نیت، حرص اور ہوس

10:06 AM, 26 Jun, 2025

چوپال میںآج ریاض بھائی(فرضی نام) آئے۔۔نتھو ،پھتو نے ان کو دیکھتے ہیں کہاکہ ۔۔۔ریاض بھائی آج کیسے اس طرف آگئے۔ ریاض بھائی نے کہا۔۔بھائی نتھو اور پھتو۔۔ مصروفیت میں وقت ہی نہیں ملتا۔۔ آج دل کیا تو ادھر کا رخ کرلیا۔۔۔ اتنے میں چپ سائیں بھی آگئے۔۔۔ چپ سائیں ریاض بھائی سے بغل گیر ہوئے اور مسکرا کرحال احوال دریافت کیا۔۔۔ ریاض بھائی نے کہا ۔۔۔ سائیں جی یوں تو بھلا چنگا ہوں ہوں لیکن آج میں اپنے ایک جاننے والے سیٹھ صاحب کے بیٹوںکی بپتا سنانے آیا ہوں اگر اجازت ہو تو سنائوں۔۔۔ چپ سائیں نے کہاکہ ضرور ضرور!۔۔۔ریاض بھائی بولے ۔۔۔میرے چوپال کے دوستو !۔۔۔میرے ایک جاننے والے کاروباری دوست کے دو بیٹے تھے۔۔۔ انہوں نے چھوٹے پیمانے سے کاروبار شروع کیا۔۔۔ پھر خوب برکت ہوئی۔۔۔ کاروبار چمکا۔۔۔ ان کے دو بیٹے بھی الگ الگ کاروبار سنبھالنے لگے۔۔۔ پر۔۔ اس پر سب متوجہ ہوگئے اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔۔ریاض بھائی دوبارہ بولے۔۔۔ دونوں بیٹوں میں بڑے کا نام حارث (فرضی )اور چھوٹے کا نعمان(فرضی) تھا۔ حارث ہمیشہ اپنے بھائی کو مشورہ دیتا کہ ''صدقہ دو، لوگوں کی مدد کرو، نفع میں شکر ادا کرو۔''
نعمان بظاہر بھائی کی باتوں سے اتفاق کرتا، لیکن اندر سے وہ صرف دولت سمیٹنے کا خواہشمند تھا۔ وہ ہر خیرات میں نام لکھوا لیتا، غریبوں کے ساتھ تصویر بنواتا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کی نیت میں کھوٹ تھا وہ صرف شہرت چاہتا تھا۔ایک دن قحط سالی والی کیفیت ہوگئی۔حارث نے اپنا اناج کا گودام کھول دیا اور کہا، جو ضرورت مند ہے، آ کر لے جائے۔نعمان نے بھی گودام کھولا، لیکن قیمت تین گنا بڑھا دی۔ لوگ مجبوری میں خریدنے لگے، اور وہ خود کو ''مددگار'' کہلوانے لگالیکن جلد ہی لوگوں کو حقیقت معلوم ہو گئی۔پھر۔۔۔ گاؤں کے بزرگوں نے اعلان کیا اب کوئی وہاں نہیں جائے گا۔نتیجہ یہ نکلا کہ حارث کونیک نامی ملی اور نعمان کو بدنامی۔دوستو!جس کی نیت میں کھوٹ ہو، اس کی مدد بھی بوجھ بن جاتی ہے ناں!۔
 سائیں جی میرا مدعا نیت، حرص اور ہوس ہے۔ اب آپ اس بارے میں کچھ بتائیں۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ بھائی دوستو ریاض بھائی نے آج بہت اچھی جگ بیتی سنائی۔۔۔ میں آپ سے اس بارے میں تفصیل سے بات کروں گا۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔بھائی دوستو !نیت وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے ہر عمل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی خراب ہو، تو چاہے عمارت کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، وہ گرنے کے قریب ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانی کردار اور عمل کا دارومدار اس کے باطن یعنی دل کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ دل میں اٹھنے والے ارادے ہی انسان کے نیکی یا بدی کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ انہی ارادوں کو ہم ''نیت'' کہتے ہیں۔ نیت اگر پاکیزہ ہو تو عمل عبادت بن جاتا ہے، اور اگر نیت میں کھوٹ ہو تو وہی عمل ریاکاری یا دنیا پرستی کا روپ دھار لیتا ہے۔ نیت کے ساتھ ساتھ انسان کے دل میں پیدا ہونے والی دیگر کیفیات، جیسے حرص اور ہوس، بھی اس کے اعمال و اخلاق پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
ریاض بھائی اگر کوئی شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے صدقہ دے یا عبادت کرے، تو وہ عمل ریاکاری شمار ہوگا، جبکہ وہی عمل اگر خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، تو وہ عمل قابل قبول اور باعث اجر بن جاتا ہے۔
