اسرائیلی وزیر اعظم کی سستی کاپی مودی

10:02 AM, 26 Jun, 2025

اس میں حقیقت ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ بھٹو خاندان کی نسل کو خارجی امور میں مہارت ورثے میں ملی ہے تو غلط نہ ہو گا، اسکا ثبوت تاریخ دیتی ہے چاہے کسی کو کتنا ہی اعتراض ہو (وہ سیاسی امور میں ہو سکتا ہے) مگر شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید بے نظیر بھٹو جنہیں انکے والد نے اپنے دور حکومت میں ہی بیرونی دنیا اور عالمی امور سے روشناس کرا دیا وہ بے نظیر بھٹو کو عالمی دوروں، غیر ملکی سربراہان کے ساتھ ملاقاتوں میں ساتھ رکھتے تھے۔ جون 1977 میں، آکسفورڈ سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آنے پر، بے نظیر بھٹو کو وزارت خارجہ میں ایک عہدے پر مقرر کیا گیا۔ یہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کے وزیراعظم اور صدر کے دور میں تھا۔ تاہم، صرف دو ہفتے بعد ہی، جنرل ضیاء نے اقتدار پر قابض ہونے کیلئے مارشل لا لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے علیحدہ کر دیا بعد ازاں اپنے سیاسی کیرئیر میں، شہید بے نظیر نے خود وزیر اعظم بننے کے بعد (1988-1990 اور 1993-1996) خارجہ پالیسی اور وزارت خارجہ کی نگرانی کی۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے باضابطہ وزرائے خارجہ مقرر کیے شائد وہ وزراء خارجہ ماہر ہونگے مگر انکی نگرانی براہ راست محترمہ کرتی رہیں۔ مئی کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں کئی وجوہات کی بنا پر لکھا جائیگا چاہے وہ 9 مئی کی دہشت گردی ہو یا مئی کے مہینے میں پاکستان پر الزام تراشی کر کے ہمیشہ کی طرح ہم پر میلی آنکھ رکھتے ہوئے نشانہ لگائے بے جے پی سرکار، جسے ہمیشہ کی طرح مگر بہتر انداز میں حالیہ فیلڈ مارشل نے انکا مقام دکھا دیا۔ وہ چیخیںمارتے رہے کہ جیسے وہ کہتے تھے کہ پاکستان ایک بھوکا ملک ہے، دہشت گردی کراتا ہے، مقروض ہے وغیرہ وغیرہ اس نے چشم زدن میں دن میں چاند تارے دکھا دئیے۔ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ پہلگام میں دہشت گردی کا بھارت ڈرامہ کر کے دنیا کے سامنے رو رہا ہے۔ وہاں وہ غیر جانبدار تحقیقات کیوں نہیں کراتا تا کہ معلوم ہو جائے کہ سچ کیا ہے؟؟ مگر بھارت نے ایسا نہیں کیا یہاں تک کہ بھارتی عوام، دانشوروں کے شدید مطالبوں کے باوجود وہ نام نہاد پہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوںکو منظر عام پر نہیں لا سکا، وہ لے آتا تو انکا حشر بھی وہی ہوتا جو 2008ء کے بمبئی حملوں کا نتیجہ ہوا تھا کہ ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ کچھ عرصے بعد انکے ہی سکیورٹی افسران بول پڑے کہ وہ ہم نے خود منظم کیا تھا۔ بھارت پاکستان سے بہت بڑا ملک ہے، اسکی معیشت بہت بڑی ہے، فوجی نفری زیادہ ہے (میں یہاں نفری کا لفظ اسلئے استعمال کر رہا ہوںکہ فوجی طاقت اور نفری میں بہت بڑا فرق ہے طاقت کیلئے ہمت اور ایمانداری ضروری ہے جسکا وہاں فقدان ہے) بھارت کی بڑی معیشت کی بنا پر دنیا کے بیشتر ممالک میں تجارت زیادہ ہے اور آج کی دنیا میں مفادات کو زیادہ وقعت دی جاتی ہے۔ پہلگام واقعہ پر بہت زیادہ شور مچایا گیا اسلئے ضروری تھا کہ دنیا کو اصل واقعات سے آگاہ کیا جائے وزیر اعظم کی نظر بلاول بھٹو کی خاندانی تربیت اور عالمی معاملات پر شاندار معلومات پر پڑی اور پاکستان نے ایک وفد تیار کیا، چونکہ اتحادی حکومت ہے اسلئے اتحادی جماعتوںکو بھی وفد میں شامل کرنا ضروری تھا نیز وہ آواز پورے پاکستان، پورے ملک کی آواز سمجھی جاتی ہے، بھارت نے بھی ایک وفد تیار کیا، مگر دنیا نے دیکھا کہ بلاول بھٹو کے وفد کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان کو جو حمایت حاصل ہوئی، پاکستان کا موقف دنیا نے سنا۔ بھارتی وفد اپنے ملک کیلئے وہ حمایت حاصل نہ کر سکا، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، معیشت کمزور ہے مگر ہمارا موقف شاندار اور مضبوط ہے، چاہے کشمیر ہو یا کوئی اور معاملہ۔ ہماری وزارت خارجہ کے ’’بابو‘‘ کوئی بھی کارکردگی دکھائیں پاکستانی موقف کو ہر جگہ، ہر ملاقات، ہر فورم پر فیلڈ مارشل بھی دنیا کو آگاہ کرتے ہیں یقینی بات ہے کہ وہ بھی ایک مضبوط آواز ہے جسے سنا جاتا ہے ۔ پاکستانی وفد نے بلاول بھٹو کی قیادت میں 30 مئی سے 9 جون تک امریکہ، یورپی ممالک کا دورہ کیا جس میں ان ممالک کے اراکین پارلیمنٹ، تھنک ٹینک سے خطاب کیا اور حالیہ پاک بھارت معاملے، پانی پر غیر قانونی بندش کے حوالے سے دنیا کی حمایت حاصل کی۔ بلاول نے امریکی قانون سازوں اور حکام پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ پائیدار امن مذاکرات کی حمایت کریں۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ بندی کو ایک وسیع تر تصفیے کی طرف لے جانا چاہیے، خاص طور پر کشمیر پر۔ انہوں نے بھارت پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے پانی کو ہتھیار بنانے کا الزام لگایا۔ اس عمل کو ایک وجودی خطرہ قرار دیا جس سے 240 ملین پاکستانی متاثر ہو سکتے ہیں دونوں ممالک میں زمینی اور فضائی فاصلہ کم ہے، دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں انہیں جنگ و جدل، الزام تراشی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے کوئی راستہ نکالنا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ جنگ بندی (سیز فائر) کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا کھنچائو قائم رہتا ہے اور جنگ کا لاوا کبھی بھی پھٹ سکتا ہے، انہوں نے کشیدگی کم کرنے میں صدر ٹرمپ اور سینیٹر مارکو روبیو کے کردار کو سراہا۔ امریکہ پر زور دیا کہ وہ باضابطہ بات چیت کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور ہندوستان کی جارحیت کو روکے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، حالانکہ بھارتی پروپیگنڈے سے مانوس امریکی قانون سازوں نے پاکستان پر جیش محمد جیسے گروپوں کو ختم کرنے اور انسانی حقوق، خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ بلاول نے ایسے لوگوں کو بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی بھی پڑوس کی سربراہی میں ہے جس میں دہشت گردوںکو 
رقم، اسلحہ کی فراہمی شامل ہے پاکستانی عوام اور سکیورٹی اہل کار ہزاروں کی تعداد میں ہزاروں دہشت گرد حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ان دہشت گرد حملوںکے تانے بانے پڑوس میں ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے اس سے نہ صرف ہمارے لوگوںکی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ ہماری معیشت، بیرونی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا ہے اور تاحال پہنچ رہا ہے مگر ہماری عسکری قیادت دہشت گردوں کے مٹانے کیلئے دن رات کوشاںہے۔ انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دوران ملاقات ہر جگہ مغرب کی خاموشی پر تنقید کی، بلاول نے بیرون ملک ملاقاتوں میں واضح الفاظ میں کہا کہ پہلگام واقعہ میں پاکستان کا بالکل کوئی کردار نہیں۔ 36 سالہ نوجوان بلاول بھٹوکی ملاقاتوں میں، اقدام میں اپنے نانا اور اپنی والدہ کا چہرہ نظر آتا ہے۔ بھارت کی پاکستان پر الزام تراشیوں، ہمیشہ سازش کرنا، جنگ میں دھکیلنے کی کوششیں کرنا بالکل ویسا ہی ہے جو خلیجی ممالک میں بینجمن نیتن یاہو کا ہے اسلئے بلاول نے کہا کہ برصغیر میں بھی میں مودی کی شکل میں اسرائیلی وزیر اعظم کی ایک سستی کاپی موجود ہے۔

مزیدخبریں