پہلگام: کشمیر کے پہلگام علاقے میں مسلمانوں کی اراضی پر قبضے کے حوالے سے نئی حقیقت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی حکومت کے تحت ایک فالس فلیگ آپریشن کو مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلگام میں سرکاری انتظامیہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے تحت "انسداد تجاوزات مہم" کے نام پر مسلمان مالکان کی دکانوں اور مکانات کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائیاں خاص طور پر ان علاقوں میں ہو رہی ہیں جہاں مسلمان صدیوں سے آباد ہیں۔
ذرائع کے مطابق، 2023 میں کشمیری رہنما قاضی یاسر کے شاپنگ کمپلیکس کو مسمار کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد مختلف علاقوں میں مسلمان مالکان کی اراضی پر غیر قانونی قبضے کا عمل تیز ہو گیا۔ مودی سرکار نے اس قبضے کی بنیاد "ریاستی مفاد" پر رکھی ہے، جس کے تحت زمین کو 40 سال کی مدت کے لیے لیز پر دیا جا رہا ہے، جبکہ پہلے یہ مدت 99 سال تھی۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مودی حکومت نے پہلگام کے دیہی علاقوں میں یہ مہم چلائی ہے جس سے گوجر اور بکروال اقلیتوں کی رہائش گاہوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان اقلیتی گروپوں کی زمینیں ضبط کر لی گئی ہیں، جن میں 110 کنال جنگلاتی اراضی شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ ہیں اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ ان کے مطابق، فالس فلیگ آپریشن کا مقصد مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا اور علاقے کی جغرافیائی حالت کو بدلنا ہے۔
ان تمام واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی سرکار کے اقدامات کشمیری مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور ان کی جائیدادوں کو ہتھیانے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