برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے حوالے سے پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کی یادوں کے تذکرے کو آگے لے کر چلیں تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان برسوں میں عرفان صاحب مرحوم ومغفور سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لالکڑتی راولپنڈی میں پڑھاتے تھے۔ اُن سے تعلق اور دوستی کا رشتہ قائم ہوا تو میرا بھی اس سکول میں آنا جانا شروع ہوا۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد فضل صاحب سمیت عرفان صاحب کے دیگر رفقائے کار سے کچھ تعلق تعلقات قائم ہو گئے۔ میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد فضل صاحب جو مزاج کے کسی حد تک سخت مگر بہت محنتی اُستاد ہونے کے ساتھ اپنے پیشے سے گہری وابستگی رکھتے تھے وہ اور اُن کے دیگر سٹاف ممبران عرفان صاحب کی خداداد صلاحیتوں اور ذاتی خوبیوں کے معترف اور بے پناہ قدر دان تھے۔ اگر میں یہ کہوں کہ برادرِ محترم و مکرم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کو اپنے ساتھیوں میں مرکزی اور ممتاز حیثیت حاصل تھی تو اس میں کچھ بھی مبالغہ نہیں ہو گا۔
سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لالکڑتی کے بارے میں بتانا چاہوں گا کہ یہ اگرچہ چھوٹا سا سکول تھا لیکن راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے سکولوں میں اِسے نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ ہر سال ضلع کی سطح پر منعقدہ پانچویں جماعت کے وظیفے کے امتحان میں وظیفہ حاصل کرنے والوں میں اس سکول کے طلبہ کی تعداد سب سے زیادہ یا کنٹونمنٹ بورڈ کے دوسرے سکولوں سے بڑھ کر ہوتی تھی۔ ہیڈ ماسٹر محمد فضل صاحب مرحوم جو ماسٹر فضل صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے راولپنڈی کے جنوب مشرق میں تقریباً 25 کلو میٹر کے فاصلے پر قصبہ بسالی کے ایک نواحی گاﺅں کے رہنے والے تھے۔ اُن کی محنت اور لگن کی بنا پر سکول کے اچھے نتائج کی وجہ سے سکول کو ایک خاص پہچان حاصل تھی تو عرفان صاحب کی اس سکول کے تدریسی سٹاف میں شمولیت سے اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ عرفان صاحب کے ساتھ جو دیگر اساتذہ یہاں پڑھاتے تھے اُن سے بھی جلد ہی میری اچھی شناسائی اور ایک طرح کا دوستی کا تعلق قائم ہوا۔ راجہ اشتیاق، ماسٹر محمد صدیق، راجہ اسحاق، ماسٹر عبدالمجید اور ماسٹر یونس صاحبان وغیرہ کے چہرے میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ اللہ غریقِ رحمت کرے بلا شب یہ سب انتہائی قابلِ قدر شخصیات کے مالک تھے۔ میرے لیے ان سب کا فرداً فرداً ذکر کرنا ممکن نہیں تاہم ماسٹر محمد صدیق صاحب مرحوم اور راجہ اشتیاق صاحب
مرحوم کا مختصر ذکر کروں گا۔ ماسٹر محمد صدیق جنہیں عمر میں کچھ بڑا ہونے اور فربا جسم کا مالک ہونے کی بنا پر ہم لالہ صدیق کہہ کر پکارتے تھے انتہائی شریف النفس، ملن سار، مہمان نواز اور محبت کرنے والی شخصیت تھے۔ مجھے عرفان صاحب کے ساتھ اُن کے گاﺅں بسالی میں کم از کم دو بار اُن کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ راجہ اشتیاق جنہیں ہم ”راجہ دھڑلو“ بھی کہتے تھے ان کے ساتھ ہم تاش کھیلتے تو وہ بہت جذباتی ہو جایا کرتے تھے۔ وہ بھی بسالی کے قریب ایک چھوٹے سے گاﺅں ”ڈھکی“ کے رہنے والے تھے۔ راولپنڈی لالہ زار میں میرے گھر کے قریب ہی رہائش پذیر تھے جہاں مسجد حنیفہ میں نمازوں بالخصوص جمعہ کی نماز کے دوران ہماری آپس میں ملاقاتیں ہو جایا کرتی تھیں۔
عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی سی بی پرائمری سکول اُولڈ بلڈنگ میں مرکزی حیثیت تھی تو جنوری 1970ءمیں وہ بطورِ سینئر ماسٹر ترقی پا کر سی بی سرسید سائنس کالج میں تعینات ہوئے تو یہاں بھی جلد ہی انہوں نے جہاں سٹاف میں اپنے لیے ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا وہاں پرنسپل عبدالقادر قریشی مرحوم بھی اُن کی صلاحیتوں کے معترف اور انہیں قدرو منزلت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ مجھے یاد ہے کہ 1970ءکا سال ملک میں عام انتخابات کا سال تھا۔ اُس وقت ملک کی اسلام پسند جماعتوں جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی جماعتِ اسلامی اور سوشلسٹ نظام کی حامی جماعتوں جن میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی سر فہرست تھی کے درمیان سخت نظریاتی کشمکش اور محاذ آرائی کا سلسلہ چل رہا تھا۔ ہمارے ادارے سی بی سرسید سائنس کالج کا ماحول جماعتِ اسلامی کے خلاف اور سٹاف کی اکثریت پیپلز پارٹی کے نظریات کی حامی تھی۔ میں جو عرفان صاحب اور اُن کے گھرانے سے قریبی تعلق کی بنا پر جماعتِ اسلامی کے نظریات کا حامی تھا ایک سیدھا سادہ دیہاتی اور پینڈو ہونے کی بنا پر جماعتِ اسلامی سے اپنی ہمدردیوں کو نہ چھپا سکا اس طرح سٹاف میں موجود جماعتِ اسلامی کے مخالفین کا جلد ہی نشانہ بننا شروع ہو گیا لیکن عرفان صاحب جماعتِ اسلامی سے ہمدردی رکھنے کے باوجود اپنی خوبصورت شخصیت اور شائستہ اطوار کی بنا پر اس طرح کی کسی بھی مخالفت کا نشانہ بننے سے محفوظ رہے۔
یہ غالباً وسط 1972ءکی بات ہے کہ سی بی سرسید کالج میں پرنسپل عبدالقادر قریشی جو طویل رخصت پر آسٹریلیا منتقل ہو چکے تھے کی جگہ پر ایم ایچ ہمدانی پرنسپل بن کر آئے۔ ہمدانی صاحب کا تلہ گنگ کے شیعہ سید خاندان سے تعلق تھا۔ اس دوران سکول اور کالج الگ ہو گئے۔ کالج میں اُردو کے لیکچرار کی ضرورت تھی تو عرفان صاحب نے اس کے لیے انٹرویو دیا۔ انٹرویو بورڈ جس میں ہمدانی صاحب بھی شامل تھے نے متفقہ طور پر عرفان صاحب کی کالج میں تعیناتی کی منظوری دے دی۔ عمومی خیال یہ تھا کہ ہمدانی صاحب ایک دوسرے سینئر سٹاف ممبر رانا عزیز الدین مرحوم کے نام کی سفارش کریں گے کہ رانا عزیز الدین کے ہمدانی صاحب سے گہرے تعلقات تھے لیکن ایسا اس لیے نہ ہو سکا کہ عرفان صاحب کو اللہ کریم نے جو خداداد صلاحیتیں، اہلیت، قابلیت اور شائستہ اطوار عطا کر رکھے تھے اُن کو نظر انداز کرنا ہمدانی صاحب یا کسی اور کے لیے ممکن نہیں تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ عرفان صاحب کالج میں ہمدانی صاحب کے ایسے دست و بازو بنے کہ پچھلی صدی کی ستر کی دہائی کے یہ برس جب کالجز میں سٹوڈنٹس کی طرف سے مختلف مطالبات کی آر میں احتجاجی مظاہرے کرنا اور کلاسز کا بائیکاٹ ایک معمول تھا تو ہمدانی صاحب سب سے زیادہ بھروسہ اور اعتماد عرفان صاحب پر کیا کرتے تھے اور سٹوڈنٹس کے ساتھ اُن کے اچھے ریلیشن شپ اور اثرو رسوخ کی بنا احتجاجی مظاہروں کو ختم کرانے میں کامیابی حاصل کرتے تھے۔
ہمدانی صاحب مرحوم پچھلی صدی کے اَسی کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان کالج جدہ میں پرنسپل بن کر چلے گئے تو پروفیسر امین بھٹی کالج کے نئے پرنسپل مقرر ہوئے۔ پروفیسر امین بھٹی صاحب کے دور میں 1989ءمیں قبل از اپنی ریٹائرمنٹ تک عرفان صاحب کا شمار پرنسپل امین بھٹی کے بھی انتہائی قابلِ اعتماد ساتھیوں میں ہو تا رہا۔ بلا شبہ سرسید کالج کی اعلیٰ کارکردگی، اس کے شاندار نتائج اور ہم نصابی اور نصابی سرگرمیوں میں عرفان صاحب کا جاندار حصہ رہا۔ یہی وجہ ہے اس دور میں کالج میں جو ان کے شاگرد رہے اور بعد میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے وہ عرفان صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اُن کے ساتھ اپنے نیازمندانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ فخر کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ سرسید کالج کے سٹاف میں جہاں عرفان صاحب کو قدر و منزلت حاصل رہی وہاں پروفیسر عبدالرحمان جو بعد میں سرسید کالج سے بطورِ وائس پرنسپل ریٹائر ہوئے، پروفیسر اکرام الحق، پروفیسر سید فاروق علی شاہ، پروفیسر اشرف چوہدری، پروفیسر عارف شیخ اور لائبریرین رشید ملک وغیرہ عرفان صاحب کے قریبی حلقہ احباب میں شامل تھے۔ (جاری ہے)
عرفان صدیقی صاحب ۔۔۔ یادیں اورباتیں!
09:02 AM, 27 Dec, 2025