بیماریوں سے بچاﺅ۔۔صرف علاج کافی نہیں

09:02 AM, 26 Apr, 2026


اس دنیا بالخصوص ہمارے ہاں پچھلے چندسالوں سے ہارٹ اٹیک، کینسر، گردوں، شوگر اور بلڈپریشرکی بیماریاں جس رفتارسے بڑھنے اورپھیلنے لگی ہیں یہ نہ صرف افسوسناک بلکہ انتہائی تشویشناک بھی ہےپہلے کہیں سومیں ایک دوافرادان بیماریوں کاشکارہوتے تھے مگراب صورتحال صرف مختلف نہیں بلکہ مکمل طورپرالٹ ہے۔اس ملک میں شوگر اور بلڈپریشرکی بیماریاں تواب اس قدرعام ہیں کہ کوئی گھر اور در ان سے محفوظ نہیں۔ آج ہر گھر اور در پر اور کچھ آپ کوملے یا نہ لیکن شوگر،گردوں،پراسٹیٹ اور بلڈپریشر کا کوئی نہ کوئی دکھیارا ضرور ملے گا۔ ایبٹ آبادمیں ہمارے بھائیوں جیسے ایک دوست ہیں ڈاکٹر عاطف حمید جو ایوب میڈیکل کمپلیکس میں شوگر سپیشلسٹ ہیں یاردوستوں اوررشتہ داروں کے چیک اپ کے سلسلے میں اکثران سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں شوگربیماری ضرورہے پریہ کوئی قاتل نہیں۔اس بیماری کودشمن اورقاتل ہم نے خود بنایا ہو اہے۔مستقل علاج کے ساتھ پابندی کے ساتھ اگرشوگروالی اشیا سے پرہیز کی جائے توشوگرانسان کوکچھ نہیں کہتا۔معاملات تب خراب اورمسائل تب جنم لیتے ہیں جب شوگر کا مریض نہ مستقل علاج کرتا ہے اورنہ ہی پابندی کے ساتھ احتیاط اور پرہیز کرتاہے۔ ہمارے خاندان میں ایک دوایسے افراد ہیں شوگرنے جن کاجیناحرام کر رکھا ہے۔ ایک بارہم پیارے بھائی ڈاکٹرامین آفریدی جوگردوں سے متعلق امراض کے ماہرہیںکے پاس بیٹھے تھے کہ باتوں 
باتوں میں مریضوں کے علاج اوربیماریوں کاذکرہونے لگاتوڈاکٹرامین آفریدی کہنے لگے کہ ہمارے لوگوں کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں اپنی صحت، جان اورزندگی کا خیال اس وقت آتاہے جب مسئلہ حدسے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ بلڈپریشر کی گولی ان کوصرف اس وقت یاد آتی ہے جب ان کا سردرد سے پھٹنے لگتا ہے۔ شوگر کی دوائی بھی ان کواس وقت یادآتی ہے جب ان کاشوگرہائی یا لو ہو۔ گردوں کے علاج کے لئے یہ تب آتے ہیں جب بیماری نے اپناکام تمام کرلیاہوتاہے۔ہم نے شوگرکے ایسے کئی مریض دیکھے ہیں جوایک طرف شوگرکی وجہ سے تڑپ رہے ہوتے ہیں اوردوسری طرف پرہیزکااس طرح ستیاناس کررہے ہوتے ہیںکہ میٹھی چائے کے ساتھ چاول اورگلاب جامن کے ذائقے اڑاتے پھرتے ہیں۔ ہمارے گاو¿ں کی ایک بزرگ خاتون ایک بار ہمارے ہاں ایبٹ آباد میں ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے آئیں، ڈاکٹر نے ضروری ٹیسٹ کرانے کے بعددوائیاں لکھیں اورسختی سے ہدایت کی کہ ماں جی چاول، میٹھا اور تلی ہوئی چیزیں بالکل استعمال نہیں کرنی۔ وہ خاتون کلینک سے جونہی باہرنکلیں توکہنے لگیں یہ ڈاکٹرپاگل لگ رہا ہے۔ چاول، میٹھا اور روسٹ سے بھی کوئی بیمار ہوتا ہے۔ جو ڈاکٹر پرہیز پرزیادہ زوردیتاہے وہ اس خاتون کی طرح ہمیں پاگل لگتا ہے۔ ہم میں سے ہر بندہ چاہتا ہے کہ دوائی کھانے اورپرہیزوالایہ کام بھی ہماری جگہ پر یہ ڈاکٹر خود کریں۔ مانا کہ شوگر،بلڈپریشر،کڈنی اور ہارٹ جیسے امراض قابل علاج ہیں مگر قابل علاج کاہرگزیہ مطلب نہیں کہ بندہ دوائیاں نہ کھانے اورانسولین نہ لگانے کے ساتھ پرہیز کو بھی بڑے سے شاپر اور صندوق میں بند کر دیں۔ تیز نمک،تلی ہوئی اشیائ،چاول اورمیٹھاکھانے اور چائے، سیگریٹ وکولڈ ڈرنک پینے سے عام آدمی کاکچھ نہیں ہوتا ہو گا لیکن شوگر، بلڈپریشر، گردوں اور ہارٹ کے گناہ گاروں کا بیڑہ غرق ہوجاتاہے کیونکہ تمام تر کوششوں کے باوجود جب شوگر اور بلڈپریشر کنٹرول نہیں ہوتا تو پھریہ جسم کے ساتھ وہ کام کرتا ہے جوہماری سوچ سے بھی باہرہے۔مستقل علاج اور پرہیز ہو تو نظام چلتارہتاہے لیکن ان چھوٹی موٹی بیماریوں سے اگر علاج اورپرہیزمیں نظریں چرا دی جائیں تویہ پھرزندگی بھرکاروگ بن جایا کرتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان موذی ا مراض کی تباہ کاریوں اورتباہی سے بچنے کےلئے علاج کے ساتھ پرہیزکوبھی اپنے اوپرفرض ولازم کر لیا جائے۔ یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دوائیاں کھانے کے بعدمریض جومرضی کھائیں اورپئیں کچھ نہیں ہوتا۔کیوں نہیں ہوتا، بہت کچھ ہوتاہے۔ علاج اور پرہیزلازم وملزوم ہیں۔ آپ دیکھیں جولوگ علاج کے ساتھ پرہیز نہیں کرتے وہ پھردوسرے دن نئے ڈاکٹر ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔اس لئے روزنئے نئے ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگنے اورخوارہونے سے بہتر ہے کہ علاج کے ساتھ پرہیز والانسخہ بھی استعمال کیا جائے تاکہ ہر دوسرے دن ہسپتالوں اورکلینک کے چکرلگانے نہ پڑیں۔ 

مزیدخبریں