10 اپریل کو ٹنڈو مستی کے قریب خاتون خالدہ چانڈیو کو مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔خیرپور سندھ میں پیش آنے والا حالیہ کاروکاری کا یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں اس سچ کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جس سے ہم برسوں سے نظریں چرا رہے ہیں کہ اس سماج میں عورت کے انکار کی سزا موت ہے یا تیزاب گردی۔ رپورٹوں کے مطابق سندھ میں 4 سالوں میں 466 خواتین سمیت 595 افراد اس وحشیانہ رسم کی بھینٹ چڑھے۔صرف 2022 میں 102 واقعات میں 114 افراد اور 2025 میں 82 خواتین سمیت 110 افراد قتل ہوئے۔ہم اسے روایت کہتے ہیں، غیرت کا نام دیتے ہیں، ثقافت کی چادر میں لپیٹ دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ روایت ہے، نہ غیرت بلکہ یہ ایک منظم، سفاک اور بے حس قتل ہے جسے معاشرہ خاموشی سے قبول کرتا چلا آ رہا ہے۔اس واقعے کا ایک پہلو اور بھی ہے جو زیادہ درد ناک ہے اور وہ شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ متعلقہ عورت کی شادی چھ سال قبل ہو چکی تھی مگر وہ اس رشتے میں خوش نہیں تھی۔ وہ ایک ایسی زندگی گزار رہی تھی جس میں اس کی رضا شامل نہیں تھی۔ شاید اس نے اپنے گھر والوں کو بتانے کی کوشش کی ہو گی لیکن اس کی کسی نے نہیں سنی اور پھر اس نے وہ قدم اٹھایا جسے ہمارا معاشرہ سب سے بڑا جرم سمجھتا ہے حالانکہ مذہبی طور پر اسے اس رشتے کو ختم کرنے کا حق حاصل تھا لیکن ہمارا سماج عورت کے معاملے میں مذہبی نہیں ہے بلکہ انتہا پسند ہے جو برصغیر کے خطے میں عورت کے معاملے میں قبل از اسلام سے رائج ہے اور جسے روایت کا نام دیا گیا ہے۔خاندان اور سماج سے بغاوت کرتے ہوئے اس نے اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کی اور ایک ایسے شخص کے ساتھ چلی گئی جسے وہ اپنا سہارا سمجھ بیٹھی تھی۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ وہ فیصلہ درست تھا یا غلط بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کی سزا موت ہونی چاہیے تھی؟ کیا ایک ناکام شادی سے نکلنے کی خواہش اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کا انجام قبر ہو؟۔
اندرون سندھ میں پھیلے "کاریوں کے قبرستان" محض قصے کہانیاں نہیں بلکہ اس سماج کی ایک ایسی لرزہ خیز حقیقت ہیں جو انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ ان بدقسمت عورتوں کی آخری آرام گاہیں ہیں جنہیں محض شک، الزام یا فرسودہ روایات کی بھینٹ چڑھا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور پھر ستم ظریفی دیکھیے کہ انہیں غسل، کفن اور جنازے جیسی بنیادی مذہبی و انسانی حرمت سے بھی محروم رکھ کر کسی گمنام گڑھے میں دبا دیا گیا۔ چند سال قبل ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک مذہبی عالم ایک ایسی لڑکی کا جنازہ پڑھانے سے انکار کر رہا تھا جسے کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ گناہ کس نے کیا؟ وہ لڑکی جس نے شاید صرف جینے کی کوشش کی یا وہ لوگ جنہوں نے اسے مار ڈالا؟