ایسے بھی ہیں مہرباں زندگی کی راہ میں

09:01 AM, 27 Dec, 2025


اگر کسی شخص کو اپنا وطنِ مالوف چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں سکونت اختیار کیے ہوئے نصف صدی کے قریب گزر جائے اور وہاں کا اعلیٰ عہدیدار بھی منتخب ہو جائے لیکن وہاں کی قومی اور سرکاری زبان تک نہ سیکھ سکے تو اسے کیا کہا جائے۔ اپنی زبان سے محبت یوں تو اچھی بات ہے لیکن دوسری زبانیں سیکھنے اور بولنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ زبانیں علم اور معلومات کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہیں لیکن اس دنیا میں برائن ڈی پینے جیسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو کرہ ارض پر کہیں بھی چلے جائیں اور کسی بھی مقام پر پہنچ جائیں، اپنے مادری زبان کے سوا کوئی دوسری زبان نہیں سیکھتے۔ ڈی پینے صاحب کون ہیں، اس سوال کا جواب آگے آنے والی سطور میں پیش کیا جائے گا۔
یہ تو سب نے سن رکھا ہے بلکہ دیکھ بھی رکھا ہے کہ کئی ملکوں کے سربراہ جب دوسرے ممالک کے دوروں پر جاتے ہیں تو وہاں اپنی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ان کی بات مقامی لوگوں کو سمجھانے کے لیے ساتھ ایک مترجم بھی موجود ہوتا ہے جو میزبان ملک کی زبان میں مہمان کی باتوں کا ترجمہ کرتا جاتا ہے بلکہ اب تو اکثر اوقات انگریزی میں بھی ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبر جہاں جہاں پہنچے وہاں کے لوگوں کی سمجھ میں بھی آ جائے۔ اس طریقے کا مشاہدہ ہم نے حال ہی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے دوران بھی کیا جب انہوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کی تو فارسی زبان میں گفتگو کی۔ اس موقع پر ایک مترجم نے ان کی باتوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں یہ ایک معمول کا طریقہ کار ہے۔
ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ جب لوگ بیرونی ممالک کے سفر پر جاتے ہیں تو انہیں وہاں کی زبان سیکھنا پڑتی ہے کیونکہ وہاں کے لوگ بالعموم اپنی زبان کے سوا کوئی دوسری زبان نہیں جانتے۔ ایسی صورت حال کا تجربہ عام طور پر سعودی عرب جانے والوں کو تو بہت زیادہ ہوتا ہے جب ہمارے یہاں سے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی وہاں جا کر ”لینگویج بیریئر“کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک صوبے کے لوگ دوسرے صوبے میں جائیں تو وہاں کی زبان سے ناواقف ہونے کے باعث صاف پہچانے جاتے ہیں بلکہ اس صورت حال کے نتیجے میں ماضی میں بہت سے ناخوشگوار واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ یہ سب تو ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی شخص کسی قوم کا نمائندہ منتخب ہو جائے لیکن وہاں کی زبان ہی نہ جانتا ہو۔ جی ہاں آپ نے ٹھیک پہچانا، یہ خبر ہے امریکہ کی۔ وہی امریکہ جو اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ 50 ریاستوں پر مشتمل دنیا کے اس طاقتور ترین ملک کی قومی اور سرکاری زبان انگریزی ہے۔ یہاں کے کسی بھی ریاستی یا سرکاری عہدیدار کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ وہ انگریزی جانتا ہو۔ 
حال ہی میں امریکہ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں جن میں بہت سے غیر ملکی بھی میئر کے عہدوں کے لیے کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سب کے سب انگریزی جانتے ہیں۔ امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے میئر کا انتخاب تو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی سکرینوں پر دکھایا تھا اور جیتنے والے امیدوار ظہران ممدانی کی انگریزی تقریر بھی براہ راست نشر کی گئی تھی جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ کو للکارا تھا۔
عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ امریکہ میں رہنے والا ہر شخص انگریزی بول لیتا ہوگا لیکن اب جو خبر سامنے آئی ہے اس سے انکشاف ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں میں سے ایک کا نام میساچوسٹس ہے۔ اس ریاست کے ایک اور شہر کا نام لارنس ہے۔ اس شہر کی آبادی کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ لارنس کے لوگوں نے ا س بار جس شخص کو اپنا میئر منتخب کیا ہے اس کا نام برائن ڈی پینے ہے جن کا آبائی ملک ڈومینیکن ری پبلک ہے جو امریکہ کے ہمسایہ ملکوں میں شامل ہے۔ اس ملک کی سرکاری زبان ہسپانوی ہے۔ اس طرح امریکی شہر لارنس کے نومنتخب میئر ڈی پینے کی مادری زبان ہسپانوی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسی کی دہائی کے اوائل میں امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔ یعنی انہیں امریکہ آئے ہوئے کم وبیش45سال ہو چکے ہیں۔ اتنے عرصے میں تو دو نسلیں جوان ہو جاتی ہیں۔ اتنی مدت کسی دوسری جگہ گزارنے کے بعد تو آدمی اپنی اصل شناخت بھی بھول جاتا ہے لیکن ڈی پینے امریکہ کی سرکاری اور قومی زبان تک نہیں سیکھ سکے۔
ڈی پینے صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو ایک حوالے سے کمزور بھی لگا کہ انہوں نے امریکہ جیسے ملک میں آدھی سے زیادہ زندگی گزارنے کے باوجود انگریزی زبان سیکھنے کا تکلف ہی نہیں کیا لیکن ایک حوالے سے اس میں مضبوطی کا عنصر بھی نظر آیا جو ہمارے لیے قابل تقلید بھی ہو سکتا ہے۔ اس پہلو کی ترجمانی اقبال کے یہ اشعار بخوبی کرتے ہیں:
ہے یاد مجھے نکتہ سلمانِ خوش آہنگ
دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ
چیتے کا جگر چاہیے شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش و فرہنگ

مزیدخبریں