یہ لاہور ہے!

09:07 AM, 26 Jan, 2026

’’اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، ریڈیو پاکستان میں ایک پروگرام پروڈیوسر ہوا کرتے تھے جو کہا کرتے تھے کہ کوئی مانے یا نہ مانے دنیا کی اہم ترین ہستی میں ہوں، مجھ سے برتر اور مجھ سے بہتر اور کوئی ہے ہی نہیں‘‘۔ وہ بس میں اس لیے سفر نہ کرتے تھے کہ اُن کے برابر میں نہ جانے کون بیٹھ جائے اور اُس کا بدن اُن کے بدن سے مس ہو جائے۔ وہ رکشے میں دفتر آیا کرتے تھے۔ کوئی بھی شخص خواہ کسی حیثیت کا ہو، وہ اُس سے بات اس طرح کرتے تھے کہ جیسے وہ کسی پہاڑ کے اوپر کھڑے ہیں اور اُن کا مخاطب نشیب میں کھڑا گر دن اُٹھا کر اُن کی طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا ’’میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں جس کا عنوان ہو گا میں، میں اور میں، راقم الحروف نے اُن سے کہا ’’سرورق پر بکری کی تصویر ضرور بنوائیے گا کیونکہ ایسی آوازیں تو اُسی کے گلے سے نکلتی ہیں۔‘‘ خود ستائی کے مارے مضحکہ خیز کرداروں کو مہارت سے بے نقاب کرتی اور قاری کے چہرے پرتبسم کی کلیاں کھلاتی یہ خوبصورت تحریر ریڈیو پاکستان کے مایہ نازبراڈ کاسٹر اور ادیب ابوالحسن نغمی کی خود نوشت ’’یہ لاہور ہے‘‘ کا ایک اقتباس ہے جو انہوں نے اپنی کتاب کے آغاز میں ’’عرض مصنف‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ میرے مطالعہ میں اب تک جتنی کتابیں رہی ہیں اپنے متن اور دلکش انداز تحریر کے حوالے یہ اُن چند کتابوں میں سے ایک ایسی شاندار کتاب ہے جسے بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔
12 دسمبر 2022 کو 92 برس کی عمر میں امریکا میںاس جہانِ فانی سے رخصت ہونے والے نغمی صاحب اردو ادب، صحافت اور نشریات کی دنیا کا وہ معتبر نام ہیں جن کی شخصیت اور تحریر میں کمال کی شگفتگی اور دل آویزی پائی جاتی ہے۔ وہ محض ایک براڈ کاسٹر یا ادیب نہیں بلکہ ایک پورا عہد تھے۔ ایک ایسی آواز جو ریڈیو کے ذریعے نسلوں کے کانوں میں رس گھولتی رہی اور ایک ایسا قلم جس نے ’’یہ لاہور ہے‘‘ لکھ کرریڈیو پاکستان کے سنہری اور شاندار ماضی کو حال میںپھر سے زندہ کر دیا۔ ریڈیو پاکستان لاہور سے ان کی وابستگی اردو نشریات کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہے۔ ’’آؤ بچو سنو کہانی‘‘ جیسے پروگرام نے انہیں بچوں میں ’’بھائی جان‘‘ کے نام سے اس قدر مقبول کیا کہ ان کی آواز نسلوں کی یادداشت کا حصہ بن گئی ہے۔ ان کی کتاب ’’یہ لاہور ہے‘‘ محض ایک خودنوشت نہیں بلکہ ریڈیو پاکستان لاہور کی ایک جیتی جاگتی تصویرہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے پرانے سٹیشن اور اس دور میں ریڈیو سے منسلک فنکاروں، شاعروں، ادیبوں، گلوگاروں، موسیقاروں، ہنر مندوں اور پروڈیوسروں کا ایسا نقشہ کھینچا کہ قاری خود کو انہی گلی، دروازوں، سٹوڈیوز میں نابغہ روزگار ہستیوں کے ساتھ کھڑا پاتا ہے۔
ریڈیو پاکستان کا وہ سنہرا دور جس کا ذکر نغمی صاحب کی تحریروں میں بکھرا ہوا ہے دراصل ریڈیو نشریات اور اردو ادب کا سنہرا دور تھا۔ ناصر کاظمی، فیض احمد فیض، اشفاق احمد، استاد امانت علی، اخلاق احمد دہلوی جیسی سب نایاب شخصیات ریڈیو پاکستان سے جڑی ہوئی تھیں جنہیں نغمی صاحب نے اپنی تحریر سے امر کر دیا ہے۔ ان کے خاکے محض تعارف نہیں بلکہ مکمل تصویریں ہیں، جن میں کردار سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔ میری رائے میں یہ ایک ایسی باکمال کتاب ہے جسے ہر شخص کو لازمی پڑھنا چاہیے جس کا ادب یا ریڈیو سے ذرا سا بھی تعلق ہے۔ چند روز پہلے یہ کتاب مجھے ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر اسلام آباد میں ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے پر فائز ہمارے دوست حافظ نور اللہ نے پڑھنے کے لیے عنایت کی ہے۔ اسلام آباد ریڈیو آمد سے پہلے بھی میری ٖحافظ صاحب سے چند ایک مختصر ملاقاتیں تھیں مگر جب سے مستقل اسلام آیا ہوں روزانہ کی بنیاد پر حافظ صاحب کے نیاز حاصل ہونے شروع ہوئے تو معلوم ہوا کہ ماشاء اللہ حافظ صاحب اعلیٰ ادبی ذوق کے حامل نہایت عالم فاضل شخصیت ہیں جنہیں بے شمار اچھے اشعار ازبر ہیں۔ پہلی نظر میںحافظ صاحب کی شخصیت بظاہر سنجیدگی اور رعب و دبدبے کی تصویر دکھائی دیتی ہے جس کی بنا پر لوگ انہیں ایک سخت مزاج یا حد درجہ سنجیدہ طبیعت کا حامل سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جنہیں حافظ صاحب کا دائرہ قرب نصیب ہے انہیں علم ہے کہ ان کے ظاہری رعب کے پیچھے ایک نہایت خوش مزاج، خوش طبع اور مرنجاں مرنج قسم کا انسان موجود ہے۔ میرے خیال میں حافظ صاحب کی شخصیت پر یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے’’ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم/ رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن‘‘۔ ممکن ہے اپنے ارد گرد کے کچھ لوگوں کے لیے حافظ صاحب مانند فولاد ہوں مگر شکر الحمدللہ میرے ساتھ حافظ صاحب ہمیشہ خنداں پیشانی اور ادبی رکھ رکھائو سے پیش آتے ہیں۔ پڑھنے کی غرض سے مجھے دی گئی ابو الحسن نغمی کی یہ کتاب بھی حافظ صاحب کی اسی مہربانی کی ایک کڑی ہے۔
’’یہ لاہور ہے‘‘ غالباً میںدس پندرہ برس پہلے بھی پڑھ چکا ہوں مگر ریڈیو پاکستان کے حوالے سے ابو الحسن نغمی کی یہ کتاب اتنی خوبصورت ہے کہ باتوں باتوں میں جب مجھے معلوم ہوا کہ حافظ صاحب بھی یہ کتاب پڑھ چکے ہیں اور اُن کے پاس یہ کتاب موجود ہے تو میں اُن سے یہ کتاب مانگے بغیر نہ رہ سکا اور انہوں نے کمال فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے روز مجھے یہ کتاب عاریتاً عنایت بھی کر دی۔ مگر اس بار یہ کتاب پڑھتے ہوئے ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ پہلی دفعہ جب میں نے یہ کتاب پڑھی تھی تو میں نے اس کتاب میں بیان کردہ اس دور میں ریڈیو پاکستان سے منسلک افسران، فنکاروں، شاعروں، ادیبوں، گلوکاروں کے کام کے انداز، مزیدار قصوں اور مختلف شخصیات کے دلچسپ تذکروں کا پورا لطف لیا تھا۔ آج اتنے برس گزرنے کے بعد جب میں دوبارہ اس کتاب کو پڑھ رہا ہوں تو پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ اور عوامی امنگوں کے حقیقی ترجمان سب سے بڑے اور اولین قومی نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کی موجودہ حالت زار کو لے کر ایک دُکھ اور افسوس بھری کیفیت کے ساتھ میرے دل و دماغ میں کسی نوحے کی صورت مسلسل یہ شعر گونج رہے ہیں ’’دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب/ رہتے تھے منتخب ہی جہاں روز گار کے/ اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا/ ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے‘‘۔ یوں بھی حب الوطنی کے مارے اور ریڈیو پاکستان جیسے اداروںکی محبت میں گرفتار ہمارے جیسے بے بس، مجبور اور لاچار لوگ اس طرح کے معاملات پر سوائے کف افسوس ملنے کے کر بھی کیا سکتے ہیں۔

مزیدخبریں