صوبے نہیں، مریم نواز کا حسن ِانتظام !

09:12 AM, 26 Aug, 2025

ان دنوں پاکستان کو کئی صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز ، فارمولے اور پلان میڈیا پر موضوع خاص کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ تاہم یہ کوئی پہلی باردھماکہ خیز سلسلہ نہیں ہے، ہوسکتا ہے پہلے بھی کسی نے یہ بات کی ہو، مگر میری ذاتی معلومات کے مطابق یہ بات 1985ء میں (ن) لیگ کے  رہنما، اور پنجاب اسمبلی کے ممبررانا پھول محمد نے مجھ سے ایک انٹرویوکے دوران کی تھی جو ماضی کے بہت بڑے اخبارمشرق کے سیاسی ایڈیشن میں شائو ہوا تھا میں نے رانا پھول محمد سے سوال کیا تھا کہ پاکستان کے سماجی ، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل کیا ہے اپنے طویل سیاسی تجربہ کی روشنی میں تجویز فرمائیں رانا صاحب نے برجستہ جواب دیا ’’ پاکستان کے ہرڈویژن کو صوبہ بنادیاجائے اور اس مجوزہ صوبے کی تمام تر تعمیر وترقی مکمل طورپر بلدیاتی اداروں کے سپرد کردی جائیِ‘‘اس پر کئی حلقوں اورشخصیات کی جانب سے منفی ومثبت دونوں انداز سے اظہار رائے کا سلسلہ چلا تھا۔ 
بہتر انتظام کی غرض سے چھوٹے انتظامی یونٹ کی تشکیل اعتراضات واختلافات کی نذر نہیں ہونی چاہئے ۔ لیکن میری ذاتی رائے میں بہترانتظام صرف چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹ کے ذریعہ ہی ممکن نہیں ہے اصل بات انتظام چلانے والوں کی صلاحیت پر ہے کثیر لاتعداد صوبوں کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کی مثال دی جاسکتی ہے امریکہ باون صوبوں یا سیٹس پر مشتمل متحدہ ریاست ہائے امریکہ یا یونائیٹڈ سیٹس آف امریکہ (USA)کہلاتا ہے یہ باون صوبے یا ریاستیں پہلے سے موجود تھے جن میں ردوبدل نہیں کی گئی جبکہ بھارت میں پہلے سے موجود صوبوں تقسیم کرکے نئے صوبے بنائے گئے مگر یہ فیصلہ بہتر انتظامات کی غرض سے چھوٹے انتظامی یونٹ بنانے کیلئے نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا جیسا کہ سکھوں کی طاقت کم کرنے کیلئے مشرقی پنجاب کو پنجاب، چندی گڑھ اور ہریانہ میں تقسیم کیا گیا۔ بہتر انتظامات کیلئے چھوٹے انتظامی یونٹ کی نفی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ پنجاب 3کروڑ 11لاکھ 88ہزار، چندی گڑھ 3کروڑ 9لاکھ 82ہزار، ہریانہ 3کروڑ 10لاکھ 57ہزار کی آبادیوں میں تقسیم کردیئے جبکہ اترپردیش 24کروڑ 17لاکھ اور مہاراشٹر کی 13کروڑ 1لاکھ آبادی کو برقراررکھا گیا ہے کیونکہ ان صوبوں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے ، دہلی صوبے کی 2کروڑ 2لاکھ 77ہزار آبادی جو میونسپل حدود میں ہے اس صوبے میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے حالانکہ غازی آباد، رام پورونھ کرساتھ ملایا جاسکتا تھا لیکن اس طرح صوبہ دہلی مسلمانوں کی مؤثر آبادی پر مشتمل ہو جاتا۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بنیاد چھوٹے یونٹ بہتر انتظام کی سوچ کو بنایا جارہا ہے لیکن یہ بہتر انتظام کی ٹھوس ضمانت نہیں، اس لیے نہیں ہے کہ ورنہ بھارت میں 24کروڑ سے زائد آبادی والا اتر پردیش شدید ترین بد انتظامی کا شکارہوتا ثابت ہوا۔ بہتر انتظام حسن انتظام سے ہے چھوٹے وبڑے انتظامی یونٹ سے نہیں ہے ، بے شمار لوگوں کا مشاہدہ ہوگاایک سلیقہ مند اور سگھڑ عورت نے بہت بڑا گھر بہت خوبی سے سنبھالا ہوا ہے اور ایک بدسلیقہ ، پھوہڑ عورت کا گھر کباڑ خانہ بنا ہوا ہے، خود اپنے پیارے پاکستان میں دیکھ لیں پنجاب کی سلیقہ شعار اور سگھڑ بیٹی نے 13کروڑ سے زائد بڑا صوبہ نہ صرف انتظامی امور کے حوالے سے بہت خوبی سے سنبھالاہوا ہے بلکہ صرف سال، سواسال میں اسے ترقی کی ان منازل تک پہنچا دیا ہے جو’’شہبازسپیڈ‘‘ کے باوجود 79سالہ تاریخ میں بے مثال ہے، میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے میرے خالہ زاد سید خالد شاہ جو سندھ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر بھی تھے ایک عیدالاضحیٰ کے موقع پر لاہور میرے گھر آئے ہوئے تھے دوسرے عزیزوں سے ملوانے کیلئے موٹرسائیکل پر گرین ٹاؤن سے راوی روڈ لے گیا وہاں پہنچ کر بڑے تعجب سے سوال کیا ’’اسرار بھائی کیا آج لاہور میں  کسی نے قربانی نہیں کی ‘‘ عرض کیا ’’استطاعت رکھنے والے ہرفرد نے قربانی کی ہے‘‘ پھر تعجب کا اظہار کیا ’’مگر اتنے طویل راستے میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔‘‘یہ بہتر انتظام کی بڑی اور سچی گواہی تھی بڑے دکھ کی بات ہے سید خالد شاہ کراچی سے اسلام آباد اپنی سسرال جاتے ہوئے بھکر کے نزدیک سڑک پر گڑھے کے باعث گاڑی الٹنے سے جاں بحق ہوگئے تھے کئی سال بعد مرحوم کے شہر کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر جگہ جگہ قربانی کے آثار دیکھے ، قلبی مسرت ہوئی کہ سنت ابراہیمیؑ کولاکھوں کی تعداد میں زندہ رکھا گیا ہے۔ 
سوال پیدا ہوتا ہے پنجاب کی بیٹی مریم نواز نے تاریخی طورپر کم ترین مدت میں 13کروڑ آبادی والے صوبہ کو حسن انتظام کا شاہکار بناکر رکھ دیا ہے تو 6کروڑ سے زائد آبادی والا سندھ اس سے کہیں کم آبادی والے خیبرپختونخواہ اور اس سے بھی کم آبادی والے بلوچستان میں ایسا کچھ کیوں نہیںہوسکتا۔ میری دیانت دارانہ رائے ہے مریم نواز کا حسن انتظام دوسرے صوبوں کیلئے ’’رول ماڈل‘‘ ہونا چاہئے نہ کہ اس کے تعمیر وترقی کے منصوبوں، عملی اقدامات، فوری ودورس اثرات رکھنے والے فیصلوںپر حاسدانہ تنقید اور بے بنیاد اختلافات کو سیاسی وطیرہ بنا لیا جائے۔ ذاتی وسیاسی مفادات پر عوامی مفاد کو ترجیح کا رویہ اپنانا چاہتے مگر ایسا نہیں ہے ایک مثال ایک روز علامہ اقبال ٹاؤن میں واقع پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کے گھر، اس موقع پر نوجوان صحافی عامر رانا بھی موجود تھے میں نے سوال کیا یہ وزیراعلیٰ نوازشریف جو کچھ کررہے ہیں اس سے پنجاب کے لوگوں کو فائدہ ہورہا ہے اس میں رکاوٹ ڈالنا یا مخالفت واعتراضات اٹھانا کیا درست ہے ایک سچے انسان کی طرح جہانگیر بدر مرحوم نے بڑی سچائی سے جواب دیا ’’فیر ساڈی واری تے پنجی سال وی نہیں آئے گی ‘‘ (پھر ہماری باری تو 25سال بھی نہیں آئے گی ) لمحات موجود میں مریم نواز کی تیز رفتار کارکردگی پر جس طرح پیپلزپارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ ، ندیم افضل چن، قمر زمان کائرہ اور دوسرے پریشان کن ردعمل کا اظہار کرتے ہیں لگتا ہے اس سے وہ شاید سمجھتے ہیں کہ پنجاب مکمل طورپر (ن) لیگ کے پلڑے میں چلا گیا تو بلاول کے وزیراعظم بننے کی باری 25سال بھی نہیں آئے گی۔ 
(ن) لیگ کے رہنما خواجہ سعدرفیق نے لاہور کے لوگوں سے کہا اپنے شہر سے نکل کر پشاور اور کراچی دیکھ کر آئیں فرق پتہ چل جائے گا 18ویں ترمیم کے بعد کوئی صوبہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اختیار اور وسائل نہیں ملے خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی مسلسل تیسری حکومت چل رہی ہے اگر خیبرپختونخواہ میں ایک ارب درخت لگائے ہوتے تو اتنی تباہی نہ ہوتی 350ڈیمز میں سے کوئی 3ڈیمز کے نام بتا دے تو مان جاؤں گا۔ نوازشریف نے اپنے دور میں کالا باغ ڈیم بنانے کی کوشش کی توانہیں سیاست کی نذر کردیا گیا۔ 
بات نئے صوبوں سے چلی تھی حضوروالا ، چھوٹے، بڑے صوبے اصل مسئلہ نہیں۔ اصل حل یہ ہے مریم نواز کے حسن انتظام کو رول ماڈل بناکر حسن انتظام  پر بھرپور توجہ دی جانی چاہئے۔  

مزیدخبریں