اسلام آباد : پاکستان میں گزشتہ بیس برسوں سے "فتنہ الخوارج" نے مذہب کی آڑ لے کر جس طرح معصوم شہریوں اور مقدس مقامات کو نشانہ بنایا ہے، اس نے ان کے نام نہاد نظریات کا پول کھول دیا ہے۔ حالیہ انٹیلی جنس ڈیٹا اور زمینی حقائق پر مبنی رپورٹ کے مطابق، ان دہشت گردوں کے حملوں کا سب سے بڑا نشانہ مساجد اور امام بارگاہیں رہی ہیں۔
رپورٹ میں ان لرزہ خیز واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا۔ وفاقی دارالحکومت کی مسجد میں حالیہ بزدلانہ خودکش حملہ اس بات کی تازہ ترین دلیل ہے کہ یہ فتنہ کسی بھی تقدس کا لحاظ نہیں رکھتا۔ پشاور و ہنگو (2023)، پشاور پولیس لائنز اور ہنگو کی مساجد میں ہونے والے دھماکوں نے ثابت کیا کہ ان کا مقصد صرف اور صرف 'فساد فی الارض' ہے۔ کرم ایجنسی و پاراچنار (2010-2017)، بازاروں اور مساجد کے قریب بارود کے ڈھیر لگا کر سینکڑوں ہنستے بستے گھرانوں کو ماتم کدہ بنا دیا گیا۔ پشاور، کوہاٹ و شکارپور، کوچہ رسالدار (2022) سے لے کر سندھ کے دور افتادہ علاقوں تک، ان خوارج نے کسی بھی جگہ کو بخشا نہیں۔
"فتنہ الخوارج کا کوئی عقیدہ یا مذہب نہیں۔ ان کا اصل چہرہ ان کے اعمال سے ظاہر ہے، جو صرف اور صرف انتشار اور انسانیت دشمنی پر مبنی ہے۔
فتنہ الخوارج: مساجد پر حملوں اور نمازیوں کے قتلِ عام کی سیاہ تاریخ
03:17 PM, 26 Feb, 2026