یہاں آکر بات صرف ایک واقعے یا ایک رسم تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ پورے معاشرے کی نفسیات کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مرد اپنی بیٹیوں کو موبائل تک دینے سے ڈرتے ہیں مگر ان کی جان لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ جہاں عورت کی آزادی سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے مگر مرد کی بے راہ روی کو خاموشی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہیں ہے بلکہ ایک سماج میں گہری جڑی ہوئی منافقت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کاروکاری جیسے جرائم کے پیچھے صرف "غیرت"نہیں ہوتی بلکہ کئی پیچیدہ نفسیاتی محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات وہی لوگ سب سے زیادہ سخت اخلاقی معیار قائم کرتے ہیں جو خود اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ جو اپنی کمزوریوں، اپنی ناکامیوں اور اپنی دبی ہوئی خواہشات کا بوجھ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے تضادات کو چھپانے کے لیے دوسروں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہی انگلی تلوار بن جاتی ہے۔یہ ایک تلخ سچ ہے کہ بعض مرد اپنی ذاتی زندگی میں جتنے بے قابو ہوتے ہیں، اتنے ہی سخت نگہبان بن کر دوسروں کی زندگیوں پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات کو چھپا کر "اخلاق"کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور پھر اسی اخلاق کے نام پر فیصلے سناتے ہیں جبکہ یہ فیصلے انصاف پر نہیں بلکہ طاقت، خوف اور دباﺅ پر مبنی ہوتے ہیں۔ مدارس سے لے کر یونیورسٹیوں تک، گلی کوچوں سے لے کر گھروں کے اندر تک ، اگر ہم ایمانداری سے دیکھیں تو ہمیں ایک ہی کہانی بار بار نظر آتی ہے۔ عورت کو کنٹرول کرنے کی خواہش، اس کی آزادی سے خوف اور اس کے وجود کو اپنی ملکیت سمجھنے کا رویہ۔ یہی وہ سوچ ہے جو کاروکاری جیسے جرم کو جنم دیتا ہے ، اسے جواز فراہم کرتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جو اسے زندہ رکھتی ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں عدم برداشت اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ ہر شخص دوسرے کے کردار کا جج بنا ہوا ہے مگر اپنے اندر جھانکنے کی ہمت کسی میں نہیں۔ ہم دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں مگر اپنے گھروں میں انصاف قائم نہیں کر پاتے۔ یہ تضاد صرف مضحکہ خیز نہیں، بلکہ خطرناک بھی ہے۔ٹنڈو مستی میں جو کچھ ہوا وہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ اسی پدرشاہی نظام کا تسلسل ہے جس میں مرد کو اختیار اور عورت کو سزا دی جاتی ہے۔ جہاں مذہبی بیانیے کو بھی اسی نظام کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے کہیں "اولادِ نرینہ" کی دعائیں، کہیں عورت کو "آدھی عقل" قرار دینے والی سوچ۔ یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں عورت کی زندگی کی قیمت آدھی نہیں، شاید اس سے بھی کم رہ جاتی ہے اور ایک لمحے کے لیے سوچیں اگر یہی اصول الٹ جائے؟ اگر عورتیں بھی "غیرت" کے نام پر مردوں کو قتل کرنا شروع کر دیں؟ اگر وہ بھی شک، الزام یا بے وفائی کی بنیاد پر فیصلے سنانے لگیں؟ کیا تب بھی ہم اسے روایت کہیں گے؟ یا پھر اسے ظلم کا نام دیں گے؟یہ سوال محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔کاروکاری کا خاتمہ صرف قانون سے ممکن نہیں ہو سکے گا جب تک سوچ کو نہیں بدلتے۔ جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ عورت ایک مکمل انسان ہے، اس کی اپنی مرضی، اپنی خواہشات اور اپنی زندگی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں مانتے کہ غیرت کا تعلق قتل سے نہیں بلکہ احترام سے ہے تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے، اور ہم صرف کالم لکھتے رہ جائیں گے۔یہ وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم روایت کے نام پر قتل کے ساتھ کھڑے ہیں یا انسانیت کے ساتھ؟۔
کارو کاری ، کب ختم ہو گا یہ سلسلہ ؟
09:02 AM, 26 Apr, 2026