بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ یہ ہمیشہ خود کو مذہبی آزادی کا علمبردار کہتا ہے۔ اس کا آئین بھی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ تاہم یہ سب زبانی کلامی دعوے اور کاغذی باتیں ہیں، جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ بھارت میں بسنے والی اقلیتیں اس کے رویے سے حد درجہ عاجز ہیں۔ یہاں بسنے والے عیسائی خوش نہیں ہیں، سکھ خائف ہیں، مسلمانوں کی زندگی اس نے اجیرن بنا رکھی ہے ، یہاں تک کہ نچلی ذات کے ہندووں اور دلتوں کا جینا دوبھر ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی مذہبی اقلیت سے متعلق کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا رہتا ہے۔ یہ واقعات محض معمول کے واقعات نہیں ہوتے ۔ بھارت میں یہ سب جرائم اور گھناونے واقعات ریاستی سرپرستی میں کئے جاتے ہیں۔
2002 میں بھارتی گجرات میں ہونے والی قتل و غارت گری اس کی ایک مثال ہے۔ یہ فسادات اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی سرپرستی میں ہوئے تھے۔ مودی نے مسلمانوں پر جو ظلم ڈھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بیسیوں گھر نذر آتش ہوئے اور ہزاروں مسلمان تشدد کا نشانہ بنے۔مقبوضہ کشمیر میں ہونے والا ظلم بھی سب کے سامنے ہے۔ کشمیریوں کی شہادتیں اور خواتین کی بے حرمتی معمول بن چکی ہے۔ بھارت کا جنگی جنون دیکھیں کہ اس نے چھوٹے بچوں کو بھی نہیں بخشا۔ کشمیری بچوں کے منہ پر پیلٹ گن سے گولیاں برسا کر انہیں بینائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ بھارت کا اصل چہرہ ہے، باقی سب کاغذی اور خیالی باتیں ہیں۔
اب تازہ واقعہ بہار کے وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں رونما ہوا ہے۔ قصہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں کو سرٹیفیکیٹس دینے کی تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار مہمان خصوصی تھے۔ جب ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر سرٹیفیکیٹ لینے کے لئے آئی تو نتیش کمار نے اس کے حجاب کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ کیا ہے اور ہاتھ بڑھا کر اسے کھینچ کر نیچے کر دیا۔اس طرح وہ خاتون بے حجاب ہو گئی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ایک شور مچ گیا۔سوال اٹھا کہ کیا کوئی حکومتی عہدے دار کسی کے بھی ساتھ ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ اس واقعے کو خواتین کے تحفظ اور وقار کے منافی قرار دیا گیا۔ اس پر احتجاج ہوتا رہا۔ پاکستان کے اندر بھی اس واقعے کی گونج سنائی دی اور مذمتی بیانات جاری ہوئے۔پنجاب اسمبلی میں ایک مذمتی قرار داد پیش ہوئی۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ خود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھیں اور نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ نتیش کمار لیکن ڈھیٹ بنا رہا۔ بعدازاں غالبا کسی صحافی نے جب اس گھٹیا حرکت سے متعلق سوال کیا تو اس نے ڈھٹائی سے جواب دیا کہ اس نے محض حجاب ہی تو چھوا تھا، اگر کہیں اور چھو لیتا تو پتہ نہیں کیا قیامت آجاتی۔
یہ کسی فرد واحد کا رویہ نہیں ہے۔ یہ ایک طبقے ، گروہ بلکہ ریاست کی سوچ کی عکاسی ہے۔ اس حرکت سے پیغام یہ جاتا ہے کہ کوئی بھی اعلیٰ ریاستی یا حکومتی عہدے دار کسی بھی اقلیت کے ساتھ کوئی بھی حد پار کر سکتا ہے۔ اس واقعے سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ شہریوں کو اقلیتوں سے ہر طرح کا سلوک کرنے کی اجازت ہے اور ریاست کی طرف سے ایسے اقدامات کو تحفظ دیا جائے گا اور کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔ بالکل ایسے جیسے بھارتی گجرات میں ہونے والی قتل و غارت گری میں کسی سے جواب طلب نہیں کیا گیا تھا۔ یا ایسے ہی جیسے کشمیر میں ہونے والے ظلم پر ریاست اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ کی حرکت سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ بھارت میں خواتین کے عزت و وقار کی کیا صورتحال ہے اور اسے کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ہم جب حجاب یا پردے کی حمایت کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کسی خاتون کا حق ہے کہ وہ حجاب کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔ کسی کو زبردستی حجاب اوڑھا دینے کی حمایت کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی کو زبردستی بے حجاب کرنے کی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی وزیر اعلیٰ نے نہایت گری ہوئی حرکت کی ہے۔ یہ حرکت گلی محلے سے گزرتا کوئی اوباش کرتا تو اسے اس کا ذاتی فعل سمجھا جاتا ۔ مگر جب اسٹیج پر کھڑا ایک اعلیٰ حکومتی عہدے دار یہ حرکت کرئے تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا کہ یہ ریاست کی پالیسی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کبھی مسلمانوں کے حجاب پر اعتراض کیا جاتا ہے، کبھی دوپٹے پر، کبھی داڑھی پر، کبھی مذہبی رسومات پر۔ دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی گنجائش مسلسل سکڑ رہی ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، اقلیتوں کے خلاف قوانین ، عبادت گاہوں کی مسماری اور جلاو گھیراو، یہ سب اس تصویر کے مختلف رخ اور رنگ ہیں۔ لیکن بھارت آج تک ایسی کسی رپورٹ کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔ وہ نہایت ڈھٹائی سے ان رپورٹس کو مسترد کر دیتا ہے۔
آج کرسمس کے دن یہ کالم لکھ رہی ہو ں تو سامنے ٹیلی ویژن پر خبریں چل رہی ہیں کہ بھارت میں کرسمس کے موقع پر انتہا پسند ہندو وںنے مسیحی برادری کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔یہ کسی ایک جگہ کا قصہ نہیں ہے۔ بلکہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتہاپسندوں نے مسیحی شہریوں کو کرسمس کا جشن منانے سے روکا۔ ان کی مار پیٹ کی۔اور ان کی جشن کی جگہوں اور سجاوٹ کو تہس نہس کر دیا۔ کیرالہ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر بھی حملہ ہوا اور بچوں کو زد وکوب کیا گیا۔ اندازہ کیجئے کہ شہری اگر اپنے ملک میں اپنی مذہبی رسومات بھی ادا کرنے سے قاصر ہوں تو وہ کن حالات میں زندگی گزارتے ہوں گے۔ بھارت میں ہر اقلیت کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔ عید الاضحی مناتے وقت مسلمانوں کو بھی اس رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گائے کی قربانی کرتے وقت ، ان کی اپنی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
بھارت کے اس رویے کی وجہ سے وہاں علیحدگی کی دو درجن سے زائد چھوٹی بڑی تحریکیں چل رہی ہیں۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو دنیا میں سب سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں بھارت میں چل رہی ہیں۔ بھارت اندر سے خوفزدہ ہے، لیکن کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ یہ اپنا رویہ درست کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ جو بھارت اپنے 20 کروڑ سے زائد ہندووں کو دلت یا اچھوت کہہ کر حقوق دینے پر تیار نہیں ہے اور ان سے بدترین سلوک کرتا ہے ، وہ مسلمانوں ، سکھوں ، عیسائیوں کو کیا حقوق دے گا۔
بھارت کی انتہاپسندی اور اقلیتیں!!
09:10 AM, 26 Dec, 2025