حرص کا مطلب ہے کسی شے کی لالچ میں حد سے بڑھ جانا۔ یہ دولت کی ہوس بھی ہو سکتی ہے، عہدے کی طلب بھی، یا شہرت کی بے جا خواہش۔۔۔ حرص انسان کو بے چین کر دیتی ہے اور اسے اس کی موجودہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے روکتی ہے۔بھائی دوستو!حرص کی وجہ سے انسان دوسروں کا حق مارنے لگتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، اور بعض اوقات حرام رزق کمانے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔ حرص وہ بیماری ہے جو دل کو اندھا کر دیتی ہے اور انسان کو ہمیشہ نامکمل اور نا آسودہ رکھتی ہے۔اب میں ایک اور’’ بیماری‘‘ ہوس کی بات کروں گا جو حرص کی انتہا ہے۔ یہ ایک ایسی بے قابو خواہش ہوتی ہے جو انسان کو ہر حد، ہر قانون، اور ہر اخلاقی اصول کو توڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہوس صرف جنسی خواہشات تک محدود نہیں، بلکہ یہ طاقت، دولت، شہرت یا کسی بھی دنیوی فائدے کے حصول میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔
ہوس انسان کو شیطانی راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ ظلم، فحاشی، بدعنوانی، دھوکہ دہی اور دیگر برائیوں کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ ایک شخص جو ہوس کا غلام بن جائے، وہ دوسروں کے جذبات، عزت، حتیٰ کہ جان تک کو خاطر میں نہیں لاتا۔نیت، حرص اور ہوس کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ نیت انسان کے دل کا ابتدائی رجحان ہے، جو اگر اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن جب نیت میں دنیا کی محبت یا ذاتی مفاد شامل ہو جائے، تو حرص پیدا ہوتی ہے۔ اور جب حرص قابو سے باہر ہو جائے تو وہ ہوس میں بدل جاتی ہے۔یوں نیت کی خرابی انسان کو حرص کی طرف لے جاتی ہے۔
صاحبو!اسلام انسان کو تزکیہ نفس (اپنے نفس کو پاک کرنے) کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن اور سنت کی روشنی میں ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر عمل سے پہلے نیت کو درست کرے۔قناعت، صبر اور شکر کی روش اپنائے ۔حق اور سچ کی بات یہ ہے کہ ایک مخلص نیت انسان کو جنت کے راستے پر ڈال سکتی ہے، جبکہ حرص اور ہوس انسان کو پستی اور بربادی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی نیت کو خالص رکھے، حرص سے بچے اور ہوس پر قابو پائے۔ یہی ایک بااخلاق، باکردار اور باایمان انسان کی پہچان ہے۔
میرے چوپال کے دوستو اور ریاض بھائی قصہ مختصرنیت وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے ہر عمل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی خراب ہو، تو چاہے عمارت کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، وہ گرنے کے قریب ہوتی ہے۔بچو میری بات ہمیشہ یاد رکھنا’’نیت کا کھوٹ‘‘ زندگی کا اصول ہے۔ کسی کا سچا یا جھوٹا ہونا، اس کی نیت سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی بظاہر نیکی کر رہا ہو، مگر دل میں فریب، شہرت یا فائدہ ہو، تو وہ نیکی نہیں، خود غرضی ہے۔معاشرتی سطح پر بھی جب نیت کھوٹی ہو تو تعلقات کمزور، وعدے کھوکھلے اور اعتماد ناپید ہو جاتا ہے۔نیت صاف ہو تو چھوٹا عمل بھی بڑا شمار ہوتا ہے، اور اگر نیت میں کھوٹ ہو، تو بڑا کارنامہ بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔۔۔سو۔۔۔نیت ٹھیک رکھیں، عمل بھی ٹھیک ہوگااور کامیابی مقدر چومے گی۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا۔

مزیدخبریں