ریلوے و مواصلات حکام متوجہ ہوں

10:07 AM, 26 Jun, 2025

ملک میں پاکستان ریلوے اور مواصلات یعنی سڑکوں کے ذریعے روزانہ کروڑوں مسافر سفر کرتے ہیں اور گڈز ٹرانسپورٹ کی ترسیلات بھی ان  دونوں محکمہ جات کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ پاکستان ریلوے کا انفراسٹرکچر ویسے تو پورے ملک میں موجود ہے، ریلوے کو چاروں صوبوں کی زنجیر بھی کہتے ہیں۔ ریلوے کے ذریعے عوام الناس کو سفر اور اشیا کی ترسیل روڈ ٹرانسپورٹ سے محفوظ اور سستی ترین بھی ہے اور کم وقت میں باآسانی ڈلیوری بھی ہوتی ہے لیکن اس کیلئے ریلوے کے انفراسٹرکچر کو  پہلے سے زیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے وہ اس لیے کہ ایک سال میں ریلوے میں 108 ٹرین حادثات ہوئے جس سے جانی اور ریلوے کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچا۔ یہ حادثات خستہ حال ٹریک اور مختلف انتظامی وجوہات اور غفلت کے باعث پیش آئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جون 2024ء سے 2025ء میں 108 اور رواں سال یکم جنوری سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے اور مختلف نوعیت کے 45 حادث رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں مسافر ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے کے 22 جبکہ مال بردار ٹرینوں کے 20 اور 3 دیگر حادثے شامل ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر خان بلوچ صاحب، سی او پی ایس مرہم گیلانی صاحبہ اور ریلوے کے اعلیٰ حکام ریلوے میں بہتری لانے کی اپنے تئیں کوششوں میں مصروف عمل تو ہیں لیکن وفاقی حکومت ریلوے کو وہ پذیرائی نہیں دے رہی جو این ایچ اے کو میسر ہے۔ پاکستان ریلوے میں ML-1 منصوبہ عرصہ دراز سے شروع ہونے کا منتظر ہے، پچھلی دو حکومتوں میں بھی اس منصوبے کے آغاز کی نوید سنائی گئی مگر ایم ایل ون منصوبہ شروع نہ ہو سکا اور آج آئے روز مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے کے حادثات پے در پے ہو رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت اور وزارت منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ اس پر خاموش ہے۔ وزیراعظم نے ریلوے کو گوادر پورٹ سے لنک کرنے پر زور دیا ہے لیکن انہیں چاہیے کہ وہ ریلوے کے ML-1 منصوبہ کا بھی آغاز کرائیں تاکہ ریلوے میں جان پڑے اور ریلوے ترقی کی منازل طے کرے۔ لاہور میں اورنج لائن ٹرین چلانے کیلئے منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن چاروں صوبوں کی یکجہتی کی زنجیر ریلوے حکومتی توجہ کی منتظر ہے۔ ریلوے کی ترقی و بقا اور عوام الناس کو محفوظ سفر ریلوے کو عالمی معیار کی سطح پر لانے کیلئے ML-1 منصوبہ کا آغاز ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر خان بلوچ اور ریلوے کا کمرشل سیکٹر مال بردار ٹرینوں کی تعداد کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کرے۔ ملک سے بیرون ملک چاول، سپورٹس، سرجری، کٹلری اور دیگر اشیا بھجوانے کا حب نارووال سیالکوٹ وزیر آباد گوجرانوالہ ڈویژن ہے۔ ریلوے کا انفراسٹرکچر موجود ہے صرف چاول کی مال بردار ٹرانسپورٹیشن سے ریلوے 50 ارب سالانہ ریونیو حاصل کر سکتا ہے لہٰذا ریلوے کے لاہور ڈویژن سیکٹر سے مال بردار ٹرینوں کو چلانے کے انتظامات ترتیب دیئے جائیں۔ ہم وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر خان بلوچ صاحب سی او پی ایس مرہم گیلانی صاحبہ ڈویژنل سپرٹنڈنٹ لاہور ڈپٹی سی او پی ایس کامران سعید کے شکر گزار ہیں کہ عرصہ دراز سے لاہور نارووال سیالکوٹ وزیر آباد سیکشن کی سیالکوٹ ایکسپریس کو بحال کر کے رواں دواں کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں گزارش ہے کہ سیالکوٹ ایکسپریس کو UP اور Down سائیڈ پر کالا خطائی اور مہتہ سوجا ریلوے سٹیشنز پر سٹاپ دیئے جائیں کیونکہ عوام کی بڑی تعداد اپنے ان ریلوے سٹیشنز پر لاہور اور نارووال سیالکوٹ وزیر آباد سفر کرنے سے محروم ہے۔ وزیر ریلوے نارووال لاہور سیکشن پر ٹرینوں میں بوگیوں کی کمی کا نوٹس لیں کیونکہ چند روز قبل ٹرین میں کم بوگیوں کی وجہ سے شدید گرمی میں گھٹن سے بزرگ شہری  محمد سلیم ضیا جو انجمن تاجران نارووال کے جنرل سیکرٹری تھے، وفات پا گئے۔ اس افسوسناک واقعے پر اہل نارووال نے ریلوے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے لہٰذا انسانی حقوق کے احترام میں نارووال سیکشن پر بوگیوں کی مطلوبہ میں اضافہ کر کے ٹرینوں کے ساتھ روانہ کی جائیں۔ دوسری جانب نیو نارووال کرتار پور روڈ پر دربار عالیہ سید میراں کاظمی الہ پور سیداں نارنگ مقام پر سڑک پر انتہائی خطرناک ڈائیورشن کی وجہ سے درجنوں خوفناک ٹریفک حادثات میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں، جناب سیکرٹری مواصلات پنجاب صاحب آپ کی ہدایات پر چیف انجینئر سینٹرل زون نے کرتار پور روڈ کے آلہ پور سیداں اور دیگر مقامات پر سڑک کی ڈائیورشن کو درست کرنے اور دیگر حفاظتی امور کا تخمینہ بجٹ سیکرٹری آفس پہنچا دیا ہے لہٰذا ان فنڈز کی منظوری عنایت فرمائیں اور ضلع شیخوپورہ تحصیل مریدکے نارنگ کی تین اہم سڑکیں مہتہ سوجا تا نارووال مریدکے لنک روڈ، نارنگ تا محمدی والا لنک نارووال مریدکے روڈ اور یونس روڈ لنک کالا خطائی کرتار پور روڈ کی تعمیر کیلئے بجٹ 2025-26 ء سے فنڈز جاری کر کے ان سڑکوں کی تعمیر مکمل کرائیں اور دعائیں لیں۔

مزیدخبریں