ٹرمپ کی طرح بے اعتبار حالات

10:06 AM, 26 Jun, 2025

 ٹرمپ نے اپنی باتوں پر یو ٹرن تو کئی بار لیا لیکن ایران، اسرائیل جنگ میں جو حرکت کی اس سے انتہائی بدنما تاریخ رقم ہو گئی ہے، انہوں نے باقاعدہ اعلان کیا تھا وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے پہلے مذاکرات کیلئے دو ہفتے کا وقت دے رہے ہیں، صرف دو دن بعد ہی دنیا اس وقت ششدر رہ گئی جب خبر آئی کہ امریکہ نے دنیا کے مہنگے ترین طیاروں کے ذریعے، مہنگے ترین بم ایران کی جوہری تنصیبات پر برسا دئیے ہیں۔ اس حرکت سے ان کی شخصیت کے ساتھ امریکی صدر کے عہدے کا وقار بھی مجروح ہوا، یہ مثال قائم ہو گئی کہ بڑے سے بڑے  رتبے پر براجمان شخصیت کی اعلانیہ بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اس حملے کے فوری بعد ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ امریکہ کے حملے کے جواب نے ایران نے جواباً قطر میں امریکی ائر بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور چھ میزائل داغے۔ لوگ اس وقت پھر حیران رہ گئے جب خوفناک ردعمل کی دھمکی دینے والے ٹرمپ نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہماری توقع کے مطابق انتہائی کمزور جواب دیا، جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ایران نے 14 میزائل فائر کیے جن میں سے 13 کو امریکی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا جبکہ ایک میزائل کو گرنے کے لیے ویرانے کی جانب جانے دیا گیا۔ ٹرمپ نے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حملے سے پہلے اطلاع دے دی تھی، اسکے کچھ دیر کے بعد ہی ٹرمپ نے ایران، اسرائیل جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ایران نے اپنا غصہ نکال لیا ہے اور اب خطے میں امن کی طرف بڑھنے کا موقع ہے۔ مکمل جنگ بندی ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بی ٹو طیاروں کی بمباری سے قبل ایران کو آگاہ کر دیا تھا تا کہ وہ اپنے اہلکاروں کے ساتھ ایسا مواد بھی نکال لے جو تابکاری پھیلانے کا سبب بن سکتا ہو، ایران نے چار سو کلو گرام افزودہ یورنیم کسی اور مقام پر محفوظ کر لیا ہے، جو یقینا آنے والے دنوں ایک اور تنازع کی بنیاد بنے گا۔ جہاں تک نیوکلیئر انفراسٹرکچر کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ تباہی کے بعد ازسر نو تعمیر کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ سرکاری طور جو نقصانات بتائے گئے ہیں ان کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ کے دوران 28 شہری ہلاک اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، ایران نے 550 بیلسٹک میزائل اور ایک ہزار کے قریب ڈرونز داغے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے کہا ہے کہ 610 افراد جاں بحق اور چار ہزار سات سو سے زائد زخمی ہوئے، یہ ماننا ہو گا کہ بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل نے انٹیلی جنس کے حوالے سے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ پہلے دن سے لے کر جنگ بندی تک ایران کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت اور ایٹمی سائنسدانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ کسی کو گھر میں کسی کو گاڑی میں کسی کو اسکے دفتر میں۔ اسرائیلی طیاروں نے ایران کی فضاؤں میں داخل ہو کر پورے ملک کے طول و عرض میں جگہ جگہ ٹارگٹ بمباری کی، تہران سمیت کئی شہروں میں متعدد فوجی اڈوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، دوسری جانب ایران کے میزائلوں نے وہ کام دکھایا کہ جس سے دنیا بھر کے مسلمان جھوم اٹھے، تل ابیب کا ایک تہائی حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ حیفہ سمیت دیگر اسرائیلی شہر بھی غزہ کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ بندر گاہیں اور آئل ریفائنریاں برباد ہو گئیں۔ اسرائیلی شہریوں کو پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ تباہی کیا ہوتی ہے۔ خوفزدہ یہودی ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، ان کے دلوں میں یہ ڈر اب مستقل بیٹھ چکا۔ بھاری لاگت سے بننے والے تمام دفاعی سسٹم فیل ہو گئے، اس جنگ سے خطے کے دوسرے ممالک یہ حوصلہ ملا کہ اسرائیل ہرگز کوئی نا قابل تسخیر طاقت نہیں۔ جم کر مقابلہ کیا جائے تو ناجائز ریاست کو ناکوں چنے چبوائے جا سکتے ہیں۔ اس جنگ سے سب کی فتح والی صورتحال بن گئی، امریکہ کہہ سکتا ہے کہ وہ فاتح ہے کیونکہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات تباہ کر کے ایک بڑے خطرے کا خاتمہ کر دیا، اسرائیل کہہ سکتا کہ وہ کامیاب رہا کیونکہ فوجی لیڈرشپ اور ایٹمی سائنسدانوں، عسکری تنصیبات کو ٹارگٹ کیا، پوری جنگ میں ایرانی فضاؤں پر اسکے طیارے بلا روک ٹوک حملے کرتے رہے، ایران یہ کہہ کر اپنی جیت کا دعویٰ کر سکتا ہے کہ رجیم چینج کا منصوبہ ناکام بنا دیا اور میزائل مارمار کر اسرائیل کا بھرکس نکال دیا، قطر میں اڈے پر حملہ کر کے امریکہ کو بھی جواب دیا۔ اس جنگ سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز بند کرنے کی آپشن ہی نہیں تھی جہاں سے روزانہ عالمی تیل کے 20 فیصد حصے کی ترسیل ہوتی ہے، بندش کی صورت میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ ایسا عمل امریکہ اور یورپ کو حملوں کا جواز دیتا، عرب ممالک بھی کھل کر مخالفت میں سامنے آ سکتے تھے۔ ایران اس سے پہلے بھی ایسی ہی دھمکیاں دے چکا ہے لیکن کبھی ان پر عمل نہیں کیا۔ ایسا کرنے کی صورت میں جہاں چین کو ترسیل متاثر ہوتی، وہیں یہ خود ایران کیلئے اقتصادی طور پر تباہ کن ہوتا، مہنگائی میں اضافہ ایرانی عوام میں اضطراب کی نئی لہر پیدا کر دیتا، جس سے حکومت کو عدم استحکام  کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اسرائیل سے جنگ میں یہ تاثر بھی ختم ہو گیا کہ روس یا چین، ایران کی عملی مدد کے لیے سامنے آ سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جنگ کے عروج میں آیت اللہ خامنائی کا خصوصی پیغام لے کر ماسکو گئے تو روسی صدر پیوٹن نے گرمجوشی سے ملاقات کی مگر ٹھنڈا ٹھار جواب یہ کہہ کر دیا ہم ایرانی عوام کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس ساتھ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کرانے سے بھی معذوری ظاہر کر دی۔ دوسری جانب چین بھی مذمتی بیانات تک محدود رہا ہے۔ چین اگرچہ طویل عرصے سے ایران کا تیل خرید کر اسکی معیشت کو سہارا دے رہا ہے لیکن اس لڑائی میں غیر جانبدار رہا، اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کے پاس ایران کو مکمل فوجی امداد دینے کی صلاحیت ہے، مگر اس نے کوئی خطرہ مول نہیں لیا۔ جہاں تک رجیم چینج کا تعلق ہے تو جنگ چھڑنے کے فوری بعد یہ خبر پوری دنیا کے سامنے آ چکی تھی کہ اسرائیل نے ایران کی فوجی قیادت کے ساتھ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنائی کو بھی ٹارگٹ کرنے کا پلان بنایا تھا مگر ٹرمپ نے روک دیا۔ دوسری بار ٹرمپ نے خود اعلان کیا کہ انہیں علم ہے کہ آیت اللہ خامنائی کہاں چھپے ہوئے ہیں لیکن ہم انہیں نشانہ نہیں بنائیں گے۔ اسی دوران ٹرمپ اور نتن ہاہو ایران میں رجیم چینج کے اشارے بھی دیتے رہے ہیں۔ اب سب سے اہم سوال یہ کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل ہے؟ کیا ٹرمپ کی باتوں پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟

مزیدخبریں