گل پلازہ آتشزدگی، موت کا حلف، رابطے

09:06 AM, 26 Jan, 2026

آشیاں جل گیا، گلستاں جل گیا۔ کراچی کا بڑا تجارتی مرکز گل پلازہ تین دن جلتا رہا اور راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ 15 سالہ بچے نے فائر بریگیڈ کو اطلاع دی، آگ بجھانے والے تاخیر سے پہنچے، سنارکل کو بھی پہنچنے میں دیر لگی۔ ’’کچھ باعث تاخیر بھی تھا‘‘ وجہ؟ 409 ٹوٹی سڑکیں، ٹریفک جام، ٹوٹی سڑکوں کی خبر میئر وہاب صدیقی نے دی، کیمیکل نہیں تھا ہوتا تو آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔ نوجوان میئر اپنے لیڈر بلاول بھٹو کی طرح بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، پتا نہیں کیوں نہیں کر پا رہے، مخالفین کے طعنے سن کر دل کڑھتا ہو گا، وزیر اعلیٰ بھی روزانہ اچھے اچھے دل خوش کن بیانات دیتے ہیں، اللہ جانے ڈھائی تین کروڑ عوام کے دل کیوں خوش نہیں کر پاتے، تنقید کے تیروں کی زد میں آنا کس کو اچھا لگتا ہے ’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘ مراد علی شاہ کو عہدہ سنبھالے صرف تیرہ چودہ سال ہوئے ہم نے تو اس شہر نا پُرساں میں 62 سال گزار دئیے۔ اسی کسمپرسی کی حالت میں پایا، 35 سال اپنوں کو قتل کرتے، قتل ہوتے دیکھا، کاسموپولیٹن شہر کی سڑکیں ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر پائیں پورا شہر غیر مقامی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں یر غمال بنا رہا، آنے والوں نے سیکڑوں کچی بستیاں بسا لیں جو ہر الیکشن کے دوران ریگولرائز ہوتی رہیں، کراچی کی درد ناک کہانی ’’کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں‘‘ ڈھکن ہیروئنچی لے جائیں، پولیس ان پر رحم کھا کر منہ پھیر لے، گالیاں میئر کا مقدر، سال بھر آگ لگنے کے واقعات پانی دستیاب نہیں، ٹینکروں والے ارب پتی بن گئے، سنگل ٹینکر 4 ہزار ڈبل 6 ہزار (تین سال پہلے کے دام) آگ بجھانے کے لیے کہاں سے ملے گا 48 سال پرانی پائپ لائنیں پھٹنے سے سیلابی کیفیت، پورے علاقہ کی سڑکیں ٹوٹ گئیں، ٹھیکیداروں کو ہر 6 ماہ بعد ٹھیکہ ملنے کی امید اور بہت کچھ جو آنکھوں اور کانوں کو ناگوار گزرے کہنے لگے حکمرانوں سے سوال ہو گا عوام سے بھی تو پوچھا جائے گا، چھوڑیے اپنے آپ کو اپنے آپ تک محدود رکھیے۔ گل پلازہ میں نقشہ کے مطابق 1200 دکانیں تھیں 179 مزید بن گئیں، نقشہ منظور کرنے والے کہاں سو گئے تھے۔ چھوٹی چھوٹی غفلتیں بڑی تباہی کا باعث بن گئیں، اب تک 70 لاشیں یا ان کی باقیات مل سکیں، 76 اب تک لا پتا، پھول سے چہرے راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ والدین کو بیٹوں اور بیٹوں کو والدین کا انتظار، حکومت نے فی کس ایک کروڑ اور ورلڈ میمن آرگنائزیشن کے صدر سلمان اقبال نے پانچ چھ ارب کا قرضہ دینے کا اعلان کیا۔ گل پلازہ دو سال میں بنے گا۔ کاروبار بھی جیسے تیسے چل پڑیں گے راکھ ہو جانے والے حشر کے روز ہی جاگیں گے، آتشزدگی کے ایک ہفتہ بعد فضول بحث مباحثے بے کار سوالات، آگ کس نے لگائی؟ یا اللہ یا رسولؐ وزیر اعلیٰ اور میئر بے قصور، دیر سے کیوں پہنچے؟ کیا انہوں نے پانی کی بوچھاڑ کرنا تھی؟ تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے بنا لیجئے تحقیقاتی رپورٹ فائلوں کی شکل میں دفن ہو جائے گی، آگ کاغذ یا پلاسٹک کے پھولوں سے لگی خوشبو نہیں دیتے فرشتۂ اجل کو دعوت دے گئے۔ مستقل حل تلاش کیا جائے سارے مل بیٹھیں اور اس معاشی حب کے بارے میں سوچیں، محترم انصار عباسی نے ’’بلاول کے دعوئوں کو آگ لگ گئی‘‘ کے عنوان سے طویل مضمون لکھ کر سینوں میں لگی آگ ٹھنڈی کرنے کی کوشش کی کہا کہ کراچی میں پہلی بار آگ نہیں لگی، بلدیہ فیکٹری، علی انٹرپرائزز، بولٹن مارکیٹ، صدر کی عمارتیں اور گل پلازہ، سیاست کو دعوئوں اور نعروں کی بجائے عملی عوامی خدمت کی ضرورت ہے تاکہ سیاست کو گالی کی بجائے احترا م حاصل ہو۔ بد قسمتی آگ پر سیاست شروع ہو گئی چنگاریاں قومی اسمبلی تک پہنچ گئیں۔ متحارب نظریات کے حامل تینوں اتحادی پارٹیوں کے ارکان نے اس رلا دینے والے سانحہ کی راکھ سے ایسے سیاسی چٹکلے نکالے کہ متاثرہ لواحقین کے سینے چھلنی ہو گئے۔ معزز ارکان پارلیمنٹ کو اس موقع پر بھی ساری ترامیم سیاسی اختلافات اور بھولے بسرے واقعات ہی یاد کیوں آتے ہیں بعد کے دنوں میں ایسے واقعات کے تدارک کی تدابیر کیوں نہیں سوجھتیں، خواجہ آصف کو 18 ویں ترمیم یاد آ گئی، منظوری کے وقت کیوں نہ بولے، ایم کیو ایم نے اپنی محرومیوں کے دکھڑے روئے، گرما گرم تقریروں سے غیر فطری اتحاد سے بننے والی حکومت خطرے میں پڑ گئی، پی ٹی آئی نے امیدیں باندھ لیں، پھر کچھ یوں ہوا کہ امیدوں کے محل مسمار، چیختی چلاتی زبانوں اور دھڑکتے مچلتے دلوں کو قرار آ گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے خفیہ اجلاس بلایا اور سینوں میں لگی آگ ٹھنڈی ہو گئی، قانون سازی پر اتفاق، زبانیں گنگ، آگ کی کہانی فاروق ستار کی قرار داد پر ختم ہو گئی۔
فارم 47 کے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے خلق خدا کو خوش رکھنے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اپنی چادر کے بل کھولتے جا رہے ہیں فی الحال جلدی میں ہیں، اپنی پانچ چھ رکنی تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم سے 8 فروری کو پہیہ جام شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دے بیٹھے۔ خان کو اس کال کا علم بعد میں ہوا، علیمہ خان نے ابتدا میں لا علمی کا اظہار کیا لیکن منگل کے انقلاب کو الٹے پائوں فرار ہوتے دیکھ کر ہڑتال کی حمایت کر دی، چنانچہ محمود اچکزئی نے دلی خواہشات کو چادر میں لپیٹا اور اپنے اولین خطاب میں کہا کہ خان کو معاف کر دیں 9 مئی کے ملزموں کو معافی دے دیں، دل بڑا کریں، میں آپ کے ہاتھ چوم لوں گا۔ سیانوں نے کہا خان کے الفاظ اچکزئی کے منہ سے ادا ہو گئے۔ ڈاکٹر فضل چوہدری نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ فوج میں بغاوت کو کیسے معاف کر دیا جائے، نمائشی پہلوان غصہ میں آ گئے مطالبہ کیا کہ عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں پر آرٹیکل 6 لگایا جائے کسی بھلے مانس نے پوچھ لیا کہ خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی۔ کیا ان کے خلاف آرٹیکل 6 لگا، سارے زندہ سلامت ہیں اسی گرما گرمی میں محترم اچکزئی دل کی بات زبان پر لے آئے کہ پاکستان اقوام متحدہ سے افغان دہشت گردی کے ثبوت مانگے، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے بھی، اسی سے ملتی جلتی بات کہی تھی، سارے ایک تھیلی کے چٹے پٹے، پاکستان کے شہری زندگی کی تمام سہولتیں حاصل لیکن افغانستان کی محبت دل کے گوشوں میں خون کی طرح رواں دواں ہے۔ 8 فروری کی ہڑتال کے لیے خفیہ حکمت عملی بے نقاب ہو گئی۔ علیمہ خان کی منگل ریلی ریہرسل قرار پائی، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ہزارہ کے جلسہ میں جذباتی شرکاء سے موت کا حلف لے لیا۔ اسلام آباد پر چڑھائی کے اشارے، پارلیمانی پارٹی میں لڑائی اور بائیکاٹ کے باوجود فیصلے لیکن ادھر سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے کی وارننگ اٹک کے پل پر روکنے کی مشقیں ایک طرف ہڑتال کی تیاریاں دوسری طرف این آر او مانگ لیا۔ محمود اچکزئی کے ذریعہ معافی کی درخواست جیل میں رابطوں کی اطلاعات ہیں جنہیں اللہ نے اضافی عقل دی ہے ان کا کہنا ہے کہ خان پر کام ہو رہا ہے۔

مزیدخبریں