نئی غیر ملکی رجسٹریشنز؛ پاکستان پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت

09:06 AM, 26 Feb, 2026

گزشتہ چند برس سے یہ بیانیہ زور پکڑتا رہا ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں تیزی سے پاکستان چھوڑ رہی ہیں اور ملک سرمایہ کاری کے لیے غیر پُرکشش ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی گونج اور بعض حلقوں کی سیاسی تعبیرات نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا۔ مگر جب ہم جذبات سے ہٹ کر اعداد و شمار کی روشنی میں حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے منہ نہیں موڑ رہے بلکہ نئی رجسٹریشنز اس اعتماد کا واضح ثبوت ہیں جو عالمی کاروباری برادری پاکستان کی معیشت پر رکھتی ہے۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے مستند اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2025 کے درمیان صرف 19 غیر ملکی کمپنیوں نے اپنی سرگرمیاں ختم کیں، جبکہ اسی عرصے میں 79 نئی غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن کرائی۔ یہ تناسب خود اس امر کا مظہر ہے کہ مجموعی رجحان انخلا نہیں بلکہ شمولیت کا ہے۔ مزید برآں جن 125 کمپنیوں کے انخلا کا حوالہ دیا جاتا ہے، وہ 1977 سے اب تک کی مجموعی تعداد ہے، نہ کہ گزشتہ تین برس کی،چنانچہ اس فرق کو نظرانداز کرنا محض اعداد و شمار کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
سرمایہ کاری کے فیصلے وقتی جذبات کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔ عالمی کمپنیاں کسی بھی ملک میں قدم رکھنے سے پہلے سیاسی استحکام، ریگولیٹری ماحول، مارکیٹ کے حجم، افرادی قوت کی دستیابی، منافع کی شرح، اور طویل مدتی امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہیں۔ اگر پاکستان واقعی سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ہوتا تو نئی غیر ملکی رجسٹریشنز کی تعداد بندشوں سے کہیں زیادہ نہ ہوتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 79 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی مارکیٹ میں مواقع دیکھ رہے ہیں۔
فروری 2026 تک 1,157 غیر ملکی کمپنیوں کا SECP کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا بھی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کا کارپوریٹ ڈھانچہ عالمی کاروباری نظام کا حصہ ہے۔ یہ تعداد محض ایک عدد نہیں بلکہ اعتماد کی علامت ہے۔ کسی بھی ملک میں غیر ملکی کمپنی کا رجسٹر ہونا اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کے قانونی و معاشی نظام پر یقین رکھتی ہے اور طویل المدتی کاروباری مفادات دیکھ رہی ہے۔گزشتہ ماہ 82 مقامی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا اندراج اس تسلسل کو مزید تقویت دیتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا تعلق مختلف معیشتوں سے ہے جن میں چین، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، ترکیہ، جنوبی کوریا اور سپین سمیت متعدد ممالک سے سرمایہ پاکستان آیا۔ یہ تنوع اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان کسی ایک جغرافیائی یا سیاسی بلاک تک محدود نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک کھلی منڈی ہے۔ جب مختلف براعظموں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار ایک ہی مارکیٹ میں مواقع تلاش کریں تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس مارکیٹ کی کشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ چند کمپنیوں کے بند ہونے کو مکمل انخلا کا بیانیہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ دنیا کی ہر معیشت میں کاروبار کھلتے اور بند ہوتے رہتے ہیں۔ کاروباری فیصلے اکثر عالمی حکمت عملی، انضمام و حصول (mergers & acquisitions)، لاگت میں کمی، یا خطے کی ترجیحات میں تبدیلی کے تحت کیے جاتے ہیں۔ انفرادی کمپنی کا انخلا لازماً اس ملک کی معاشی ناکامی کا ثبوت نہیں ہوتا۔ اصل پیمانہ مجموعی رجحان ہوتا ہے اور پاکستان کے معاملے میں یہ رجحان مثبت دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی سرمایہ کاری کے تسلسل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع پاکستان ایک بڑی منڈی کے ساتھ ساتھ تجارتی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی شہری آبادی، اور ڈیجیٹل معیشت کا پھیلاؤ عالمی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ آئی ٹی، فِن ٹیک، توانائی، زراعت، اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبے مستقبل کی نمو کے محرکات بن سکتے ہیں۔
مزید برآں یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے،زرِ مبادلہ کے ذخائر میں دباؤ، مہنگائی، اور شرح سود میں اضافہ۔ مگر اس کے باوجود نئی غیر ملکی رجسٹریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرمایہ کار عارضی اتار چڑھاؤ کے بجائے طویل مدتی امکانات کو دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں وقتی مشکلات آتی رہتی ہیں، مگر طویل المدتی منافع کے مواقع بھی وہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی اور ریگولیٹری اصلاحات بھی اہم ہیں۔ SECP کی ڈیجیٹل رجسٹریشن سہولیات، کارپوریٹ گورننس کے معیارات میں بہتری، اور کاروبار کرنے میں آسانی کے اقدامات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔ جب ایک ملک شفاف اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتا ہے تو سرمایہ کار خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ بیانیہ اور حقیقت میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر 19 کمپنیوں کی بندش کو بحران قرار دیا جائے مگر 79 نئی رجسٹریشنز کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ تجزیہ یکطرفہ ہوگا۔ معیشت کا تجزیہ مجموعی اعداد و شمار اور رجحانات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ منتخب مثالوں سے بلکہ پاکستان میں 1,157 غیر ملکی کمپنیوں کی موجودگی اور حالیہ مہینوں میں درجنوں نئی سرمایہ کاریوں کا اندراج اس حقیقت کا اظہار ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو نظرانداز نہیں کر رہے۔ وہ یہاں مواقع دیکھ رہے ہیں، منافع کی گنجائش محسوس کر رہے ہیں، اور طویل المدتی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ یہی وہ اعتماد ہے جو کسی بھی معیشت کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔
آخرکار، سرمایہ کاری اعتماد کا دوسرا نام ہے۔ جب سرمایہ کار اپنا سرمایہ کسی ملک میں منتقل کرتے ہیں تو وہ دراصل اس ملک کے مستقبل پر شرط لگا رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نئی غیر ملکی رجسٹریشنز اس بات کا اعلان ہیں کہ عالمی کاروباری برادری پاکستان کے مستقبل کو امکانات سے بھرپور سمجھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم منفی بیانیے کے بجائے حقائق کو بنیاد بنائیں، اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھیں، اور اس اعتماد کو مزید مستحکم کریں تاکہ پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سرمایہ کاری کا ایک مضبوط مرکز بن سکے۔

مزیدخبریں