ایک زمانہ تھا جب پاکستانی فلم مقامی سطح پر کافی مقبول تھی اور خطے میں بھی اپنی پہچان رکھتی تھی۔ پھر وہ وقت آیا جب تخلیق کا عمل محدود ہو گیا۔ فلم سٹوڈیو ز ویران ہوگئے۔ سینما گھر بند ہونے لگے۔ اس صورتحال کو ہم زوال یا ڈھلوان کا سفر کہیں تو بے جا نہیں ہو گا۔ایسا نہیں ہے کہ اس سارے عرصے میں سینما اور فلم انڈسٹری کے احیا ء کی کاوشیں نہیں ہوئیں۔یقینا بہت سے لوگوں نے فلم انڈسٹری کی بہتری کیلئے مقدور بھر کوششیں کیں ۔ اس کے باجود انڈسڑی پہلے جیسا عروج اور مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس وقت بھی سینما اور انڈسٹری کے احیا ء کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کچھ پڑھے لکھے نوجوان بھی نئے تجربات کر رہے ہیں۔ کچھ اچھی فلمیں بنی ہیں اور ان سے سینما کی رونق بحال ہوئی ہے۔تاہم ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے ۔تعلیمی اداروں کی توجہ درکار ہے۔ اور عوام کی دلچسپی بھی ضروری ہے
خاص طور پرنوجوان نسل کو اس صنعت کی اہمیت سمجھانے اور ان کو اس شعبے کی طرف راغب کرنے کیلئے لازم ہے کہ انہیں کچھ اچھے پلیٹ فارم مہیا ہوں۔جہاں وہ کام سیکھیں اور اپنا ہنر آزما سکیں۔ مثال کے طور پر بیحد ضروری ہے کہ ہمارے ہاں فلم اکیڈمیاں قائم ہوں۔ نوجوانوں کیلئے فنڈنگ دستیاب ہو۔ عمدہ فلمی میلو ں کا انعقاد ہو۔ وغیرہ وغیرہ ۔مشکل یہ ہے کہ یہ سب سہولیات یہاں شاذ و نادر ہی دستیاب ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں جامعات میں زیر تعلیم اور فارغ التحصیل نوجوان فلم میکر فلمیں بنا رہے ہیں ، لیکن وہ ان فلموں کو کہاں دکھائیں؟۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں فلمی میلوں یا فیسٹیولز کی روایت بھی نا ہونے کے برابر ہے۔ اس صورتحال میں جامعہ پنجاب مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے ایک سالانہ فلم فیسٹیول کی روایت ڈال دی ہے۔ اگرچہ کچھ نجی جامعات برسوں سے فلمی میلوں کا انعقاد کروا رہی ہیں ۔ تاہم جامعہ پنجاب کے دیکھو فلم فیسٹیول کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک قومی سطح کے فیسٹیول کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ میں چونکہ اس میلے کی انتظامی ٹیم کا حصہ تھی۔ اس لئے کچھ معاملات سے بخوبی آگاہ ہوں۔ یہ امر یقینا حوصلہ افزاء ہے کہ کسی سرکاری جامعہ نے ایک ایسا فلم فیسٹیول منعقد کیا ہے جس کی باز گشت قومی سطح پر سنائی دی ہے۔ یہ یقینا کوئی عام بات نہیں ہے۔ جامعہ پنجاب پر برسوں سے ایک ایسی چھاپ لگی تھی جس میں کسی فلم فیسٹیول کی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی۔اس تناظر میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے اس اقدام کی تعریف ہونی چاہیے کہ پنجاب حکومت کی فلم اور ثقافت کی ترویج سے متعلق پالیسی کے عین مطابق انہوں نے اس فیسٹیول کی بھرپور سرپرستی کی ۔
دیکھو فلم فیسٹیول میں پاکستان بھر سے 175 فلمیںموصول ہونا نہایت حوصلہ افزاء ہے۔ نوجوانوں کے کام کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ان میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔ یہ بچے اپنے محدود تجربے اور وسائل کے باوجود اچھا کام کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچیں، اگر انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہو جائے، اچھے تربیت یافتہ فلم ساز اور ہدایت کاروںکی راہنمائی میسر آجائے تو یہ کتنا آگے جا سکتے ہیں۔فیسٹیول میں شامل بہت سے نوجوان اس بات پربے حد خوش تھے کہ ان کا کام الحمرا ء جیسے اہم ادارے میں بڑی سکرین پر چل رہا ہے۔ سید نو ر اور شہزاد رفیق صاحب جیسے نامور ہدایت کار ان کا کام دیکھنے ، انہیں تھپکی دینے اور ان کے کام پر تالی بجانے کیلئے موجود ہیں۔ ان نوجوانوں کی کیفیت کا اندازہ کیجئے جن کی فلمیں موصول ہونے والی 175 فلموں میں سے منتخب ہو کر بڑی سکرین پر چلیں ۔ ، ان فلم میکروں کا حوصلہ کتنا بڑھ گیاہوگا۔ ان نوجوانوں کی خود اعتمادی کا بھی اندازہ کیجئے جن کی فلموں نے مختلف کیٹیگریز میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کی ہیں، اور جنہوں نے ملک کی نامور شخصیات کے ہاتھوں انعامات وصول کئے ہیں۔ دراصل یہی ایک اچھے پلیٹ فارم کا مقصد ہوتا ہے۔
معروف فلم ڈائریکٹر سید نور صاحب اور شہزاد رفیق صاحب کی تعریف ہونی چاہیے جو اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر اس فیسٹیول میں دونوں دن موجود رہے۔ نوجوانوں کے کام کو سراہتے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ معروف فوک گلوکار عارف لوہار، معروف لکھاری خلیل الرحمن قمر اور آمنہ مفتی، گلوکار جواد احمد، کامیڈین ہنی البیلا اور دیگر فنکار وں نے اس میلے کی رونق کو چار چاند لگا دئیے۔ فلم اور ڈرامہ کی معروف اداکارہ سونیا حسین نے بھی اس فیسٹیول میں بطور خاص شرکت کی۔ سونیا حسین نے حال ہی میں ماسکو میں ایک بڑا ایوارڈ ُٰؓٓجیتاہے۔ شہزا د رفیق صاحب نے بتایا کہ ماضی میں معروف اداکارہ صبیحہ حانم نے ایک مرتبہ بیرون ملک ایک ایوارڈ جیتا تھا۔ ان کے بعد اب سونیا حسین نے ماسکو میںایوارڈ جیتا ہے۔ یہ یقینا پاکستان کے لئے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔ فیسٹیول میں پیمرا کے چیئر مین اور ایگزیکٹو ممبر بیرسٹر اسکندر رشید چوہدری بھی موجود تھے۔ ان تمام معروف شخصیات کی موجودگی میں فلم فیسٹیول واقعتا ایک فلمی میلہ لگ رہا تھا۔فیسٹیول کے دونوں دن نوجوانوں کو ان شخصیات سے گفتگو کرنے اور ان کیساتھ تصاویر لینے کے مواقع میسر تھے ۔ دیکھو فلم فیسٹیول میں معروف ڈرامہ رائٹر فصیح باری خان اور افتخار احمد عثمانی نے اسکرین رائٹنگ اور ایکٹنگ پر تربیتی ورک شاپس کروائیں ۔ ٹیلی ویژن کی معروف اینکر فریحہ ادریس نے پاکستانی سینما اور فلم پر ایک نہایت فکر انگیز مباحثے کی میزبانی کی۔ معروف شاعر فرحت عباس شاہ کی صدارت میں ایک عمدہ مشاعرہ بھی برپا ہوا۔ مشاعرے کے دوران بھی ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پتہ یہ چلا کہ ہمارے نوجوان اچھی شاعری سننا اور داد دینا بھی جانتے ہیں۔ فیسٹول کے آغاز اور اختتامی تقریب میں جامعہ پنجاب کی میوزک سوسائٹی کے بچوں نے موسیقی پیش کی۔
اس طرح کے فیسٹول اس لئے ضروری ہیں کہ یہ نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں کہ وہ اپنا کام عوام کے سامنے رکھ سکیں۔ اس طرح نوجوانوں میں خود اعتمادی آتی ہے اور ان کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ دوسروں کا کام دیکھ کر ، معروف شخصیات کی گفتگو سن کر بھی انہیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو مثبت تفریح کے مواقع میسر نہیں ہیں۔ لازم ہے کہ اس طرح کی تفریح کے مواقع انہیں ملتے رہیں۔ الحمراء آرٹس کونسل لاہور ویسے بھی مثبت سرگرمیوں کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ دیکھو فیسٹیول بھی الحمراء کے تعاون سے منعقد ہوا۔ اس کی کامیابی پر الحمراء اور اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نواز گوندل صاحب بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
دیکھو فلم فیسٹیول
09:10 AM, 26 Jan, 2026