273 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ حالات حاضرہ اور مستقبل کے بارے میں فوج کے افکار و خیالات کا اظہار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے عزم صمیم کا اظہار ہے جو وہ مملکت پاکستان کے استحکام کے بارے میں رکھتی ہے۔ قومی یکجہتی، سلامتی و استحکام ایسے بنیادی ستون ہیں جن پر کسی ریاست کا استحکام اور بقا منحصر ہوتا ہے۔ اعلامیے میں انہی کا ذکر کیا گیا ہے اور انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی ہے۔
اس بارے میں شایددو آرا نہیں پائی جاتی ہیں کہ پاکستان تاریخ کے نازک اور حساس دور سے گزر رہا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی و سیاسی حقیقتیں بدل رہی ہیں۔ بدلتی فنی و تکنیکی اختراعات نے نہ صرف معاشی لینڈ سکیپ تبدیل کر دیا ہے بلکہ معاشرت کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ 90 کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا پولر پایک قطبی ہو گئی تھی۔ امریکہ سپریم پاور کے طور پر عالمی منظر پر چھانے لگا تھا لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے چین نے پرپرزے نکالنا اور دکھانا شروع کر دیئے۔ امریکہ گلف وار میں اپنی قوت آزما دکھا چکا تھا۔ اس نے 9/11 کے بعد پوری قوت سے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اپنی عظمت کے زعم میں پوری دنیا کو دہشت گردی کی عالمی جنگ میں دھکیل دیا۔ امریکہ 20 سال تک اس جنگ میں ملوث رہا۔ اسی دوران چین عالمی منظر پر ایک دیو یا جن کے طور پر ابھرا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چین کی معاشی عظمت کے ثبوت کے طور پر سامنے آیا۔ آج چینی تجارت اسی منصوبے کے تحت بین البراعظمی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان سی پیک کے ذریعے اس عظیم منصوبے میں چین کے اہم پارٹنر کے طور پر شامل ہے۔ افغانستان میں امریکی اتحادی افواج کی ناکامی کے بعد خطے میں بنیادی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ کابل میں طالبان حکمرانی نے اضطرات و عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ امریکہ یہاں سے شکست خوردگی کا داغ لئے رخصت تو ہو چکا ہے لیکن اربوں ڈالر کا جدید ترین ا سلحہ یہاں رہ گیا ہے جو طالبان اور دیگر عالمی و علاقائی دہشت گرد گروپوں کے ہاتھ لگا ہے، جس نے خطے میں ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ شاید یہاں افغانستان میں اپنی موجودگی قائم کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ بگرام ہوائی اڈے اور چھوڑے گئے اسلحے کی بازیابی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ امریکہ شکست کھا جانے کے باوجود، یہاں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتا ہے کیونکہ چین اپنے عالمی منصوبے کے
تحت یہاں موجود ہے۔ وہ ملکوں کو جوڑ رہا ہے۔ سی پیک کامیابی سے روبہ عمل ہے۔ مئی 2025ءکی پاک بھارت جنگ نے چینی حربی و ضربی فعالیت اور جدیدیت ثابت کر دی ہے۔ امریکہ پاکستان کے صدقے اور واری جا رہا ہے لیکن چین کے بڑھتے ہوئے قدم اور عالمی منظر پر اپنے نشان ثبت کرنے کی کامیاب حکمت عملی امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ بحرہند میں چین کو گھرنے اور اس مقصد کے لئے بھارت کو ابھارنے کی امریکی پالیسی شاید کامیاب نہیں ہو سکی ، اس لئے خطے کی سیاست بھی تبدیلیوں سے ہمکنار ہو رہی ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سردجنگ کے دوران ہم نے امریکی اتحادی بننا پسند کیا۔ امریکی حلیف کے طور پر ”کیا کھویا کیا پایا“ بارے دو آرا پائی جاتی ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ ہو یا دہشتگردی کی عالمی جنگ پاکستان نے امریکی اتحادی کا رول ادا کیا۔ بڑی مہارت کے ساتھ کردار ادا کیا۔ پاکستان آج جہاں کھڑا ہے جیسا بھی ہے وہ ہماری امریکی اتحادی بننے کی پالیسی کا شاخسانہ ہے، بہرحال بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان نے چین کا اتحادی بننا قبول کر لیا ہے۔ ریاست پاکستان اس حوالے سے یکسو ہے لیکن سیاست میں انتشار نظر آرہا ہے، خلفشار نظر آرہا ہے۔ ریاست اندرونی اور بیرونی محاذوں پر فکری اور عملی میدان میں ریاست کے دشمنوں سے نبرد آزما ہے۔ دہشت گردی کا عفریت سامنے ہے۔ پاکستان دشمن قوتیں پوری طاقت کے ساتھ روبہ عمل ہیں اور پاکستان کو لہولہان کرنے پر تلی ہوئی ہیں، ان کی ایسی پالیسی کے اثرات کھلے عام نظر آرہے ہیں۔ دوسری طرف ہماری معیشت بھی شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ ہم لاکھ کہیں کہ معاشی معاملات ٹھیک ہیں یا ٹھیک ہو رہے ہیں لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ ٹیکس ٹارگٹ پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ حکومت ہر طرح سے عوام کو نچوڑ کر آئی ایم ایف
کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے کے لئے وصولیاں کر رہی ہے تاکہ بجٹ میں طے کردہ وصولیوں کے اہداف پورے ہو سکیں۔ حکومت کی اس پالیسی نے عوام کی ایسی تیسی پھیر دی ہے۔ معاشی نمو کی پست شرح، توانائی کے بلند ریٹس اور دیگر ایسے ہی احوال نے بیروزگاری میں اضافہ کیا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید گھٹ رہی ہے، اوپر سے ٹیکسوں کی بھرمار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور افتراق و انتشار کی فراوانی نے معاملات میں عدم استحکام کو بڑھاوا دیا ہے۔ فوجی قیادت معاشی استحکام کے لئے ، سیاسی قیادت کی معاونت و مدد کر رہی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ فوجی قیادت سفارتی محاذ پر بھی، سیاسی قیادت کی معاونت و مدد کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو استحکام اور فلاح حاصل ہو سکے۔ سیاسی میدان میں حکمران اتحاد کی کارکردگی کچھ زیادہ بہتر نظر نہیں آرہی ہے۔ فوج دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہی ہے۔ کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھا رہی ہے۔ فوج کو کامیابی ہو ہی نہیں رہی ہے بلکہ وہ نظر بھی آرہی ہے۔ دہشت گرد اور ان کے معاونین اور سرپرست پریشان ہیں، حیران ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے لیکن سیاسی میدان میں جو کچھ ہونا چاہئے وہ نہیں ہو رہا ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی کی افتراق و انتشار کی حکمت عملی ایک طرف، حکومت سے تو اپوزیشن اتحاد بھی درست طریقے سے سنبھالا نہیں جا رہا ہے۔ عمرانی بیانیے کے مقابل کوئی مثبت اور جان دار بیانیہ تخلیق نہیں کیا گیا ہے۔ حکمران اپنی پبلسٹی کے لئے تو دن رات ایک کرتے نظر آتے ہیں لیکن ملک دشمن و پاکستان دشمن بیانیے کے مقابل کوئی بیانیہ تخلیق و ترویج کرنے میں ان کی عدم دلچسپی حیران کن ہے، ایسے لگتا ہے کہ دہشت گردوں اور سیاسی انتشاری ٹولہ سے نمٹنے کی ذمہ داری فوج کے سپرد کر کے حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں، انہیں اس بات سے اطمینان ہے کہ عمران خان فوج کو ہی نشانہ بنا رہا ہے اور فوج ہی اس سے نمٹے گی۔ یہ درست نہیں ہے کیونکہ ملک اور قوم فوج ہی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ حکمرانوں کا آئینی ، قانونی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور نبھانے کی کوشش کریں۔ فوج تو اپنا فرض نبھا ہی رہی ہے اور اس نے اعلان بھی کر دیا ہے۔ قومی یکجہتی، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ سیاست دان و حکمران کہاں کھڑے ہیں۔
کور کمانڈر کانفرنس کا پیغام
09:03 AM, 27 Dec, 2025