اسلامو فوبیامیں ہندوستان سب سے آگے

09:08 AM, 26 Dec, 2025

بھارت کا قانون کیا ہے! دنیا کا کوئی بھی قانون کسی عمارت یا جائیداد، وہ بھی جو تعلیم دینے کا مرکز ہو، کو محض شبے کی بنیاد پر بغیر ضابطہ کی کارروائی کے گرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن شمال مشرقی بھارت کی ریاست آسام میں محض ایک مہینے کے اندر ایک نہیں تین تین مدرسوں کو محض دہشت گردی کے شبے میں منہدم کر دیا گیا۔
اس ریاست میں جہاں مسلم آبادی کا تناسب جموں و کشمیر کے بعد سب سے زیادہ یعنی تقریباً 35 فی صد ہے۔ ایک عرصہ سے یہاں مسلمانوں پر بنگلہ دیشی دراندازی کا ہوا ّ کھڑا کر کے عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ لیکن 2014ء میں جب سے ہندو قوم پرست جماعت یہاں بر سراقتدار آئی ہے، تب سے مختلف انداز سے مسلم آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس سے قبل مدرسوں کو برٹش دور سے چلی آ رہی سرکاری گرانٹ یہ کہہ کر ختم کر دی کہ ایک سیکولر حکومت مذہبی تعلیم کے لیے پیسہ نہیں دے سکتی جبکہ ان مدارس میں تمام عصری علوم پڑھائے جاتے تھے۔ اسی طرح مسلم آبادیوں کو ان جگہوں سے زبردستی اجاڑ دیا گیا جنہوں نے سیلاب سے متاثر ہونے کے باعث دوسری جگہوں پر اپنا آشیانہ بنایا تھا۔ ریاست کے وزیراعلیٰ نے یہ بھی حکم صادر کیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اگر کوئی بیرونی امام ان کے علاقہ میں آئے تو اس کے بارے میں پولیس کو مطلع کریں۔ سرما نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’جہادی" عناصر اماموں کے بھیس میں ریاست میں داخل ہو رہے ہیں اور ہمیں جب اس بارے میں اطلاع ملتی ہے تو ہم مدرسوں کو ختم کر رہے ہیں۔ جب سے سرما وزیراعلیٰ بنے ہیں تب سے تقریبا ً 700 مدرسوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بھی اسلامو فوبیا کے یکے بعد دیگرے واقعات پیش آرہے ہیں۔ اس صوبہ میں تمام ریاستوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی جوچار کروڑ زائد ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ نہ صرف ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے بلکہ وہ فیصلے بھی اسی سوچ کے تحت کرتے ہیں۔ اب ان کی حکومت نے ریاست میں مدارس کے سروے کا حکم دیا ہے جہاں بڑے بڑے اور شہرہ آفاق مدارس جیسے دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ علماء لکھنو، مدرسہ اصلاح میر، اعظم گڑھ، مظاہرالعلوم سہارنپور وغیرہ واقع ہیں۔ آزادی کے فوری بعد اردو ذریعہ تعلیم اچانک ختم کر نے کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں مدرسے معرض وجود میں آئے ہیں اور پورے ملک سب سے زیادہ مدارس اسی ریاست میں ہیں۔ چنانچہ سروے کے فیصلہ نے مسلمانوں میں ایک طرح کی بے چینی پیدا کردی ہے۔ جمعیت علماء ہند نے مدارس کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے۔
 بھارت میں حکام نے مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جس سے مودی حکومت کے دور میں قانون کے امتیازی نفاذ اور بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر شدید تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے۔
بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے دار الحکومت شملہ میں قائم سنجولی مسجد کی بالائی منزلوں کو گرانے کا کام حکومت کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا۔ مسجد کی دومنزلیںپہلے ہی گرائی جاچکی ہیں۔ مسجد کمیٹی کے صدر محمد لطیف نے بتایا کہ اس کارروائی سے مسلمانوں کو شدید تکلیف اور الگ تھلک کئے جانے کا احساس ہواہے۔انہوں نے کہاکہ حکام نے مقامی مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کے باوجود کارروائی کی ہے۔ اسی طرح کی کارروائی اتراکھنڈ میں بھی کی گئی ہے جہاں مسوری دہرادون ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے رجسٹریشن اور تعمیر کی منظوری حاصل نہ کرنے کی آڑ میں کنڈوگل گائوں میں ایک مسجد کی پہلی اور دوسری منزل سیل کر دی ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ بہت سی دوسری غیر قانونی تعمیرات کو چھوا بھی نہیں گیا جبکہ مساجد کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے مسلمانوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بھارت میں ریاستی سرپرستی میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی عکاسی کرتی ہیں جہاں مودی حکومت مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیلنے، ان کی مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات کا سہارا لے رہی ہے۔
بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع فتح پور میں ہندو توا غنڈوں نے دہائیوں پرانے ایک مسلم مزار کی توڑ پھوڑ کی۔ بجرنگ دل کے غنڈوں کے ایک گروپ نے مزار کو نقصان پہنچانے کے لیے ہتھوڑوں اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیاپر وائر ہوئی ہے جس میں ہندوتوا کارکنوں کو مزار کی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ غنڈوں کی سربراہی بجرنگ دل کا بلاک سربراہ نریندرا کر رہا تھا۔ اسے ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سناجاسکتا ہے’’بھارت میں رہنے والے لوگوں کو یہاں کے آئین، قومی ترانے اور وندے ماترم سے وفاداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘‘مزار کی توڑ پھوڑ نے علاقے کی مسلم برادری میں غم وغصے کو جنم دیا ہے۔کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے علاقے میںپولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

مزیدخبریں