امریکہ اور یورپ آج دو عالمی جنگوں کے لاکھ بہانے دنیا کے سامنے رکھیں کوئی ان پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ یہ راز آشکار ہو چکا ہے کہ یہ جنگیں وسائل کو لوٹنے اور ان پر قبضے کی جنگیں تھیں، کمزور ملکوں کو اپنا حلیف بنا لیا گیا، طاقتور ملک ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہو گئے، کچھ ملک ایسے تھے جو جنگ کا ایندھن فراہم کرتے رہے۔ برصغیر کا کردار بھی یہی تھا انگریزوں نے لاکھوں افراد اپنی فوج میں بھرتی کئے، قبضہ گروپوں کی راہ میں رکاوٹیں نہ رہیں، کوئی ان کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل نہ رہا تو جنگیں ختم ہو گئیں اور وسائل اپنی ترقی کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ برطانیہ کی ترقی میں برصغیر کے ہندوئوں سکھوں اور مسلمانوں کا لہو شامل ہے۔ برطانیہ کے چہرے کی چمک دمک میں ہمارے لہو کی سرخی نمایاں ہے۔
انگریز 1947 میں برصغیر سے تو نکل گیا لیکن خلیجی ریاستوں سے نکلنے میں اس نے مزید بیس بائیس برس لگا دیئے، ستر کی دہائی میں خلیجی ریاستیں انگریزوں کے تسلط سے پاک ہونا شروع ہوئیں تو دنیا کے نقشے پر سات خلیجی ریاستیں نمودار ہوئیں۔ ابوظہبی کا رقبہ 67,340 کلومیٹر، دوبئی 4,114 کلومیٹر، شارجہ 2590، عجمان 259 کلومیٹر، ام القوعین 777 کلومیٹر، راس الخیمہ 1165 کلومیٹر اور فجیرا 1165 کلومیٹر رقبے پر ہے، ان ریاستوں میں ابوظہبی تیل پیدا کرنے والی بڑی ریاست ہے جبکہ دوبئی میں تیل قدرے کم ہے۔ ابوظہبی اور دوبئی کے خاندانوں میں بہت دوستی تھی۔ ان خاندانوں کے سربراہ جناب شیخ زید اور جناب شیخ راشد کی ذاتی دوستی بھی شامل تھی۔ انگریزوں کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد دونوں مل بیٹھے اور دونوں نے اٹھارہ فروری 1968 کو وہ اہم فیصلہ کیا جس کو اس وقت جس نے سنا وہ مسکرایا اور سوچنے لگا یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے دونوں دوستوں دونوں لیڈروں نے ایک قوم کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور دیگر ریاستوں کو قائل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، یوں خلیج کی سات ریاستیں ایک پرچم تلے اکٹھی ہو گئیں اور یو اے ای کا قیام عمل میں آیا۔ شیخ زاید بن سلطان النہیان اس کے پہلے صدر قرار پائے جبکہ شیخ راشد نے مرکز میں اہم ذمہ داری سنبھالی دیگر تمام ریاستیں بھی حکومت میں شریک ہو گئیں۔ جناب شیخ زاید اور جناب شیخ راشد کو اپنی بات سمجھانے میں تین برس لگے لیکن جب سے اب تک تمام ایک مٹھی کی طرح ہیں وہ ایک بہترین نظام دینے میں کامیاب رہے۔
دونوں لیڈروں نے جب اپنے تصور کو حقیقت میں ڈھالنے کے سفر کا آغاز کیا تو دونوں کے سر پر کھلا آسمان تھا اور حد نگاہ پھیلے ہوئے صحرا کوئی نہ جانتا تھا یہاں کسی کونے سے کبھی تیل بھی نکلے گا، یہاں چار موسم نہ تھے، معدنیات کے خزانے نہ تھے، یہاں پانی بھی وافر نہ تھا کہ آبپاشی کی ضروریات پوری ہو سکتیں، جانوروں کی خوراک کے لئے سبزہ نظر آتا تھا نہ میٹھا پانی، آرام دہ زندگی اور پُرآسائش زندگی کا تو کوئی خواب بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ آج یو اے ای میں وہ سب کچھ ہے اور اس کی صرف ایک وجہ ہے جناب شیخ زاید اور جناب شیخ راشد اخلاص کی دولت سے مالامال تھے پھرانہوں نے ان ریاستوں کے بسنے والوں کے لئے سب کچھ حاصل کر لیا جو اول اول صرف یورپ میں نظر آتا تھا آج یو اے ای بحیثیت مجموعی یورپ کو کئی اعتبار سے پیچھے چھوڑ چکا ہے یہ یورپ سے زیادہ محفوظ ہے۔ ماڈرن دنیا کی ہر سہولت یہاں موجود ہے، دنیا کے ستر ممالک سے تعلق رکھنے والے مرد اور عورتیں یہاں کاروبار اور ملازمتوں سے وابستہ ہیں ہر ایک اپنے کلچر اور مذہب کے مطابق زندگی گزار رہا ہے، یہاں پانی، بجلی، گیس وافر دستیاب ہے لوڈشیڈنگ کا تصور نہیں، اشیائے صرف فقط اور فقط ایک نمبر ہیں، ملاوٹ کا تصور نہیں، تعلیمی ادارے ان گنت ہیں، ان کا معیار یورپی درسگاہوں سے بہتر ہے، لا اینڈ آرڈر مثالی ہے، شاہراہیں کشادہ ترین اور مصروف ترین ہیں۔ دو ریاستوں کے درمیان روزانہ ایک لاکھ کاریں، بسیں ٹرک آتے جاتے ہیں، حادثات نہ ہونے کے برابرہیں تمام دن آپ کو کسی گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ پولیس کے ناکے کہیں نہیں ہیں لیکن پولیس ہر جگہ پانچ منٹ میں پہنچتی ہے یہی معاملہ ایمبولینس اور ٹریفک ایمبولینس کا ہے، دو گاڑیاں ٹکرا جائیں تو کوئی کسی کی ماں بہن ایک نہیں کرتا، فریقین ایک لمحہ سے قبل اپنی غلطی مانتے ہیں اور نقصان کی ادائیگی کرتے ہیں، کوئی کسی کا راستہ نہیں روکتا بلکہ اسے راستہ دیتا ہے، انسان کی قدر اور اہمیت بے حد ہے، کوئی بچہ بھی زیبرا کراسنگ پر قدم رکھ دے تو ٹریفک رک جاتی ہے، یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ اپنی گاڑی کا انڈیکیٹر دیں اور اس کے بعد کوئی آپ سے پہلے گزرنے کی کوشش نہیں کرتا، پچاس فیصد اور پچیس فیصد لباس میں عورتیں عام گھومتی پھرتی ، شاپنگ کرتی نظر آتی ہیں، کوئی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ بیس سے تیس منزلہ رہائشی عمارتیں ہیں، جن میں ہر ایک میں سو سے زیادہ رہائشی اور کمرشل اپارٹمنٹ ہیں، گویا پانچسو کے قریب افراد ایک عمارت میں رہتے ہیں۔ ہر عمارت میں آپ کو گراسری، میڈیکل، گارمنٹس سٹور اور ہوٹل ضرور ملے گا، زنانہ اور مردانہ سیلون کے علاوہ درازی اور بوتیک بھی نظر آئیگی، کسی جگہ کوئی آپ کو چیختا یا کسی کے دست و گریبان ہوتا نہیں ملے گا۔
ہر ریاست میں سیکڑوں مساجد ہیں، ہر عمارت سنٹرلی ایئرکنڈیشنڈ ہے، کوئی مسجد کسی فرقے کی نہیں، ہر مسجد کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں، بغیر ڈرائیور میٹرو ٹرین فراٹے بھرتی نظر آتی ہے، دنیا کی جدید ترین کاریں اور مہنگی ایئرٹیکسی کا اجراء ہو چکا ہے، سمندر کے کنارے خوبصورتی سے آبادہیں، ساحل پر کمرشل عمارتیں اور ان کے ساتھ ساتھ تفریحی پارک نہایت خوبصورت ہیں، شاپنگ مالز میں بیک وقت ہزاروں گاڑیوں کی پارکنگ ہو سکتی ہے، تفریح گاہوں کی تعداد سیکڑوں سے زیادہ ہے، اس نمائش گاہ میں دنیا کے سوا سو ممالک کو سٹال الاٹ کئے گئے ہیں ہر ایک کا رقبہ کئی کنال ہے، ان ملکوں کے کھانے ہر قدم پر ملتے ہیں جہاں کا سٹاف آپ کو اپنے روایتی لباس میں خوش آمدید کہتا ہے۔
خلیجی ریاستوںمیں آپ کو کہیں پر کتا یا کُھسرا نہیں ملے گا، کوئی دربار کوئی خانقاہ نظر نہیں آئے گی، کسی چوک میں گاڑی روکیں تو فقیروں کا غول آپ پر حملہ آور نہیں ہو گا نہ ہی کمسن بچے آپ کی گاڑی کا شیشہ صاف کرنے کے لئے نکلیں گے، کوئی عورت چند ماہ کا بچہ اٹھائے آپ سے سوال نہیں کرے گی کہ اس کا باپ مر گیا ہے اور اب کمانے والا کوئی نہیں، پنکچر لگانے کے بہانے گاڑی کے ٹائرکو چیرا دینے والا بھی نہیں ملتا نہ کوئی ایک لیٹر کی جگہ 800 ملی لیٹر اور ایک کلو کی جگہ آٹھ سو گرام دینے والا ملے گا۔ ہر چیز کی قیمت مقرر ہے کوئی اس سے زیادہ نہیں مانگتا، خریدی ہوئی چیز تبدیل ہو سکتی ہے، سائیکل، موٹرسائیکل کار سڑک پر چھوڑ جائیں اپنی اصل حالت میں مل جائے گی۔ یہاں کوئی بلال گنج نہیں نہ ہی کوئی ریڑھی والا جو بدترین کیلا یہ کہہ کر بیچتا نظر آئے باجی یہ لے جائیں یہ چِتری والا کیلا بہترین ہے۔
چتِری والا کیلا
09:07 AM, 26 Dec, 2025