خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس گزر گئے

12:38 PM, 26 Dec, 2025

اسلام آباد : اردو ادب کی مشہور شاعرہ پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے آج 31 سال ہو گئے۔ پروین شاکر کی شاعری میں محبت، خوشبو، پھول، ہوا اور تتلی جیسے حسین جذبات کی جھلکیاں ملتی ہیں، اور یہی خصوصیات انہیں دیگر شاعروں سے منفرد بناتی ہیں۔

پروین شاکر 4 نومبر 1952 کو کراچی کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز بچپن ہی میں کر دیا تھا، اور جلد ہی وہ اردو ادب میں ایک نمایاں شخصیت بن گئیں۔ شاعری کے علاوہ انہوں نے نثر بھی لکھی، مگر غزلوں اور نظموں نے انہیں شہرت کی بلندیاں دیں۔ ان کا ابتدائی قلمی نام "بینا" تھا، لیکن ان کا پہلا مشہور مجموعہ خوشبو 1976 میں شائع ہوا، جس نے ادب کی دنیا میں تہلکہ مچادیا اور انہیں "خوشبو کی شاعرہ" کا خطاب دے دیا۔

پروین شاکر کی دیگر اہم تصانیف میں صد برگ، خود کلامی، انکار، ماہ تمام، کف آئینہ اور گوشہ چشم شامل ہیں۔ ان کی شاعری کو آج بھی بہت سراہا جاتا ہے اور اردو ادب کے چاہنے والے ان کے اشعار کو دل سے پسند کرتے ہیں۔ انہیں 1990 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی جیسے بڑے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

بدقسمتی سے، پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد میں ایک کار حادثے میں 42 برس کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گئیں، لیکن ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور وہ ہمیشہ اپنے اشعار کے ذریعے دلوں میں رہیں گی۔

مزیدخبریں