مودی دور میں بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ، عالمی اداروں کی رپورٹس تشویشناک

03:24 PM, 26 Jun, 2025

نئی دہلی: عالمی رپورٹس کے مطابق بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک کو دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال خصوصاً نریندر مودی کے دونوں ادوار حکومت میں مزید سنگین ہوئی ہے۔

بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین کی عصمت دری، ہراسانی اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روزمرہ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، جب کہ نظامِ انصاف کی سست روی اور حکومتی اداروں کی خاموشی نے جرائم کو مزید تقویت دی ہے۔

حال ہی میں راجستھان کے شہر اُدے پور میں ایک فرانسیسی سیاح خاتون سے مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا، جب کہ مارچ 2025 میں کرناٹک کے شہر ہمپی میں ایک اسرائیلی سیاح خاتون اور اس کی میزبان کے ساتھ اجتماعی زیادتی رپورٹ کی گئی۔ ان واقعات پر اپوزیشن اور عالمی میڈیا نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018 سے 2025 کے دوران سالانہ 30 سے 34 ہزار ریپ کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 2022 میں 1,98,000 سے زائد کیسز زیر التوا رہے، جن میں سے صرف 18,500 کے قریب مقدمات نمٹائے جا سکے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا اداروں نے ان اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بھارت سے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزیدخبریں