دنیا کی سیاست کبھی جامد نہیں رہتی۔ تعلقات بدلتے ہیں، اتحادی تبدیل ہوتے ہیں اور وقت کے دھارے میں نئے کردار ابھرتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ کے معتبر جریدے واشنگٹن ٹائمز نے حال ہی میں ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے جس میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو خطے کی ایک ابھرتی ہوئی اور بااثر شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ مضمون نہ صرف پاکستان کی عسکری قیادت کے عالمی قد کا اعتراف ہے بلکہ امریکہ کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نے عالمی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق مودی کے سخت گیر رویے، تجارتی تنازعات اور جنگی دعووں نے ٹرمپ انتظامیہ کو سخت مایوس کیا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پاکستان اور اس کی عسکری قیادت نے اپنا کردار ادا کیا۔
جنرل عاصم منیر کا کردار یہاں غیر معمولی رہا۔ بھارت کے ساتھ تنازع کے بعد جب خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے تو جنرل عاصم نے نہ صرف فتح حاصل کی بلکہ اپنی قیادت سے دنیا کو متاثر کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی اس کے لیے کس قدر ناگزیر ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں پہلی بار ایک سپہ سالار کو فیلڈ مارشل کے منصب تک ترقی دی گئی، اور یہ اعزاز جنرل عاصم کے حصے میں آیا۔ یہ ترقی محض فوجی عہدہ نہیں بلکہ ایک سیاسی و سفارتی علامت بھی تھی۔ ان کے اس مقام تک پہنچنے کے بعد پاکستان میں عوامی سطح پر ان کی مقبولیت بڑھی اور بین الاقوامی سطح پر انہیں نئی عزت اور احترام ملا۔ واشنگٹن ٹائمز نے لکھا کہ جنرل عاصم کو عالمی سطح پر ایک ایسے لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو طاقتور، باوقار اور غیر ضروری دکھاوے سے دور رہنے والا سپاہی ہے۔ ان کا پروفائل انہیں ٹرمپ جیسے لیڈرز کا فطری شراکت دار بناتا ہے، جو طاقتور مگر عملی ذہن رکھنے والے رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کافی سرد مہری کا شکار رہے۔ لیکن ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ہی یہ رجحان بدلتا نظر آ رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو بحال کیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال وہ وقت ہے جب پاکستان نے ایک بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا اور ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کا کھلے عام شکریہ ادا کیا۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی اہم معدنیات اور ابھرتی ہوئی کرپٹو کرنسی مارکیٹوں میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ یہ دلچسپی محض تجارتی نہیں بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ امریکہ پاکستان کو خطے میں ایک سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھنے لگا ہے۔ بھارت کے اندرونی حالات بھی پاکستان کے حق میں گئے۔ کشمیر کے حالیہ حملے اور اس کے بعد بھارتی فوجی آپریشن کے باوجود مودی حکومت کو عوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بڑی طاقت سمجھے جانے کے باوجود بھارت کو ایک نسبتاً چھوٹے حریف کے ہاتھوں شکست برداشت کرنا پڑی، جس نے مودی کی مقبولیت کو زوال کی طرف دھکیل دیا۔ دوسری طرف پاکستان نے سفارتی محاذ پر یہ پیغام دیا کہ وہ عالمی قوانین کے احترام کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے جنرل عاصم منیر کو عالمی سطح پر ’’قابل اعتماد فوجی لیڈر‘‘ کا مقام دلایا جبکہ مودی کو ایک غیر ذمہ دار اور ہٹ دھرم سیاستدان کے طور پر اجاگر کیا۔ مضمون میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان ایک خاص ذاتی تعلق بنتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق دونوں رہنماؤں میں کئی باتوں پر اختلاف موجود ہے، خاص طور پر چین اور افغانستان کے حوالے سے۔ لیکن اس کے باوجود، تعلقات کی سمت مثبت ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے پیچھے غالباً جنرل عاصم منیر کا وژن ہے۔ اس نامزدگی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے میں امن قائم کرنے والا ملک ہے، نہ کہ جنگ کو ہوا دینے والا۔ واشنگٹن ٹائمز کے مضمون کے مطابق جنرل عاصم منیر اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات کا مستقبل کئی عوامل پر منحصر ہو گا۔ چین، افغانستان اور روس کے حوالے سے پالیسی اختلافات موجود ہیں، مگر مجموعی رجحان یہی ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، معدنی وسائل اور علاقائی استحکام کے ذریعے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نہ صرف مضبوط کرے بلکہ ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی بھی وضع کرے۔ اس سارے منظرنامے میں جنرل عاصم منیر کا کردار فیصلہ کن ہو گا۔ جنرل عاصم منیر کے بارے میں واشنگٹن ٹائمز کا مضمون پاکستان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ اعزاز اس لیے کہ دنیا پاکستان کی عسکری قیادت کو ایک عالمی سطح پر بااثر شخصیت مان رہی ہے۔ چیلنج اس لیے کہ اب پاکستان کو اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں مزید پختگی لانا ہو گی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جنرل عاصم منیر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے مستقبل کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہ تعلقات درست سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو پاکستان خطے میں ایک سٹریٹجک پاور پلیئر کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی طاقت اور واشنگٹن ٹائمز کا تجزیہ
11:40 AM, 26 Aug, 2025