سپریم کورٹ کا نیب دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ: عدالتی ضبط،  آئینی توازن اور قانون کی حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت

10:46 AM, 26 Jul, 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظہر نے کی، کا حالیہ فیصلہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد آنے والے اہم ترین آئینی فیصلوں میں شمار کیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب آرڈیننس، 1999 میں نئی شامل کی گئی دفعہ 32A کے تحت پارلیمنٹ کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت کو دیے گئے دوسرے اپیلٹ دائرہ اختیار کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف ایک اہم آئینی اور قانونی تنازع کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے بلکہ پاکستان کے نئے آئینی و عدالتی ڈھانچے کو عملی طور پر نافذ بھی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ محض احتسابی قوانین تک محدود نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی آئینی حدود میں قانون سازی کی صلاحیت، عدالتی ضبط ،اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ فیصلہ اس بنیادی آئینی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ ہر عدالت کا اختیار صرف آئین اور قانون سے جنم لیتا ہے، نہ کہ ماضی کی عدالتی روایت، ادارہ جاتی ترجیحات یا فریقین کی سہولت سے۔
یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پارلیمنٹ نے قومی احتساب (ترمیمی) ایکٹ، 2025 منظور کیا، جس کے ذریعے جنوری 2026 سے قومی احتساب آرڈیننس، 1999 میں دفعہ 32A شامل کی گئی۔ اس دفعہ کے مطابق ہائی کورٹس کی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 32 کے تحت دیے گئے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہوگی۔ تاہم اس نئے اپیلی نظام کی آئینی حیثیت اور یہ سوال کہ آیا ایسی اپیلیں بدستور سپریم کورٹ میں دائر ہوں گی یا نہیں، ایک اہم آئینی بحث کا باعث بن گیا۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس سوال کا حتمی اور مستند جواب فراہم کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے بجا طور پر قرار دیا کہ پارلیمنٹ نے اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے قانون سازی کی۔ عدالت نے اس مسلمہ اصول کی دوبارہ توثیق کی کہ حقِ اپیل کوئی بنیادی آئینی حق نہیں بلکہ ایک قانونی (Statutory) حق ہے، جسے تخلیق کرنا، اس کی حدود مقرر کرنا، اس میں توسیع یا ترمیم کرنا یا اسے کسی دوسرے عدالتی فورم کو منتقل کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے، جب تک کہ آئین اس کے برعکس کوئی واضح پابندی عائد نہ کرے۔ آئین کے آرٹیکل 142 اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق آرٹیکل 191A کے تحت پارلیمنٹ نے مکمل آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کو قومی احتساب آرڈیننس کے تحت دوسری اپیلوں کا مجاز فورم قرار دیا، جسے سپریم کورٹ نے آئین کے مطابق درست تسلیم کیا۔
اس فیصلے کے عملی نتائج نہایت دور رس اور فوری نوعیت کے ہیں۔ اب قومی احتساب آرڈیننس کے تحت تمام دوسری اپیلیں، جن میں سزا، بریت، ضمانت، سزا کی معطلی اور دفعہ 32A کے تحت آنے والے تمام ضمنی اور متعلقہ معاملات شامل ہیں، وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔ اس فیصلے نے آئینی ترامیم کے بعد پیدا ہونے والی قانونی غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ کر دیا ہے، احتسابی مقدمات کے لیے واضح عدالتی راستہ متعین کر دیا ہے اور اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ ایسے مقدمات اسی آئینی فورم پر چلیں جسے پارلیمنٹ نے قانون کے ذریعے مقرر کیا ہے۔
اس فیصلے کا ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کے آئینی دائرہ اختیار کو واضح طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے عملی طور پر نافذ کیا ہے۔ دفعہ 32A کو مکمل قانونی اثر دیتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ وفاقی آئینی عدالت محض ایک قانونی تصور نہیں بلکہ آئین کے تحت قائم ایک مستقل آئینی ادارہ ہے، جو اپنے لیے مخصوص آئینی اور قانونی دائرہ اختیار استعمال کرے گا۔ یہ ایک خوش آئند آئینی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دونوں آئین کے تحت قائم الگ الگ آئینی عدالتیں ہیں، جن کا دائرہ اختیار بھی الگ اور مخصوص ہے۔ ان کے درمیان تعلق مسابقت (Competition) کا نہیں بلکہ آئینی تکمیل (Complementarity) کا ہے اور آئینی ہم آہنگی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ہر عدالت اپنے آئینی دائرہ اختیار تک محدود رہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ایک اور بنیادی آئینی اصول کی بھی توثیق کی ہے کہ دائرہ اختیار کسی عدالت کی سابقہ روایت، انتظامی سہولت، عدالتی ترجیح یا فریقین کی رضامندی کی بنیاد پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ہر عدالت صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو آئین یا قانون اسے عطا کرتا ہے۔ جب پارلیمنٹ کسی مخصوص نوعیت کے مقدمات کے لیے کسی خاص عدالت کو اختیار دے دے تو تمام عدالتیں آئینی طور پر اس قانون کا احترام کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ یہی اصول آئینی حکمرانی کی بنیاد ہے اور اسی سے قانونی یقین ( Legal Certainty) پیدا ہوتا ہے کہ عدالتوں کا اختیار قانون سے متعین ہوگا، نہ کہ ادارہ جاتی خواہشات سے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی فقہ کے ارتقاءکی بھی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سپریم کورٹ نے عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ عدالتی فعالیت نے حکومتی احتساب، عوامی مفاد کی آئینی درخواستوں اور بنیادی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، تاہم اسی کے ساتھ یہ سوال بھی شدت سے اٹھا کہ عدالتی اختیار کی آئینی حدود کیا ہیں اور مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان آئینی توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔
پاکستان کا آئین اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصول پر قائم ہے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے، انتظامیہ ان قوانین پر عمل درآمد کرتی ہے جبکہ عدلیہ آئین اور قوانین کی تشریح اور نفاذ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ عدالتیں بلاشبہ آئین کی محافظ اور بنیادی حقوق کی نگہبان ہیں، لیکن آئین کا تحفظ عدالتوں کو قانون سازی کا اختیار نہیں دیتا۔ عدالتیں قوانین کی تشریح کرتی ہیں، ان کی جگہ نئے قوانین نہیں بناتیں، نہ ہی وہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کی جگہ اپنی ترجیحات مسلط کر سکتی ہیں یا اپنے دائرہ اختیار میں ازخود اضافہ کر سکتی ہیں۔ ان کا اختیار صرف وہی ہے جو آئین اور قانون نے انہیں عطا کیا ہے۔آئینی اختیارات کی حدود سے متعلق یہ بحث پاکستان کی متعدد اہم آئینی نظیروں میں نمایاں طور پر سامنے آئی، جن میں آرٹیکل 63A کی تشریح، آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت تاحیات نااہلی، فوجی عدالتوں کے مقدمات اور مخصوص نشستوں کا فیصلہ شامل ہیں۔ ان فیصلوں نے نہ صرف پاکستان کے آئینی اور سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ عدالتی نظرثانی کی حدود اور آئینی تشریح کے دائرہ کار پر وسیع علمی، قانونی اور عدالتی مباحث کو بھی جنم دیا۔ متعدد آئینی ماہرین اور قانونی حلقوں کی رائے تھی کہ بعض مواقع پر آئینی تشریح اپنے روایتی دائرے سے آگے بڑھتی ہوئی دکھائی دی، جہاں عدالت نے آئینی متن میں ایسے الفاظ، نتائج یا پابندیاں شامل کیں جو آئین میں صراحتاً موجود نہیں تھیں اور جن کا تعین بنیادی طور پر پارلیمنٹ کا اختیار تھا۔
بعد ازاں ہونے والی آئینی اور قانونی پیش رفت بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ آرٹیکل 63A کی تشریح کو بعد میں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ اسی طرح آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت تاحیات نااہلی کے اصول میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے ترمیم کی، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نظرثانی کی کارروائی میں دوبارہ زیر غور آیا، جبکہ فوجی عدالتوں سے متعلق آئینی سوالات بھی بڑے آئینی بینچوں کے سامنے دوبارہ زیر سماعت آئے۔ یہ تمام پیش رفت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ آئینی فقہ ایک ارتقائی عمل ہے، جو پارلیمنٹ، آئینی ترامیم اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین مسلسل آئینی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔
پاناما پیپرز کیس اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سزا کا مقدمہ نسبتاً مختلف آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔ دیگر کئی متنازع آئینی تشریحات کے برعکس ان فیصلوں کو نہ بعد کی قانون سازی اور نہ ہی نظرثانی کے فیصلوں نے اسی انداز میں تبدیل کیا۔ تاہم پاکستان کی آئینی تاریخ کا وسیع تر سبق یہی ہے کہ آئینی فیصلوں کی پائیداری اور قانونی قبولیت اسی وقت زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب وہ آئینی متن، پارلیمنٹ کی منشا اور اختیارات کی آئینی تقسیم کے اصول سے مکمل ہم آہنگ ہوں۔
