۔ ایک اور حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ بھکاری عوام کی جیبوں سے خیراتی عطیات کے نام پر اجتماعی طور پر روزانہ 32 ارب روپے نکالتے ہیں۔ یہ چونکا دینے والی رقم 117 ٹریلین روپے سالانہ ہے، جو تقریباً 42 بلین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ان اندازوں کو ایک تہائی بھی تصور کر لیں تو یہ رقم پاکستان کے مجموعی فارن کرنسی ذخائر کے لگ بھگ بنتی ہے۔ جبکہ پاکستان کا 25-2024 کل بجٹ 1.8 ٹریلین روپے(6.4 بلین ڈالر) ہے۔ جس میں ساڑھے 8سو ارب روپے کا خسارہ ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے پوری معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کا رویہ پاکستان کے ساتھ کمپنی سرکارجیساہے۔ اگر آپ روزانہ کی بنیاد پراخبارات کامطالعہ کرتے ہیں تو حکومت کی بے بسی اور آئی ایم ایف کی بے حسی صاف نظر آتی ہے۔ ہرخبر کے آخر میں یہ لکھاہوتا ہے کہ آئی ایم ایف نے قیمتیں کم کرنے کی تجویز مسترد کردیں، ٹیکسوں میں کمی سے منع کردیا، ریلیف کی تجاویز کو ماننے سے انکارکر دیا وغیرہ اورہمارے پاس جی حضور کہے بنا کوئی چارہ نہیں۔ ایسا نہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں یا ہم کوئی بہت ہی غریب قوم ہیں۔ دراصل ہمارے نظام کی اٹھان ہی غیر رسمی (ان فارمل) معاشی ڈھانچے پرہے۔ پچھلے 78 برسوں میں ہم نے بڑی محنت سے ایک ایسا معاشی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے جس میں لوگ خیرات دینا تو پسند کرتے ہیں لیکن ٹیکس دینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ خود ہماری سیاسی اور غیرسیاسی اشرافیہ کا لائف سٹائل اور ان کے ٹیکس گوشوارے دیکھیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ ٹیکس چوری کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔دوسرا جب معاشی نظام غیر رسمی انداز میں چل رہا ہو تو کرپشن کے دروازے کھولنا آسان ہوجاتا ہے اور اس کا براہ راست فائدہ حکمران طبقات کو جاتا ہے۔ ایک جانب کرپشن کے ذریعے مال بنانے کا عمل جاری و ساری رہتا ہے دوسری جانب ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے ذریعے عوام سے پوری قیمت بھی وصول کی جاتی ہے۔ ایک غریب پاکستانی جوخود امداد کا مستحق ہے وہ بجلی کا بلوں سے لے کر استعمال کی شے پر ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس نظام میں دو لوگ ہی کامیاب اور خوشحال ہیں ایک حکمران طبقات اور دوسرے بھکاری، باقی اکثریت
ان کے متاثرین میں شامل ہے۔ پاکستان کے اقتصادی سروے24- 2023ء میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 2024ء میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فی صد ہے، یعنی ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس نے مئی 2024ء میں رپورٹ کیا کہ افراط زر کی شرح 11.8 فی صد سے زیادہ ہو گی تاہم یہ صرف دستاویزی ہے، لیکن حقیقی اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں۔ اسی طرح یہ تناسب 2023ء میں سب سے زیادہ 29.18 فی صد ریکارڈ کیا گیا تھا، جس نے بہت سے گھرانوں کے لیے زندہ رہنا مشکل بنا دیا تھا۔ یہ معاشی حالات ملک میں بھکاری نظام کو بڑھانے کے لیے زرخیز بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ حکومت کو یہ سوچنا ہو گا کہ پاکستانی مخیر حضرات فلاحی کاموں کی امداد اور خیرات وغیرہ پر تو دل کھول کر خرچ کرتے ہیں لیکن جب معاملہ ریاست کو ٹیکس دینے کا آتا ہے تو اس کے لئے چور دروازے تلاش کئے جاتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ سارے دروازے حکومتی عملداری کی حویلی میں جا کر کھلتے ہیں۔ یقینی طور پر نظام کی ملی بھگت سے ہی ساری چور بازاری کا عمل چل رہاہے۔ جس سے مخصوص طبقات مستفید اور عوام کی اکثریت متاثر ہورہی ہے۔ دوسرا کسی بھی حکومت کا عوام میں گہرا اعتماد موجود نہیں رہا جس کی بنیاد پر لوگ ٹیکس کی بجائے خیرات دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ نظام کی خرابی ہے جو جمہور کے حقوق سے متصادم ہے۔بھکاری بنانے والا نظام تبدیل کئے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔
بھکاری پیدا کرنے والانظام
09:56 AM, 26 Mar, 2025