نہ جانے وہ کون تھا جس کے ذہن میں پہلی بار کالا باغ ڈیم اور موجودہ پنجاب کی تقسیم کا خیال آیا ۔میں نے کالا باغ ڈیم کاذکر 80 ء کی دہائی میںپہلی بار سنا لیکن پنجاب کی تقسیم اور موجود ہ حالات تک پہنچتے پہنچتے بھی ایک زندگی گزر گئی ۔ ہماری سیاسی جماعتیں جب اقتدار سے باہر ہوتی ہیں تو یہ دو ایشو اُن کیلئے زندگی اورموت کا مسئلہ ہوتا ہے لیکن اقتدار کے دنوں میں یہ دونوں ایشو کبھی سننے میں بھی نہیں آتے ۔بجلی کا مسئلہ پاکستان کے ہر گھر کا ہے سو کالا باغ ڈیم بارے بھی سب ہی جانتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بجلی سے حاصل ہونے والے منافع کے ساتھ پاکستان کے جو گھرانے جڑ ے ہیں وہ سارے پاکستان کے گھروں سے زیادہ طاقتور اور بااختیار ہیں ۔ کیا پاکستانی عوام منافع خوروں کے خونخوار پنجوں سے زندگی کی یہ ضرورت چھین سکتے ہیں؟ کیا کپیسٹی چارجز کے نام پر عوام سے اُس بجلی کے پیسے بھی وصول کیے جاتے رہیں گے جو وہ غریب استعما ل بھی نہیں کرتے ؟ عام آدمی کا تعلق اپنے مسائل سے ہوتا ہے او ر جو حکومت عوامی مسائل کو نظر انداز کرتی ہے اُسے ہمیشہ عوامی نفرت کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ موجودہ حالات میں ایک طرف عمران نیازی کی اعلانیہ سپاہ کھڑی ہے جو خوشی کی ہر خبر کو مہارت کے ساتھ خبرِ غم میں بدل دیتی ہے ۔ دوسری طرف علیمہ خان صاحبہ ہیں جنہوں نے افواج پاکستان کی توہین کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ جن کے مطابق فوج پاکستان کی ہے تو حسان نیازی نے جو پینٹ لہرائی تھی وہ بھی پاکستان کی ہے سو اس میں فوج کی عزت کہاں سے آ گئی ؟ یہ طرز ِ سیاست کسی پاکستان کے وفادار سیاستدان کا تو نہیں ہو سکتا ۔حالتِ جنگ میں علیمہ خان کا جتنا گھنائونا کردار بطور پاکستانی سامنے آیا اس سے کوئی محب وطن پاکستانی کسی صورت انکار نہیں کرسکتا لیکن اُس کے باوجود یہ خاتون آج تک ہر وہ کام کرنے کیلئے ادھار کھائے بیٹھی ہیں جو پاکستان کیلئے شرمندگی کاباعث بن سکے ۔یہ غداری اور بدترین غداری ہے لیکن شاید ابھی محترمہ غداری کی تعریف پر پورا نہیں اتررہیں سو آزادی کے دن گزار رہی ہیں لیکن یہ طے ہے کہ ایک دن ایسے سب کرداروں نے عوامی غضب کانشانہ ضرور بنانا ہے کہ انہیں پاکستان کو اقساط میں توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
آج پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاستدانو ں کی آنکھ میں ہے ۔ ایک وزیر خارجہ جا تا ہے تو دوسرے کی استقبالیہ تیاریاں شروع ہو جاتی ہے ۔شاید یہی وہ وقت ہے جب ہم نے ماضی کے غلط فیصلوں کو درست کرتے ہوئے اپنی سمت کا تعین کرنا ہے ۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنے روابط جتنے مرضی مضبوط کرلے کہ چین کبھی پاکستان کیلئے خطرہ نہیں لیکن امریکہ کو ہم لیاقت علی خان کی خارجہ پالیسی کے زمانے سے بھگت رہے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی وہ کبھی اچھا دوست ثابت نہیں ہو گا ۔ ریاست کو پاکستان کے اندرونی اوربیرونی دشمنوں کے سامنے اپنے اصل چہرے اور پاکستان کے مفاد میں آنا ہو گا کہ یہی ایک واحد راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو خوشگوار اور خوشبو دار ماحول فراہم کرسکتا ہے ۔بھارت کسی صورت چین سے اپنے تعلقات بہتر نہیں کرے گا کہ یہ اُس کی بقا اور علاقائی برتری کیلئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو گا اور ایسے حالات میں چین کو ہمیشہ پاکستان کی ضرورت رہے گی ۔ہمیں ان حالات کو مزید ساز گار بنانے کی ضرورت ہے لیکن یہ سب کچھ اُسی وقت ممکن ہوگا جس دن پاکستان کے اندرونی معاملات راہ راست پر آجائیں گے کہ تذبذب کی یہ صورت حال ہی حقیقت میں ریاست کیلئے زہر قاتل ہوتی ہے ۔
