امریکا کا ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے براہِ راست مذاکرات کا فیصلہ

05:49 PM, 26 Jun, 2026

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطوں کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندوں کے درمیان جلد دوحہ میں ملاقات متوقع ہے۔

ایک برطانوی نیوز ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے بتایا کہ مجوزہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے، باہمی اختلافات دور کرنے، معاشی مراعات اور ممکنہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ ایسے نئے سفارتی رابطے قائم کیے ہیں، جن میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست روابط بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بین الاقوامی قوانین کسی بھی ملک کو اس اہم آبی گزرگاہ پر محصولات وصول کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جہاز رانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کے سلامتی کے مفادات کو بھی مدنظر رکھے گا۔ ان کے بقول ایران کی جانب سے پراکسی گروہوں کی حمایت خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کے عملی اقدامات کی بنیاد پر اس کی نیت کا جائزہ لیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکا کسی بھی ممکنہ معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

مزیدخبریں