اسی آئینی پس منظر میں قومی احتساب آرڈیننس کے اپیلی دائرہ اختیار سے متعلق حالیہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ عدالتی اختیار میں توسیع کا فیصلہ نہیں بلکہ آئینی حدود کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ہے۔ سپریم کورٹ نے ماضی کی عدالتی روایت یا ادارہ جاتی سہولت کی بنیاد پر اختیار برقرار رکھنے کے بجائے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے قائم کیے گئے نئے آئینی ڈھانچے کا احترام کیا ہے۔ عدالت نے یہ اصول تسلیم کیا ہے کہ جب پارلیمنٹ آئین کے مطابق کسی قانونی حق کو تخلیق کرے یا کسی مخصوص اپیلی فورم کا تعین کرے تو عدالتوں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون پر عمل کریں، الا یہ کہ وہ کسی واضح آئینی ممانعت سے متصادم ہو۔
اسی طرح اس فیصلے کا ایک اور اہم پہلو وفاقی آئینی عدالت کے آئینی کردار کا عملی اعتراف ہے۔ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 32A کو مکمل قانونی اثر دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت ایک مستقل آئینی ادارہ ہے جو آئین اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے مطابق اپنا مخصوص دائرہ اختیار استعمال کرے گی۔ اس فیصلے نے وفاقی آئینی عدالت کی آئینی حیثیت کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ کرتے ہوئے یہ اصول مستحکم کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دونوں آئینی عدالتیں ہیں، مگر ان کا دائرہ اختیار الگ اور منفرد ہے۔ ان کے درمیان تعلق مسابقت کا نہیں بلکہ آئینی ہم آہنگی اور تکمیل کا ہے، اور یہی اصول مو¿ثر، منظم اور مستحکم عدالتی نظام کی بنیاد ہے۔
اس فیصلے کے عملی اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس کے تحت ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف تمام دوسری اپیلیں، خواہ وہ سزا، بریت، ضمانت، سزا کی معطلی یا دفعہ 32A کے تحت آنے والے دیگر ضمنی معاملات سے متعلق ہوں، اب وفاقی آئینی عدالت میں ہی دائر اور سماعت کے لیے مقرر ہوں گی۔ اس سے نہ صرف دائرہ اختیار سے متعلق تمام ابہام ختم ہو گیا ہے بلکہ متوازی عدالتی کارروائیوں کی بھی روک تھام ہوگی اور احتسابی قوانین کی یکساں تشریح کو فروغ ملے گا۔
سپریم کورٹ کا تقریباً 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ اور اس کے ساتھ دیا گیا اضافی نوٹ ایک اور بنیادی آئینی اصول کو بھی تقویت دیتا ہے کہ عدالتیں آئین کی محافظ ہیں، مقننہ کا متبادل نہیں۔ عدالتوں کی آئینی ذمہ داری آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کا تحفظ اور ریاست کے ہر ادارے کو اس کی آئینی حدود میں رکھنا ہے۔ عدالتیں نہ تو قوانین کو ازسرِنو مرتب کر سکتی ہیں، نہ نیا دائرہ اختیار تخلیق کر سکتی ہیں اور نہ ہی تشریح کے نام پر قانون سازی کر سکتی ہیں۔ عدالتی نظرثانی یقیناً آئین کا بنیادی جزو ہے، لیکن اس اختیار کا استعمال بھی آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی قابلِ تحسین ہے کہ اس نے آئینی اصولوں کی طرف واپسی کی راہ ہموار کی ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کے آئینی اختیارِ قانون سازی کا احترام کیا گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق آئینی ترامیم کو عملی شکل دی گئی ہے اور اس بنیادی اصول کی توثیق کی گئی ہے کہ ہر عدالت کا اختیار صرف آئین اور اس کے تحت بنائے گئے قانون سے پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ نے پاکستان کے آئینی نظام کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کا یہ فیصلہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد پاکستان کی آئینی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں شمار کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے ادارہ جاتی توازن کو بحال کیا، عدالتی ضبط کو فروغ دیا، پارلیمنٹ کی آئینی حدود میں قانون سازی کے اختیار کا احترام کیا اور قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر اس فیصلے نے وفاقی آئینی عدالت کو ایک مو¿ثر آئینی ادارے کے طور پر عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے یہ اصول مضبوط کیا ہے کہ ہر آئینی عدالت صرف وہی اختیار استعمال کرے گی جو آئین نے اسے عطا کیا ہے۔ اگر مستقبل میں بھی آئینی مقدمات کا فیصلہ اسی آئینی فلسفے کے تحت کیا جاتا رہا تو پاکستان کی آئینی فقہ زیادہ مستحکم، قابلِ پیش گوئی، آئینی متن سے ہم آہنگ اور ادارہ جاتی توازن پر مبنی ہوگی۔ یہی آئینی جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے کہ ریاست کا ہر ستون اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے اختیارات کا احترام کرے اور آئین کی بالادستی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ 

مزیدخبریں