دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ریاستیں ہمیشہ کمزور کو دبانے کے لیے نئے طریقے تلاش کرتی ہیں۔ کبھی یہ دباؤ سرحدوں پر فوج کے ذریعے ڈالا جاتا ہے، اور کبھی زندگی کے بنیادی وسیلے یعنی پانی پر قبضہ کر کے۔
آج بھارت دریائے چناب اور سندھ کے نظام پر جس انداز میں ڈیم تعمیر کر رہا ہے، وہ محض توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک خطرناک سٹرٹیجک حکمتِ عملی ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت، زراعت اور مستقبل پر پڑتے ہیں۔عالمی جریدوں Foreign Policy اور Financial Post کی رپورٹس نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ بھارت کی نام و نہاد ترقی دراصل ایک خاموش آبی جارحیت ہے۔
اس کہانی کا آغاز 19 ستمبر 1960 سے ہوتا ہے، جب ورلڈ بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنائیں۔ پاکستان کو مغربی دریا یعنی سندھ، جہلم اور چناب دیئے گئے، جبکہ بھارت کو مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج کا اختیار ملا۔
یہ معاہدہ اس امید کی علامت تھا کہ کم از کم پانی کو سیاست سے دور رکھا جائے گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ بھارت نے اس معاہدے کو ایک ذمہ داری کے بجائے ایک موقع کے طور پر لیا۔ پہلا بڑا دھچکا 1999 میں سامنے آیا، جب بھارت نے بگلیہار ڈیم کی تعمیر شروع کی۔ پاکستان نے فوراً اعتراض کیا کہ اس ڈیم کا ڈیزائن پانی کو روکنے اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 2005 میں پاکستان نے یہ معاملہ عالمی ثالثی کے لیے اٹھایا۔ اگرچہ کچھ تکنیکی تبدیلیاں تجویز کی گئیں، لیکن بھارت اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب رہا چناب کے بہاؤ پر عملی کنٹرول حاصل کرنا یہ وہ لمحہ تھا جب پہلی بار واضح ہوا کہ بھارت معاہدے کی روح کے ساتھ کھیل رہا ہے۔
دوسرا اہم واقعہ 2007 میں پیش آیا، جب بھارت نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کی۔ اس منصوبے کا مقصد جہلم کے ایک معاون دریا کا رخ موڑنا تھا۔ پاکستان نے اس پر شدید احتجاج کیا، کیونکہ پانی کا رخ تبدیل کرنا معاہدے کی روح کے خلاف تھا۔ 2013 میں عالمی عدالتِ ثالثی نے بھارت کو محدود اجازت دی، لیکن یہ فیصلہ بھی اس حقیقت کو نہیں بدل سکا کہ بھارت ایک خطرناک روایت قائم کر چکا تھا دریا کے قدرتی بہاؤ کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنا۔ پھر 2016 ایک اور خطرناک سال ثابت ہوا اڑی حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم نے کھلے عام کہا کہ ‘‘خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔’’ یہ بیان محض ایک سیاسی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک واضح دھمکی تھی کہ بھارت پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی سوچ رکھتا ہے۔ اسی سال بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر نظرثانی کی بات بھی شروع کی، جو اس کے اصل عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔
2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ پاکستان کا پانی روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ اس کے بعد مختلف ڈیم منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو ایک سٹرٹیجک ٹول کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر مسلسل عمل کر رہا ہے۔ اب 2020 سے 2025 کے درمیان چناب پر نئے منصوبوں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سات سے زائد بڑے منصوبے زیرِ تعمیر یا منصوبہ بندی میں ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، پہاڑوں کو دھماکوں سے توڑا جا رہا ہے اور قدرتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ یہ وہی پیٹرن ہے جو بگلیہار اور کشن گنگا میں دیکھا گیا تھا، لیکن اب اس کی شدت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
یہ تمام واقعات ایک واضح موازنہ پیش کرتے ہیں۔
1960 میں بھارت نے معاہدہ کیا، 1999 میں اس کی حدود کو آزمانا شروع کیا، 2007 میں پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کی، 2016 میں پانی کو کھلے عام دھمکی کے طور پر استعمال کیا، اور اب 2025 میں دریا کے بہاؤ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے، ایک سوچا سمجھا منصوبہ جس کا مقصد پانی پر بالادستی حاصل کرنا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف معاہدے بلکہ اخلاقیات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ دریا کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتے وہ قدرت کی امانت ہوتے ہیں۔ انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش دراصل انسانوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی زراعت، معیشت اور کروڑوں انسانوں کا مستقبل انہی دریائوں سے وابستہ ہے۔ اگر پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا اصل امتحان انصاف میں ہوتا ہے، نہ کہ کمزور کو دبانے میں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں معاہدوں کا احترام نہیں کرتیں، وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتی ہیں، لیکن طویل مدت میں اپنا اخلاقی جواز کھو دیتی ہیں۔
دریائے چناب اور سندھ محض پانی کی لہریں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی سانس ہیں۔ انہیں کنکریٹ اور سیاسی عزائم کی زنجیروں میں جکڑنے کی ہر کوشش نہ صرف معاہدے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ تاریخ کا پہیہ گھوم رہا ہے، اور یہ فیصلہ بھارت کو کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر یاد رکھا جائے گا یا ایک ایسی طاقت کے طور پر جس نے پانی کو بھی سیاست کا ہتھیار بنا دیا اور بدترین ریاست ہونے کا کو ثبوت دے رہی ہے۔
آبی جارحیت بھارت کا مکروہ چہرہ
09:05 AM, 26 Feb, 2026