غذائی بحران کا مستقل حل امن میں ہے: پاکستان کا سلامتی کونسل پر تنازعات کے حل پر زور

غذائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی سفارت کاری، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور بروقت اقدامات ناگزیر : عاصم افتخار احمد

12:54 PM, 26 Aug, 2026

نیویارک:اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غذائی بحرانوں کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غذائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی سفارت کاری، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس 266 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شدید بھوک کے واقعات دگنے ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار 70 فیصد افراد کمزور یا تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ سمیت یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور تشدد انسانی بحران اور غذائی قلت میں اضافے کا اہم سبب بن رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے عمل کے خلاف جواب دہی یقینی بنائی جائے اور امداد کو سیاسی یا فوجی مفادات سے مشروط نہ کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ محض انسانی امداد پائیدار حل نہیں، بلکہ دیرپا غذائی تحفظ کے لیے تنازعات کا سفارت کاری، مکالمے اور پرامن طریقے سے حل ضروری ہے۔

مزیدخبریں