مظہر عابدی پانی کی بوتل کا خریدار نہیں

09:09 AM, 26 Dec, 2025

مظہر عابدی کثیرالجہت شخصیت کے مالک ہیں۔ شاعر ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ فنِ موسیقی پر بھی گرفت رکھتے ہیں۔ ہزاروں طرزیں بنائی ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی کمپوزیشن دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کی ہے۔ راگ کیا ہے سْر کیا صوتی حسن کے نقوش سے ایسی واقفیت بہت کم شعرا کے ہاں دیکھی ہے۔ہم نے بیک وقت کئی زبانوں میں ایسی روانی سے شعر کہتے بہت کم شعرا کو دیکھا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی تخلیق میں کئی زبانوں کے اختلاط سے خیال باندھتے ہیں۔ ان کے نعتیہ اشعار میں فضائل کے ساتھ سیرت کے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو جدید زندگی کے مسائل کے بہترین حل پیش کرتے ہیں۔ میں مظہر عابدی کے لیے کوئی بھی رسمی اور عامیانہ بات نہیں کرنا چاہتا جیسے ہمارے ہاں ہر شاعر ادیب کے بارے میں رٹی رٹائی باتیں اور گھسی پٹی خوبیاں جڑ دی جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے اسلوب کی انفرادیت پر مضمون لکھے جاتے ہیں جنھیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسلوب کس بلا کا نام ہے۔ مظہر عابدی پر نصابی اسائنمنٹ بنا کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ 
پچیس ہزار سے زائد نوحے لکھنے والا شاعر، جس کا کلام دنیا کے ہر ملک اور پاکستان کے ہر شہر ہر گاؤں میں پڑھا اور سنا جاتا ہو، حق رکھتا ہے کہ اس پر مختلف بات کی جائے۔
ایسا شخص جو اپنی شخصیت کے ہر پہلو سے خالص فن کار ہو، جو سٹیج پر گا لیتا ہو، مْسکراتا اور روتا ہو لیکن ذرا سی تعریف سن کر نوبیاہتا دلہن کی طرح شرمانے لگے۔میں یہ اس دور کی بات کر رہا ہوں جس میں ہم نے رنگ برنگے مسخرے شاعر چھچھور پن کی آخری سیڑھی پر پہنچتے دیکھتے ہیں۔ اکثراپنی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اپنی شان میں درباری مضامین لکھ کر دوسروں کے نام سے چھپوا دیتے ہیں۔ کہیں کسی انعام کے لیے مرے جا رہے ہیں کہیں کسی دعوت نامے کے لیے شور مچا رہے ہیں۔ پھر یہ مظہر عابدی کہاں سے آ گیا بھائی؟؟؟؟؟۔ 
مظہر عابدی سادگی پسند ہیں، یہ ان بڑے 
لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت میں عمر بسر کرتے ہوئے بھی نہ تو سرمائے کی مرکزیت کو قبول کیا اور نہ زمانے کی شطرنجی نفسیات کو۔ ہاں فن کی مرکزیت کو قبول کیا۔ ایک صنف پر کام کیا اور ایسا بھرپور کام کیا کہ دنیا کا کوئی خطہ ان کے کلام کی بازگشت سے خالی نہ رہا۔برسوں پہلے جب سرحد پار سے گیت لکھنے کی پیش ہوئی تو انکار کر دیا۔ شہرت اور مال کے پیچھے نہیں دوڑے۔ بس ایک ہی صنف میں بڑا اور عظیم کام کیا۔ 
ان کے معاشی حالات یہ ہیں کہ ملوکیت کے فیشن سے متاثر نہیں ہوئے۔ مطلب صاف ہے انھیں ایڈم سمتھ یا جان مینارڈ کینز کی باتیں اچھی نہیں لگیں۔ اب بتائیے کہ ایک گلاس سادہ پانی کو پلاسٹک کی بیمار بوتل میں بند کر کے بیچنے والے اور بوند بوند سے منافع کمانے والے معاشرے کو مظہر عابدی کہاں سے سمجھ آئے گا؟؟ وہ آدمی جو آج بھی نہر سے مشک بھرنا چاہتا ہو، دریا پر بند باندھ کر ذخیرہ کرنے والے لوگوں میں کہاں سے فٹ بیٹھے گا۔ میں جب ایسے کسی شخص پر لکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ دو مختلف تہذیبوں یا دو زمانوں کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ آپ آج اقدار کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیجئے کہ جدید کون سا ہے۔
