ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کی بلا ایک بار پھر اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ پہلے سے بڑھ کر ’’جلوہ افروز‘‘ ہے۔ یقینا اس کے پس پردہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ سمیت دیگر دشمنانِ پاکستان کی مذموم سازشیں کار فرما ہیں۔ سوال ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم و ادارے اس ابھرتے ہوئے نئے خطرے کا سامنا کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کیا ہماری صلاحیت اور استعداد کار اس قدر ہے کہ ہم نعروں اور دعووں سے ایک قدم آگے بڑھ کر حقیقی معنوں میں اس کے آگے بند باندھ سکیں۔ چند روز کے اندر 50 سے اوپر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں جن کا زیادہ تر ہدف بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور اہم سرکاری تنصیبات ہیں، اس امر کی طرف نشاندہی کرتی ہیں کہ بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ریاستی اداروں نے ملک و قوم سلامتی کے ساتھ سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے بھی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے تاہم حالیہ واقعات اس امر کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں انٹیلی جنس اور سرویلنس کی بڑی ناکامیاں بھی رہی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانستان سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے ان خطرات سے روایتی انداز سے ہی نمٹنا ہی ٹھیک رہے گا یا پھر صورتحال کی سنگینی کا بروقت اور درست اندازہ لگاتے ہوئے ملک بھر میں پورے نظام کو مرکزیت کے تحت لانا ہو گا جہاں ملک بھر سے موصول ہونے والی دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کے حوالے سے انفارمیشن کا نہ صرف باریک بینی سے تجزیہ اور جائزہ لینے کے بعد ممکنہ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے بلکہ سرعت کے ساتھ ان کے خلاف ایک مربوط اور مؤثر ایکشن بھی لیا جا سکے۔جس لہر نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس میں بہتر ہو گا کہ ملک کی سرحدوں کی کڑی نگرانی تو عسکری ادارے کریں تاہم پورے ملک خاص طور پر شہروں میں دیگر ذیلی اداروں کی مدد سے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے تحت کیے جائیں۔ گلوبل ٹیرر ازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان اس وقت عالمی دہشت گردی سے متاثرہ 163 ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ عالمی دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں سر فہرست ملک برکینا فاسو ہے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان، تیسرے نمبر پر شام، چوتھے نمبر پر مالی اور پانچویں نمبر پر نائیجر ہیں۔ اس رپورٹ کی موجودگی میں آپ خود ہی صورت احوال کی سنگینی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔داخلی تنازعات کا شکار ہو کر بد امنی کا شکار ہونے والا ملک شام بھی اس فہرست میں ہم سے پیچھے ہے۔ ایسے میں یہ صورتحال مزید تشویش کا باعث ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ملک و قوم کو یہ بتاتا ہے کہ اس کے صوبے میں 9 ہزار سے 11 ہزار تک مسلح دہشت گرد افغانستان سے داخل ہو چکے ہیں اور اس سے ڈبل تعداد میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کو تیار ہیں تاہم پھر بھی وہ کسی کو انکے خلاف آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ کیا یہ عجب منطق نہیں کہ جو خوارج پاکستان میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو بلا تخصیص و تمیز نشانہ بنا رہے ہیں ان کے خلاف ایسے وقت میں جبکہ ان کے خلاف آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا وزیراعلیٰ براہ راست ان دہشت گردوں کے حق میں بولتا نظر آتا ہے۔ رہی اس کی سیاسی جماعت تو وہ بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کر کے اور بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کے قائدین کے حق میں بیانات دے کر اپنا وزن انہی کے پلڑے میں ڈال چکی ہے۔ ایسے میں وفاقی وزارت داخلہ کے فارن نیشنل سکیورٹی سیل نے سیکرٹری داخلہ خیبر پختونخوا کو خط لکھ کر صوبے میں افغان طلبہ کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ فارن نیشنل سکیورٹی سیل غیر ملکیوں سے متعلق ڈیش بورڈ کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے، خیبر پختونخوا میں زیر تعلیم تمام افغان طلبہ کا ڈیٹا 27 مارچ تک ارسال کیا جائے۔ واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے تمام افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک پاکستان سے نکلنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں کو 31 مارچ تک ملک سے جانے کا حکم دیا تھا اور ملک نہ چھوڑنے پر یکم اپریل سے ملک بدر کرنے کی وارننگ دی تھی مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے جہاں بلوچستان کے مسئلے کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش پر زور دیا ہے تو وہاں پی پی پی پی کے چیئرمین بلاول نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی پر زور دیا ہے۔ چیئرمین بلاول نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات اور انا کی وجہ سے اسلام آباد میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ اگلے ماہ کے اندر ایک اور ایسا اجلاس بلایا جائے تاکہ باقی سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کیا جا سکے اور ایک واضح پیغام دیا جا سکے کہ بے گناہ شہریوں کی حفاظت کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات بھلا کر ملک کے دفاع کے لیے متحد ہونا ہو گا۔
یہاں یہ سوال قابل غور ہے کہ ایسی صورت حالات میں جب دہشت گرد ملک کے دو صوبوں میں منظم گوریلا کارروائیاں کر رہے ہیں تو کیا ان سے مذاکرات کی ضرورت ہے یا پھر ایک بڑا ایکشن کر کے ان کا قلع قمع کرنا بہتر فیصلہ ہو گا۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا، وقت کم ہے ملک کی قیادت کو جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔
جلد فیصلہ کرنا ہو گا
09:55 AM, 26 Mar, 2025