پاکستان 24دسمبر 1979ء کی شب سے، جب اشتراکی افواج دریائے آمو کراس کرکے افغانستان پر حملہ آور ہوئیں، فرنٹ لائن سٹیٹ کے طور پر حالت جنگ میں ہے۔ پاکستان کے جنرل ضیاء الحق نے افغانوں کی جدوجہد آزادی کا حامی و ناصر بننے کا فیصلہ کیا۔ جہاد اسلامی برائے آزادی افغانستان کا مددگار بننے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں 60/70لاکھ مہاجرین پاکستان چلے آئے۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان ہی نہیں پنجاب اور سندھ تک بھی ان کی رسائی ہو گئی۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت انہیں اپنا مہمان سمجھتی تھی اس لئے انہیں بلا روک ٹوک ہر جگہ آنے جانے، کاروبار کرنے کی اجازت تھی۔ پھر ہماری فوج یعنی آئی ایس آئی نے جہادی سرگرمیوں کو بڑے احسن طریقے سے منظم کیا۔ افغانستان میں لڑنے والے مجاہد کو تربیت، گولہ بارود اور راشن پانی پہنچانے کی ذمہ داری بطریق احسن پوری کی۔ اشتراکی روس چلاتا رہا کہ مجاہدین کو پاکستان کی سپورٹ حاصل ہے، انہیں پاکستان بطور پناہ گاہ میسر ہے، پاکستان انہیں روکے لیکن پاکستان کا استدلال تھا کہ سیکڑوں نہیں ہزاروں میل لمبی ڈیورنڈ لائن کو کنٹرول کرنا یا بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر سوویت یونین کو بہت زیادہ تکلیف ہے تو وہ اس طرح کا بندوبست کرے کہ مجاہدین اولاً تو اس لائن کو پاکستان سے کراس کرکے افغانستان میں داخل ہی نہ ہو پائیں اور اگر کچھ داخل ہو بھی جائیں تو سوویت یونین کی افواج انہیں کارروائی کرکے واپس پاکستان نہ آنے دے۔ دلیل کافی وزنی تھی۔ مجاہدین کا آنا جانا لگا رہا۔ وہ اپنی آزادی کی جنگ جیت بھی گئے لیکن اشتراکی فوجوں کی واپسی کے بعد وہ ان کے لائے ہوئے حکمران صدر نجیب اللہ کو فوری طور پر اقتدار سے الگ نہ کر سکے پھر خود مجاہدین میں پھوٹ پڑ گئی۔ آپس میں لڑ پڑے، خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ جس کے بطن سے طالبان نکلے انہوں نے روسیوں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین اور شمالی اتحاد کو شکست دی، کابل پر قبضہ کیا اور افغانستان پر ایک مستحکم حکومت قائم کر دکھائی جسے پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای کے علاوہ دنیا کے کسی اور ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ بہرحال پھر 2001ء میں 9/11ہوگیا۔ امریکی اتحادی فوجیں افغانستان پر حملہ آور ہو گئیں۔ ہم ایک بار پھر فرنٹ لائن ریاست بننے پر مجبور کر دیئے گئے۔ جنرل مشرف، امریکی جارج بش کی دھمکی کے آگے لیٹ گئے۔ پاکستان کی ہوا، فضا، بحر و بر پر امریکی اتحادی فوجیوں کے لئے کھول دیئے گئے۔ افغانستان بارے دو دہائیوں سے اختیار کردہ پاکستان کی سٹرٹیجک سفارتی و دفاعی پالیسی بھک کرکے اڑ گئی۔ 20سال تک جنہیں ہم اپنا بھائی، شراکت دار قرار دے کر چلتے رہے امریکی دھمکی کے فوراً بعد وہ ہمارے دشمن قرار پائے اور ہم امریکی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر ان کا شکار کھیلنے میں مصروف ہو گئے لیکن کیونکہ ہماری دلی ہمدردیاں افغانوں کے ساتھ تھیں وہ ہمارے بھائی تھے، ہمارے ساتھی رہے تھے، ہم نے ان کے ساتھ مل کر انہیں اشتراکیوں کے چنگل سے چھڑایا تھا پھر لاکھوں افغانی ہمارے مہمان بھی بنے ہوئے تھے اس لئے ہم امریکی اتحادی ہونے کے باوجود طالبان کے ساتھ ایک فطری محبت اور لگائو رکھتے تھے گو ہم امریکی اتحادی تھے ان کا خاتمہ کرنے میں ہم امریکیوں کے ساتھی تھے لیکن ہمیں جب بھی موقع ملتا ہم چھپ چھپا کر ان کی مدد بھی کر دیا جاتے تھے۔ امریکی افغانستان میں جنگ ہار گئے۔ اگست 2021ء میں وہ افغانستان سے نکل گئے، طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔ ہم نے جشن منایا، طالبان کی فتح ہماری کامیابی تھی۔ ہماری پالیسی کے مطابق ہماری توقعات کے مطابق طالبان ہمارے دوست تھے۔ ان کا اقتدار میں آنا ہماری خوش قسمتی تھی جو بعد میں خوش فہمی ثابت ہوئی۔ ہماری شمال مغربی سرحدیں محفوظ نہ ہو سکیں۔ پاکستان ایک بار پھر فرنٹ لائن ریاست بن گیا۔ اپنے خلاف دہشت گردوں کی جنگ میں فرنٹ لائن ہی نہیں بلکہ میدان جنگ بن گیا۔ افغانستان میں اس وقت 20کے قریب دہشت گرد گروپ فعال ہیں جو چین، ایران اور پاکستان میں گھس کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ چین نے تو اس پر قابو پا لیا ہے۔ افغان طالبان حکومت کے ساتھ مل کر اس ناسور پر قابو پا لیا ہے۔ ایران نے اپنے ملک سے لاکھوں افغان مہاجرین کو بیک جنبش قلم نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔ ویسے ایران نے پہلے ہی انہیں اپنے معاشرے میں گھلنے ملنے سے روکا ہوا ہے۔ مہاجرین کیمپوں تک محدود ہیں، انہیں ایران کے بندوبستی علاقوں میں جانے و رہنے کی آزادی حاصل نہیں ہے اس لئے ان کے اثرات اور فعالیت بہت محدود ہے۔ اس کے باوجود ایران نے اپنی قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے انہیں کیمپوں سے بھی نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان پر دہشت گردی ایک عذاب کی شکل میں نازل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے دو صوبے تو حالت جنگ میں ہیں۔ دہشت گرد گروپ، لوکل ناراض اور ہتھیار بند گروپوں کے ساتھ اشتراک عمل کے باعث زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان نے غیر قانونی طریقے سے مقیم افغان مہاجرین کو 31مارچ 2025ء تک یہاں پاکستان سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ایک صائب فیصلہ ہے۔ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ دوحا معاہدے میں طالبان نے تسلیم کیا ہوا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دے گا لیکن گزرے چار سال کے دوران اس حوالے سے طالبان ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر فرنٹ لائن سٹیٹ بن چکا ہے۔ اپنے ہی خلاف دہشت گردوں کی جنگ میں۔ ہماری سرزمین آتش اور آہن میں نہلائی جا رہی ہے۔ ہماری مسلح افواج، ہمارے سویلین سکیورٹی ادارے اور عام شہری بڑی بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کیخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ قربانیاں بھی دے رہے ہیں اور دہشت گردوں کا سر بھی کچلا جا رہا ہے۔ جعفر ایکسپریس سانحے کے دوران ہماری افواج اور سکیورٹی اداروں نے جس مہارت، جرأت اور کامیابی کا مظاہرہ کیا اس سے دنیا انگشت بدندان ہے۔ حملہ آوروں کو جس طرح چن چن کر نشانہ بنایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ریاست پاکستان نے دہشت گردوں اور ریاست پاکستان کے اندرون و بیرون ملک دشمنوں کیخلاف ہارڈ سٹیٹ بننے کا جو اعلان کیا آنے والے دنوں میں اس کے اثرات وضاحت کے ساتھ نظر آئیں گے، ان کا سر کچل دیا جائے گا اور ان کے سہولت کار بھی بچ نہیں سکیں گے۔
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف ہارڈ سٹیٹ
09:52 AM, 26 Mar, 2025