مظہر عابدی جدید آدمی ہیں۔ نہ ان پر جوتا سوار ہوتا ہے نہ دماغ پر کپڑا لادا جا سکتا ہے۔ کوئی گاڑی ان کی تخلیقی شناخت نہیں چھین سکی اور کسی کاروبار کی چوکیداری ان کی نیند حرام نہیں کر سکتی۔ بھئی کتنا بوجھ کم کیا ہے کہ تخلیق کے رستے میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔ اپنی پوٹلی اٹھائے اور دنیا میں ہر جگہ پہنچ گئے۔
2006 میں شام گئے تو کیا منظر دیکھا۔ شدید سردی کی آمد ہے۔ دن ڈھلتے ہی روضہ حضرت سکینہ کی پہریداری برف کے لشکروں نے سنبھال لی ہے۔ لیکن زندان میں لوگوں کا ایسا ہجوم ہے کہ ایئر کنڈیشنر چل رہا ہے۔ مظہر عابدی پرسہ داروں کا سیلاب عبور کرتے جاتے ہیں۔ یکا یک ان کے کانوں میں انھی کا کلام گونجتا ہے۔ نوحہ خوانوں کو دیکھتے ہیں کس ملک سے ہیں؟ کس قوم سے ہیں؟ کیا زبان بولتے ہیں کوئی علم نہیں لیکن مظہر عابدی کی زبان جانتے ہیں۔ ان کا کلام پڑھا جا رہا ہے۔ 
آبدیدہ ہو گئے۔ارے کراچی کے حجرے میں لکھے گئے الفاظ نے یہ جسارت کی کہ شام کے زندان پہنچ گئے اور یہیں پڑاؤ ڈال لیا۔ زائروں نے بتایا قبلہ عراق میں بھی پڑھے جاتے ہیں۔ مکہ، مدینہ، نجف کربلا، مشہد، سامرہ، قم حتی کہ امریکہ یورپ اور دنیا کے ان منجمد علاقوں نے بھی آپ کے کلام سے حرارت لی ہے جہاں زندگی کی سانس ہمکنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ حیران ہوئے۔ کہنے والے نے کہا محترم ہم نے بین الحرمین آپ کے نوحے گونجتے ہوئے سنے ہیں۔ہم نے خود دیکھا ہے کہ آپ کا کلام روضہ عباس کا گنبد چومتا ہے۔ ہم بہت سے دوستوں سے واقف ہیں جو جنت البقیع میں مظہر عابدی کے نوحے بطور ہدیہ پیش کرتے آئے ہیں۔ 
رثائی ادب کے فروغ میں ان کا کام ناقابل فراموش ہے۔ رثائی ادب میں نوحے کو کس حد تک قبول کیا جاتا ہے یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ مظہر عابدی نے وہ فضا ہموار کی ہے کہ جدید تر غزل، نظم اور دیگر اصناف میں رثائی علامتوں نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ انسانیت، حریت، خود داری، مظلومیت اور حقانیت سے جڑی علامتوں نے ہماری زبان کو ایسا لہجہ ضرور دیا ہے جس میں انسانی ضمیر زندہ دکھائی دیتا ہے۔ مزاحمتی ادب کی تمام تحریکوں میں ایسے استعارے جگمگاتے دکھائے دیتے ہیں جن کا مادہ ظالم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت ہوتا ہے۔ یہی جنگ اس زمین پہلے روز سے جاری ہے۔ اسی خلیج پر آج بھی دنیا کی ساری ترقی لا یعنی ہو رہ جاتی ہے۔ تاریخ کی بے مثال تہذیبیں اسی معمے کو حل نہ کر پانے کی وجہ سے محض آثارِ قدیمہ بن کر رہ گئیں۔ یہ مسئلہ آنے والے دور میں بھی سر اٹھائے گا اور اس میں فیصلہ کن کردار ہماری سوچ کا ہو گا۔ مظہر عابدی نے اپنے فن کے ذریعے اس نظام پر کاری ضرب لگائی ہے جو ظالم بناتا ہے اور خود مظلوم پیدا کرتا ہے۔ آخر میں ایک اور بات ان کی شخصیت کے بارے میں ضرور کہوں گا۔
ایک برتن میں ایک ہی جنس خالص آ سکتی ہے۔ مظہر عابدی اگر دامن میں مال اکٹھا کرتا تو کبھی مظہر عابدی نہ ہوتا۔

مزیدخبریں