ایک مرتبہ پھر کراچی کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے، کراچی سے حاصل کردہ ریونیو جو پورے ملک کے ریونیو کا 46 فیصد ہے اس پر نہ جانے متعلقہ جماعتوں کی کب سے نظر ہے، صوبے کی صورت میں اگر کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ اس پر قابض ہو جائیگا، واقعی دیوانے کی بڑ ہے، کوئی محب وطن یہ نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا صوبہ بن جائے جس کی آمدنی پر صرف اسکا حق ہو۔ قائد کے پاکستان کے تمام صوبے ایک دوسرے کی مدد سے چلتے ہیں خاص طور پر معاشی حوالوں سے، ہاں یہ اور بات ہے کہ کراچی صوبہ کا نعرہ لگانے والے کراچی میں ہونے والی کسی زیادتی، بد انتظامی کی طرف اشارہ کر کے اس پر آواز اٹھائیں تو جن محرومیوں کا وہ ذکر کرتے ہیں وہ کم ہو سکتی ہیں، مرکز اور صوبے کی حکومتیں ایمانداری سے بغیر کسی لسانی عناد کے اس پر توجہ دے سکتی ہیں۔ ایم کیوایم کی بنیاد ہی اسکے ملک بدر رہنما نے مہاجروں پر ہونے والے ظلم (بقول اسکے) کی وجہ سے رکھی تھی، پورا کراچی ایک آواز پر بیٹھتا اور ایک آواز پر اٹھتا تھا، مگر دہشت گردی اور جرائم میں ملوث ہونے کی بنا پر ایم کیو ایم وہ اہداف حاصل نہ کر سکی، اسکے رہنما نے جس طرح ملک سے باہر بیٹھ کر بھارتی ایما پر اور بھارتی فنڈز کے بل بوتے جو زہر اُگلا وہ ایم کیو ایم رہنما کیلئے جرم بن گیا۔ پاکستان میں رہنے کیلئے انہیں اپنے رہنما سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی، حالانکہ بہت سے لوگوںکا خیال ہے کہ بظاہر علیحدگی کرنے والوںکا تانا بانا تاحال لندن سے جڑا ہے واللہ عالم۔۔۔ ایم کیو ایم کی بنیاد 1984 میں الطاف حسین نے رکھی۔ ابتدا میں یہ طلبہ تنظیم کی طور پر ابھری۔ اس کا مقصد شہری سندھ خصوصاً کراچی اور حیدرآباد میں بسنے والے مہاجر طبقے کے سیاسی و سماجی حقوق کے لیے آواز اٹھانا تھا۔ بعد میں جماعت نے خود کو ایک قومی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس جماعت کے بظاہر مثبت اور منفی پہلو دونوں رہے، مثبت پہلو کے حوالے سے ایم کیو ایم نے کراچی اور حیدرآباد کے شہری متوسط اور نچلے طبقے کو سیاسی شناخت دی، جو پہلے خود کو نظرانداز سمجھتے تھے۔ صفائی، ٹرانسپورٹ، پانی اور شہری سہولیات جیسے مسائل کو سیاسی ایجنڈے میں نمایاں کیا۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ نوجوانوںکو سیاست میں لیکر آئی جبکہ یہ بیان بھی اسکے دیگر بیانوںکی طرح بے بنیاد ہے دراصل ایم کیو ایم وہ جماعت تھی جس نے سب سے پہلے طلبہ اور نوجوان طبقے کو سیاست میں لانے میں کردار ادا کیا، جس سے شہری سیاست متحرک ہوئی۔ ایم کیو ایم کو شہرت و عزت راس نہیں آئی اس پر تشدد اور عسکریت پسندی کے الزامات کچھ سچ کچھ جھوٹ لگے، بھتہ خوری عام ہوئی، یہاں تک کہ قربانی کی کھالیں جن پر دعویٰ جماعت اسلامی کا رہا ہے وہ بھی ایم کیو ایم نے نہ صرف جمع کیں بلکہ کھال نہ دینے والے کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ایم کیو ایم کے دانشوروں کا نہایت ہی بچگانہ تجزیہ تھا کہ بھتہ خوری اور جرائم میں اضافے کی وجہ نوجوانوں کی بے روزگاری تھی، مگر یہ کس حکیم نے کہا ہے کہ اپنی ہی جماعت کو مجرمانہ کارروائیوںکے حوالے سے معروف کر دو، اگر روزگار نہ ہو تو بھتہ لینا شروع کر دو؟؟ ایم کیو ایم پر مختلف ادوار میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح ونگز رکھنے کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں، جس سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ طاقت کے خمار کی وجہ سے ایم کیو ایم نے ریاست سے ٹکر لینا شروع کر دی، جو حشر آج تحریک انصاف کا ریاستی اداروں سے ٹکر لینے پر ہو رہا ہے وہی حشر ایم کیو ایم کا ہوا، 1990ء کی دہائی میں جماعت اور ریاستی اداروں کے درمیان شدید کشیدگی رہی، جس کے نتیجے میں بڑے آپریشنز ہوئے اور سیاسی عمل متاثر ہوا۔ لگتا ہے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، جو ایم کیو ایم کا حال ہوا وہی تحریک انصاف کا ہو رہا ہے، ایم کیو ایم میں بھی قیادت کے تنازعات اور اندرونی تقسیم ہوئی تھی اور وقت کے ساتھ جماعت کئی دھڑوں میں بٹ گئی، جس سے اس کی سیاسی طاقت کمزور ہوئی اور ووٹر کنفیوزن کا شکار ہوا۔ تشدد سے جڑی سیاست، طاقت کے غلط استعمال کے الزامات اور اداروں سے تصادم نے جماعت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ قیادت میں تنازعات آج بھی نظر آتے ہیں گزشتہ دنوں خالد مقبول صدیقی کی پریس کارنفرنس میں فاروق ستار ہر دو منٹ بعد کچھ لکھ کر خالد مقبول بھائی کے سامنے رکھ رہے تھے جو تاثر یہ دے رہا تھا کہ فاروق ستار بھائی زیاد ہ جانتے ہیں جب اس پر بس نہ ہوا تو دوسرے روز انہی موضوعات پر فاروق ستار نے پریس کانفرنس داغ دی۔ حکومتیں بنانے والے جب الیکشن کراتے ہیں تو انہیں علم ہوتا ہے کوئی سیاسی جماعت تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی تو جس طرح گاڑی میں حفاظتی ٹائر رکھا ہوتا ہے جسے سٹپنی کہا جاتا ہے اسی طرح ہمارے ملک میں بڑی سیاسی جماعتیں سٹپنی سے مل کر حکومت بناتی ہیں، انکی شمولیت سے حکومت سازی ہوتی ہے، انکے مزے بھی ہوتے ہیں کہ مرکزی حکومت سے مراعات بھی حاصل کرو نہ دے تو حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دو چونکہ یہ چند نشستیں حکومت بنانے اور گرانے کیلئے ضروری ہوتی ہیں، ایم کیو ایم سمیت اس طرح کی کچھ جماعتیں ہمارے ملک میں موجود ہیں، ایم کیوایم کا کراچی صوبہ بنانے کا اعلان سندھ میں اردو سندھی تنازع کو بھی ہوا دیتا ہے۔ نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ کراچی کو بھی سندھ حکومت سندھ کا حصہ سمجھے، وہاں کے لوگوں کو ملازمتوں میں بلا امتیاز حصہ ملنا چاہیے دراصل سندھ حکومت خود عرصہ 17 سال میں سندھ کے لوگوںکو سہولیات دینے سے قاصر ہے اسلئے کراچی تو شائد انکے ایجنڈہ پر نہیںآتا۔ لیکن ایم کیو ایم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غصہ کم اور افہام و تفہیم کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنے ووٹرز کیلئے سہولیات حاصل کرے۔ گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں خالد مقبول صدیقی نے کوئی اچھا تاثر نہیں دیا انہوں نے سندھ
حکومت میں پی پی پی اور مرکز میں مسلم لیگ کو بھی نار اض کیا ہے، اور تحریک انصاف کے بیانیہ کو تقویت دی ہے (اسے کہتے ہیں بلیک میلنگ) انہوں نے فرمایا یہ کیسا انصاف ہے؟ 170 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 والا حکومت میں ہے انہوں نے پیپلز پارٹی کو نیچا دکھانے کے لیے اپنے اوپر بھی ڈرون گرا لیا۔ یہ پارٹی دو وزارتیں بھی انجوائے کر رہی ہے۔ 170 سیٹوں کی بات ایم کیو ایم کے چیئرمین کر رہے ہیں، اگر یہ بیان سچ ہے تو پہلے انہیں اپنی 18 نشستیں چھوڑنا چاہئیں چونکہ تحریک انصاف تو یہ بھی کہتی ہے کراچی کی تمام نشستیں جیتی تھیں پھر ایم کیو ایم کو کیوں ملیں اتحادیوں میں اگر ایم کیو ایم جیسے دوست ہوں تو پھر مسلم لیگ ن کو دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔ ن لیگ کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے اب اگر مسلم لیگ ن گھبراہٹ میں بیان در بیان داغ دے تو معاملات سنجیدہ بھی ہو سکتے ہیں، مگرایم کیو ایم کی سابقہ کارکردگی دیکھ کر یہ بات ذمہ داری سے کہی جا سکتی ہے کہ ایم کیو ایم ایسا کچھ نہیں کرنے والی وہ قومی دھارے میں شامل رہے گی چونکہ اسی میں چھوٹی جماعتوںکی بقا ہے۔ پی پی پی بھی مرکزی جماعت کی اتحادی ہے وہ بھی دھمکیاں نہیں بھبکیاں دیتی رہتی ہے مگر اسے بھی اسی تنخواہ کی عادت ہے چونکہ وہ سندھ میں اقتدار کی دعویدار ہے جو پنجاب سے بہت چھوٹا صوبہ ہے۔
مسائل حل کریں، کراچی صوبہ کی گنجائش نہیں
09:03 AM, 26 Feb, 2026