بھارتی ہٹ دھرمی بے نقاب؛ بلوچستان پر نئی دہلی کا ردِعمل پاکستان کے مؤقف کی زندہ تصدیق

03:36 PM, 26 Feb, 2026

اسلام آباد: دفترِ خارجہ کی حالیہ بریفنگ نے ایک بار پھر نئی دہلی کے اس مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جو ایک طرف تو خطے میں امن کا راگ الاپتا ہے لیکن دوسری طرف بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ کہنا کہ "بھارتی بیان پاکستانی موقف کی تصدیق ہے" دراصل اس سفارتی کامیابی کی طرف اشارہ ہے جہاں بھارت خود اپنے بیانات کے جال میں پھنس چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور عدالتی نظام اس وقت شرمندہ ہو جاتا ہے جب سمجھوتہ ایکسپریس کے 70 شہداء کا ذکر آتا ہے۔ سوامی آسیم آنند اور حاضر سروس کرنل پروہت جیسے کرداروں نے خود اپنے جرم کا اقرار کیا، لیکن بھارت نے انہیں سزا دینے کے بجائے تحفظ فراہم کیا۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت سے ان مجرموں کی آزادی پر سوال کرے جو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
پاکستان اس وقت جارحانہ سفارتی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے دو اہم رخ ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دورہ جدہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ او آئی سی میں اسرائیل کے غیر قانونی توسیعی منصوبوں کے خلاف پاکستان کا مقدمہ لڑنا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی پر قبضے کے خلاف پاکستان کا دو ٹوک موقف عالمِ اسلام کی ترجمانی کرے گا۔ وزیراعظم کا دورہ قطر معاشی محاذ پر بڑی خوشخبری لایا ہے۔ امیرِ قطر کی جانب سے اقتصادی شراکت داری کو "اعلیٰ سطح" تک لے جانے کی خواہش ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسیاں اب عالمی اعتماد حاصل کر رہی ہیں۔

مزیدخبریں