کے پی کے میں جاری امدادی کارروائیاں زور و شور سے جاری ہیں ۔ سیلاب گزر گیا لیکن اپنے پیچھے درد کے انگنت افسانے چھوڑ گیا۔ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی سیلاب زدگان کے درمیان موجود گی اورچیکوں کی تقسیم سے دل کو یہ سکون تو ملا کہ پختون بہن بھائیوں کے دُکھ میں وفاق برابر کا شریک ہے ۔سیلاب زدگا ن کی مدد گو کہ وقت کی ضرورت ہے لیکن کیا ہمیں یہ بات اب سوچ نہیں لینی چاہیے کہ کیاہم ہر سال اپنے بچوں ٗ بزرگوں ٗجوانوں اورخواتین کو سیلاب کی نذر کرتے رہیں گے ؟ حادثے ہو جاتے ہیں لیکن اُن کا سدباب کیا جاتا ہے ٗ حفاظتی تدابیر اختیار کیا جاتی ہیں ٗجرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت قوانین بنائے جاتے ہیں ٗ یہ ہرگز کوئی ریاستی طریقہ کار نہیں کہ ہر حادثے کے بعد مرنے والوں پر مدد کے نام پر انعامات کی بارش کرکے اُن کے زخموں کو ہرا کیا جائے ۔ جو لوگ سیلاب سے پہلے ذمہ دا ر تھے انہیں سیلاب کے بعد ذمہ دار نہ ٹھہرانا انتہائی ظلم اورزیادتی ہے ۔ہمارے ماحول کو برباد کرکے ہمیں سیلابوں اور کلا ئو ڈز برسٹ کے سپردکرنے والے ریاست کے جغرافیے میں ہی دھندناتے پھر رہے ہیں بلکہ اقتدار کے مزے بھی لے رہے ہیں لیکن کوئی طاقتور ہاتھ ابھی اُن کے گریبانوں تک نہیں پہنچا ۔ جب یہ طے ہو گیا کہ قبضہ ٗ ٹمبر اور مائننگ مافیا اس نقصان کا ذمہ دار ہے ۔ جب ملزمان کا تعین ہوچکا تو پھر اُن کی سزا کے رستے میں رکاوٹ کیا ہے ۔ یہ مقدمہ تو بھٹو قتل کیس جیسا بنتا جا رہا ہے کہ جس میں ملزمان کی شناخت کے باوجود صرف مقتول کو باعزت بری کیا جارہا ہے ۔
آئی پی پی کے صدر عبد العلیم خان کایہ کہنا کہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے سو چاروں صوبوں کو تقسیم کرکے نئے صوبے بنائیں جائیں ٗانتہائی خوش آئند ہے ۔ کیونکہ صوبوں کے حوالے سے ہم بھارت کی 29 ریاستیںاور 8 متحدہ علاقے کو دیکھ سکتے ہیں ۔ آبادی ہم روک نہیں سکتے ٗ صوبے بنانے کیلئے ہم تیار نہیں ٗ کچے کے ڈاکو ہم سے سنبھالے نہیں جارہے ٗ پکے کے ڈاکوئو ں سے کوئی پوچھ نہیں رہا تو ان حالات میں عبد العلیم خان کا یہ کہنا کہ گزشتہ 25برس میں زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں ہو ا انتہائی درست بات ہے۔ جب قانون صوبائی درالخلافہ سے آپریٹ کررہا ہو تو دور دراز کے علاقوں کا لا قانونیت کی طرف بڑھ جانا عام سے بات ہے ۔ پاکستان کی سہولتوں پر راجن پور کے عوام کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا لاہو ر میں رہنے والوں کا ۔ اب ہمیں سیاسی بیانات سے آگے نکل کر پاکستان او ر پاکستانیت کی مدد کرنا ہو گی کہ ان پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے اور ان حالات میں ہم لوگوں کو اُ ن کی ضروریات سے دور نہیں رکھ سکتے ۔ برادرم عبد العلیم خان کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زیادہ لوگو ں پر حق ِ حکمرانی قائم رکھنا ہمارے حکمرانوں کا وتیرہ بن چکا ہے جب تک یہ عوامی مطالبہ بھرپور عوامی طاقت کے ساتھ ایوانو ں سے نہیں ٹکراتا شوق ِ حکمرانی قائم و دائم رہے گا۔
عوامی مطالبات اور شوقِ حکمرانی
11:40 AM, 26 Aug, 2025